حوثی باغی اور ان کا فرقہ زیدیہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آج جب یمن کا نام آتا ہے تو ذہن میں فوراً حوثی باغیوں، میزائل حملوں، بحیرۂ احمر اور سعودی عرب و ایران کے درمیان جاری علاقائی کشمکش کی تصویر ابھرتی ہے۔ لیکن حوثیوں کی کہانی صرف موجودہ جنگ سے شروع نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے یمن کی ایک بہت طویل مذہبی، سیاسی، قبائلی اور عسکری تاریخ موجود ہے، جس کی جڑیں ایک ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہیں۔ حوثیوں کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ زیدیہ کیا ہے، یہ یمن میں کیسے پہنچی اور کس طرح صدیوں تک وہاں ایک سیاسی طاقت بھی بنی رہی۔
زیدیہ شیعہ اسلام کی ایک قدیم شاخ ہے، جس کا نام زید بن علی کے نام سے نکلا۔ زید بن علی امام حسین کے پوتے اور علی زین العابدین کے بیٹے تھے۔ تقریباً 695 میں پیدا ہونے والے زید نے اموی حکومت کے خلاف قیام کیا اور 740 میں کوفہ میں خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے خلاف جنگ لڑی۔ کوفہ کے بہت سے لوگوں نے ابتدا میں ان کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا، لیکن جب فیصلہ کن وقت آیا تو بڑی تعداد میں لوگ پیچھے ہٹ گئے اور زید بن علی اپنے نسبتاً کم ساتھیوں کے ساتھ لڑتے ہوئے مارے گئے۔
زید کی شہادت نے ان کے پیروکاروں کے درمیان ایک ایسی مذہبی و سیاسی روایت کو مضبوط کیا جس میں اہلِ بیت سے وابستگی کے ساتھ ظلم کے خلاف قیام کو بھی بڑی اہمیت حاصل تھی۔ بعد میں یہی روایت زیدیہ کے نام سے جانی گئی۔ یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ زیدی تصورِ امامت محض باپ سے بیٹے کو منتقل ہونے والی موروثی بادشاہت نہیں تھا۔ اصولی طور پر حسن یا حسین کی نسل سے تعلق رکھنے والا ایسا شخص جو علم، تقویٰ، قیادت اور ظلم کے خلاف عملی قیام کی صلاحیت رکھتا ہو، امامت کا دعویٰ کر سکتا تھا۔
اسی وجہ سے زیدی تاریخ میں ایک ہی زمانے میں مختلف علاقوں میں ایک سے زیادہ مدعیانِ امامت بھی سامنے آتے رہے۔ بعد کے زمانوں میں بعض زیدی ریاستیں عملی طور پر خاندانی اور موروثی شکل اختیار کر گئیں، لیکن زیدی نظریے کی ابتدائی بنیاد صرف موروثی بادشاہت پر قائم نہیں تھی۔ یہی فرق زیدیہ کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ بعد میں یمن میں قائم ہونے والی زیدی امامت اسی مذہبی تصور سے نکل کر ایک طویل سیاسی نظام میں تبدیل ہوئی۔
زید بن علی کی تحریک کا اصل مرکز عراق تھا، لیکن آنے والی صدیوں میں زیدی علماء اور اہلِ بیت سے تعلق رکھنے والے خاندان عرب کے دوسرے علاقوں میں بھی پھیل گئے۔ آخرکار یمن اس روایت کا سب سے اہم مرکز بن گیا۔ اس تبدیلی میں یحییٰ بن حسین کا کردار بنیادی تھا، جنہیں بعد میں الہادی الی الحق کہا گیا۔ وہ زید بن علی کے براہِ راست بیٹے یا پوتے نہیں تھے بلکہ حسن کی نسل کی ایک دوسری شاخ سے تعلق رکھتے تھے اور قاسم الرسی کی علمی روایت سے متاثر تھے۔
859 میں پیدا ہونے والے یحییٰ بن حسین کو شمالی یمن کے قبائل نے اپنے درمیان آنے کی دعوت دی۔ 897 میں وہ صعدہ پہنچے اور وہاں اپنی امامت کا اعلان کیا۔ یہ واقعہ یمن کی زیدی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا، کیونکہ صعدہ اور اس کے آس پاس کے پہاڑی علاقوں میں ایک ایسا سیاسی و مذہبی نظام قائم ہونا شروع ہوا جس نے مختلف شکلوں میں تقریباً ایک ہزار سال تک یمن کی سیاست کو متاثر کیا۔ 911 میں یحییٰ بن حسین کی وفات کے باوجود ان کی قائم کردہ روایت ختم نہیں ہوئی بلکہ ان کے خاندان اور دوسرے علوی خاندانوں کے ائمہ آتے رہے۔
اس زمانے کا یمن آج کی طرح ایک متحد ملک نہیں تھا۔ شمالی پہاڑی علاقوں میں زیدی ائمہ کا اثر تھا، جبکہ صنعاء، تہامہ، عدن اور حضرموت مختلف ادوار میں مختلف خاندانوں اور مقامی حکمرانوں کے زیرِ اقتدار رہے۔ یمن کا جغرافیہ بھی اس تقسیم کی بڑی وجہ تھا۔ شمال کے دشوار گزار پہاڑ، مغرب کے ساحلی میدان اور جنوب کی بندرگاہیں ایک دوسرے سے بہت مختلف سیاسی اور معاشی دنیا رکھتی تھیں۔
بحیرۂ احمر کے ذریعے یمن کا تعلق حجاز اور مصر سے تھا، جبکہ عدن بحرِ ہند کی تجارت کے لیے انتہائی اہم بندرگاہ بن چکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ یمن کی اہمیت صرف مقامی سیاست تک محدود نہیں تھی۔ جو طاقت یمن کے بڑے حصے پر قابض ہوتی، اسے بحیرۂ احمر اور بحرِ ہند کے درمیان ایک اہم تجارتی راستے پر بھی اثر حاصل ہو جاتا۔
اگلی کئی صدیوں میں یمن میں سلیحی، ایوبی، رسولی اور دوسرے حکمران خاندان آتے جاتے رہے، جبکہ زیدی ائمہ شمالی پہاڑوں میں اپنی سیاسی اور مذہبی موجودگی برقرار رکھتے رہے۔ 11ویں صدی میں سلیحی طاقت ابھری اور ملکہ اَروٰی بنت احمد کے دور میں اسماعیلی سلیحی اقتدار نے یمن کے بڑے حصوں پر اثر قائم کیا۔ زیدی طاقت کو کئی علاقوں میں پیچھے ہٹنا پڑا، لیکن شمالی پہاڑی علاقوں میں اس کی بنیاد مکمل طور پر ختم نہ ہوئی۔
12ویں صدی میں احمد بن سلیمان، المعروف المتوکل، نے زیدی سیاسی طاقت کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کی۔ اسی دوران 1174 میں صلاح الدین ایوبی کے بھائی توران شاہ یمن میں داخل ہوئے اور ایوبی اقتدار نے صنعاء سمیت یمن کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا۔ بعد میں رسولی خاندان نے بھی یمن کے وسیع علاقے پر حکومت کی، لیکن زیدی ائمہ شمالی پہاڑوں میں موجود رہے اور وقتاً فوقتاً دوبارہ سیاسی طاقت حاصل کرتے رہے۔
1197 میں عبداللہ بن حمزہ نے امامت کا دعویٰ کیا اور المنصور باللہ کے نام سے معروف ہوئے۔ وہ ایک اہم زیدی عالم بھی تھے اور سیاسی و عسکری رہنما بھی۔ ان کے دور میں شمالی یمن میں زیدی اقتدار کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش ہوئی۔ اس پورے دور میں مذہبی قیادت، قبائلی طاقت اور سیاسی اقتدار ایک دوسرے سے الگ نہیں تھے، بلکہ یمن کی سیاست انہی تین قوتوں کے درمیان توازن اور کشمکش سے تشکیل پاتی رہی۔
16ویں صدی میں یمن کی تاریخ میں ایک بہت بڑی طاقت داخل ہوئی۔ 1517 میں عثمانی سلطان سلیم اول نے مملوک سلطنت کو شکست دی، مصر اور شام عثمانی اقتدار میں آگئے اور حجاز بھی عثمانی سلطنت کے زیرِ اثر چلا گیا۔ مکہ اور مدینہ میں مقامی شریف خاندان اپنی اہمیت برقرار رکھتے تھے، لیکن حجاز کا سیاسی اور عسکری تحفظ اب عثمانی سلطنت کی ذمہ داری بن چکا تھا۔
عثمانی سلطنت بحیرۂ احمر میں اپنی طاقت بڑھا رہی تھی اور 1538 میں عثمانی فوج یمن میں داخل ہوئی۔ عدن، زبید اور تہامہ کے کئی علاقوں پر عثمانی اثر قائم ہوا اور بعد میں صنعاء بھی عثمانی قبضے میں آگیا۔ اس وقت عثمانی سلطنت کی باگ ڈور سلطان سلیمان قانونی کے ہاتھ میں تھی اور سلطنت تین براعظموں تک پھیل چکی تھی۔ لیکن شمالی یمن کے دشوار گزار پہاڑ عثمانیوں کے لیے کبھی آسان میدان ثابت نہ ہوئے۔
مقامی قبائل اور زیدی قیادت نے عثمانیوں کے خلاف مسلسل مزاحمت جاری رکھی۔ 1598 میں قاسم بن محمد نے شمالی یمن میں عثمانیوں کے خلاف امامت کا اعلان کیا۔ ان کے بعد ان کے بیٹے محمد المؤید نے اس مزاحمت کو مزید منظم کیا اور کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد زیدی قوت عثمانیوں کو یمن سے نکالنے میں کامیاب ہوگئی۔
1636 تک عثمانی اقتدار یمن سے بڑی حد تک ختم ہو چکا تھا۔ قاسمی خاندان نے اس کے بعد ایک وسیع زیدی ریاست قائم کی، جس میں صنعاء، شمالی پہاڑ، وسطی علاقوں اور ساحلی خطوں کے بڑے حصے شامل تھے۔ یہ زیدی تاریخ کا ایک طاقتور ترین دور تھا، لیکن اسی دور میں ایک اہم تبدیلی بھی سامنے آئی۔ جس امامت کے نظریے میں اہل شخص کے قیام اور اہلیت کو بنیادی حیثیت حاصل تھی، عملی سیاست میں قاسمی اقتدار رفتہ رفتہ ایک خاندانی اور موروثی نظام کی شکل اختیار کرنے لگا۔
18ویں اور 19ویں صدی میں قاسمی ریاست کی مرکزی طاقت کمزور ہونے لگی۔ مختلف مقامی طاقتیں مضبوط ہوئیں اور یمن دوبارہ متعدد سیاسی مراکز میں تقسیم ہونے لگا۔ اسی دوران یورپی طاقتیں عرب کے اس حصے میں براہِ راست داخل ہو گئیں۔ 1839 میں برطانوی سلطنت نے عدن پر قبضہ کر لیا اور اسے ہندوستان، بحیرۂ احمر اور بحرِ ہند کے درمیان ایک اہم بحری مرکز بنا لیا۔
دوسری طرف عثمانی سلطنت نے یمن پر دوبارہ قبضے کی کوشش کی اور 1872 میں عثمانی فوج نے صنعاء پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اس وقت عثمانی سلطان عبدالعزیز تھا۔ حجاز میں مکہ اور مدینہ عثمانی اقتدار کے دائرے میں تھے، عدن برطانوی قبضے میں تھا، جبکہ شمالی یمن کے پہاڑوں میں زیدی مزاحمت دوبارہ شدت اختیار کر رہی تھی۔ یوں یمن ایک مرتبہ پھر عثمانیوں، برطانوی طاقت، مقامی قبائل اور زیدی قیادت کے درمیان کشمکش کا میدان بن گیا۔
19ویں صدی کے آخری برسوں میں محمد بن یحییٰ حمید الدین عثمانیوں کے خلاف زیدی مزاحمت کے اہم رہنما بنے۔ ان کے انتقال کے بعد 1904 میں ان کے بیٹے یحییٰ حمید الدین نے قیادت سنبھالی۔ یحییٰ نے عثمانیوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھی اور بالآخر 1911 کے معاہدۂ دعان کے بعد عثمانیوں نے شمالی یمن میں انہیں وسیع داخلی اختیار تسلیم کیا۔
پھر پہلی عالمی جنگ نے پورے خطے کا سیاسی نقشہ بدل دیا۔ 1918 میں عثمانی سلطنت جنگ میں شکست کے بعد یمن سے نکل گئی اور امام یحییٰ نے صنعاء پر قبضہ کرکے شمالی یمن میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ اس طرح زیدی امامت ایک مرتبہ پھر ایک باقاعدہ ریاستی اقتدار کی شکل میں سامنے آئی، جبکہ جنوب میں عدن اور اس کے اردگرد برطانوی اقتدار برقرار رہا۔
اسی زمانے میں حجاز میں بھی ایک بڑی تبدیلی آ رہی تھی۔ 1925 میں عبدالعزیز آل سعود نے حجاز پر قبضہ کر لیا اور 1932 میں سعودی عرب کا قیام عمل میں آیا۔ یوں امام یحییٰ کے شمالی یمن کے مقابلے میں شمال میں نئی سعودی ریاست، جنوب میں برطانوی اقتدار اور درمیان میں ایک آزاد زیدی یمنی ریاست موجود تھی۔
امام یحییٰ نے تقریباً تین دہائیوں تک شمالی یمن پر حکومت کی۔ ان کی حکومت مذہبی روایت، قبائلی اتحاد اور مرکزی اقتدار کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتی رہی، لیکن وقت کے ساتھ حکومت کے خلاف اندرونی ناراضی بھی بڑھنے لگی۔ جدید تعلیم، سیاسی اصلاحات اور ریاست کے انتظامی طریقۂ کار پر مختلف طبقات میں اختلافات پیدا ہوئے۔
1948 میں امام یحییٰ ایک بغاوت کے دوران قتل کر دیے گئے۔ ان کے بیٹے احمد بن یحییٰ حمید الدین نے اقتدار سنبھالا۔ 1955 میں احمد کے خلاف ایک فوجی بغاوت ہوئی، لیکن وہ ناکام رہی اور امام احمد دوبارہ اقتدار پر قابض ہوگئے۔ اس کے باوجود یمن کے اندر سیاسی تبدیلی کی خواہش ختم نہیں ہوئی۔
1962 میں امام احمد کا انتقال ہوا اور ان کے بیٹے محمد البدر امام بنے، لیکن ان کی امامت چند ہی دن قائم رہ سکی۔ 26 ستمبر 1962 کو فوجی افسران نے بغاوت کی اور یمن عرب جمہوریہ کے قیام کا اعلان کر دیا۔ محمد البدر شمالی پہاڑوں کی طرف نکل گئے اور وہاں سے شاہی حکومت کی بحالی کے لیے مزاحمت شروع کردی۔
یوں یمن ایک طویل خانہ جنگی میں داخل ہوگیا۔ اس جنگ میں صرف یمنی گروہ شامل نہیں تھے بلکہ مصر نے جمہوری حکومت کی حمایت کی، جبکہ سعودی عرب نے شاہی حامی قوتوں کی مدد کی۔ یمن دراصل عرب دنیا کی بڑی علاقائی کشمکش کا ایک میدان بن گیا، جہاں مقامی سیاسی اختلافات کے ساتھ عرب قوم پرستی، بادشاہت اور جمہوریت کے تصورات بھی ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔
آخرکار 1970 میں ایک سیاسی سمجھوتے کے ذریعے جنگ ختم ہوئی اور یمن عرب جمہوریہ کا نظام برقرار رہا۔ زیدی امامت کی تقریباً ایک ہزار سالہ سیاسی روایت اپنے ریاستی اختتام تک پہنچ چکی تھی، لیکن اس کا مذہبی، سماجی اور قبائلی اثر ختم نہیں ہوا۔ شمالی یمن کے معاشرے میں زیدی شناخت بدستور موجود رہی۔
1990 میں شمالی اور جنوبی یمن متحد ہوئے اور جمہوریہ یمن وجود میں آئی۔ لیکن اتحاد کے باوجود شمالی علاقوں کی تاریخی، مذہبی اور قبائلی شناختیں ختم نہیں ہوئیں۔ 1990 کی دہائی میں صعدہ اور شمالی یمن میں زیدی مذہبی شناخت کی تجدید کے لیے نوجوانوں کی ایک تحریک سامنے آئی جسے الشباب المؤمن کہا گیا۔
ابتدا میں اس تحریک کا مقصد مذہبی تعلیم اور زیدی شناخت کی تجدید تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ تحریک حکومت کی پالیسیوں، امریکی اثر و رسوخ، اسرائیل کے بارے میں حکومت کے رویے اور شمالی یمن کی سیاسی محرومیوں کے خلاف زیادہ سیاسی ہوتی گئی۔ اسی ماحول سے حسین بدرالدین الحوثی ابھرے، جنہوں نے حکومت کے خلاف سخت سیاسی اور مذہبی تنقید شروع کی۔
2004 میں یمنی حکومت نے حسین الحوثی کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی۔ لڑائی شدید ہوئی اور اسی سال حسین الحوثی مارے گئے۔ ان کے بعد ان کے بھائی عبدالملک الحوثی نے تحریک کی قیادت سنبھالی اور حوثی تحریک نے رفتہ رفتہ زیادہ منظم سیاسی اور عسکری شکل اختیار کرلی۔
2004 سے 2010 تک حکومت اور حوثیوں کے درمیان چھ بڑی جنگیں ہوئیں۔ ان جنگوں نے حوثیوں کو ایک مقامی مذہبی و سیاسی گروہ سے ایک منظم عسکری قوت میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2011 میں عرب دنیا میں اٹھنے والی بغاوتوں کی لہر یمن تک پہنچی، صدر علی عبداللہ صالح اقتدار سے الگ ہوئے اور ملک ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہوا، لیکن سیاسی منتقلی بنیادی مسائل حل نہ کر سکی۔
2014 میں حوثی جنگجوؤں نے شمالی علاقوں سے آگے بڑھتے ہوئے صنعاء پر قبضہ کر لیا اور 21 ستمبر 2014 کو دارالحکومت ان کے کنٹرول میں آگیا۔ علی عبداللہ صالح، جو کبھی حوثیوں کے خلاف جنگ کر چکے تھے، بعد میں عارضی طور پر انہی کے ساتھ اتحاد میں آگئے، لیکن یہ اتحاد زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔
2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک علاقائی فوجی اتحاد یمن کی جنگ میں براہِ راست داخل ہوا۔ اس کے بعد یمن کا تنازع ایک داخلی جنگ سے بڑھ کر علاقائی طاقتوں کی کشمکش بھی بن گیا۔ ایران اور حوثیوں کے تعلقات بھی اسی دور میں زیادہ نمایاں ہوئے اور حوثیوں کو ایرانی حمایت حاصل ہونے کے شواہد سامنے آئے، لیکن یہ بات تاریخی طور پر اہم ہے کہ حوثی تحریک ایران کے ساتھ اس علاقائی تعلق کے نمایاں ہونے سے پہلے ہی یمن کے اندر ایک مقامی زیدی احیائی اور سیاسی ماحول سے وجود میں آ چکی تھی۔
2017 میں حوثیوں اور علی عبداللہ صالح کے درمیان اختلاف کھل کر سامنے آگیا۔ دونوں طرف سے لڑائی ہوئی اور علی عبداللہ صالح مارے گئے۔ اس کے بعد حوثیوں نے شمالی یمن میں اپنی سیاسی اور عسکری گرفت مزید مضبوط کرلی، جبکہ یمن کا تنازع مزید پیچیدہ ہوتا گیا اور لاکھوں عام شہری اس جنگ کے اثرات کا شکار ہوئے۔
یہاں آکر ایک بنیادی فرق دوبارہ سمجھنا ضروری ہے۔ حوثی تحریک کی تاریخی جڑیں زیدیہ میں ضرور ہیں، لیکن آج کے حوثی قدیم زیدی ائمہ کا سادہ تسلسل نہیں ہیں۔ ان کی سیاسی تنظیم، عسکری ساخت، موجودہ نظریاتی بیانیہ اور علاقائی تعلقات جدید دور کی پیداوار ہیں۔
زیدیہ ایک قدیم مذہبی روایت ہے جس نے یمن کی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔ زیدی امامت اس روایت کی ایک طویل سیاسی شکل تھی، جو 897 سے 1962 تک مختلف ادوار اور مختلف خاندانوں کے ذریعے یمن کے شمالی علاقوں میں اقتدار کی مختلف شکلوں میں موجود رہی۔ اس کے برعکس حوثی ایک جدید سیاسی اور عسکری تحریک ہیں جو 1990 کی دہائی کے زیدی احیائی ماحول سے ابھری اور 2000 کی دہائی میں جنگوں کے ذریعے ایک طاقتور مسلح قوت بن گئی۔
اس لیے ہر زیدی کو حوثی سمجھنا درست نہیں، اور حوثیوں کو سمجھنے کے لیے صرف زیدیہ کا نام کافی نہیں۔ ان کی موجودہ حیثیت کو سمجھنے کے لیے یمن کے قبائلی نظام، زیدی مذہبی تاریخ، 1962 کے انقلاب، شمالی و جنوبی یمن کے اختلافات، 1990 کے اتحاد، 2004 کی جنگوں اور بعد کی علاقائی طاقتوں کی مداخلت، سب کو ایک ساتھ دیکھنا پڑتا ہے۔
اور شاید یہی یمن کی اس پوری تاریخ کا سب سے اہم سبق ہے کہ آج کے حوثیوں کو سمجھنے کے لیے صرف آج کی جنگ دیکھنا کافی نہیں۔ اس کے پیچھے زید بن علی کی 740 کی بغاوت سے شروع ہونے والی ایک طویل تاریخ ہے، جو صعدہ کے پہاڑوں، زیدی ائمہ، عثمانیوں کے خلاف جنگ، قاسمی ریاست، امام یحییٰ کی حکومت، 1962 کے انقلاب اور بالآخر جدید حوثی تحریک تک پہنچتی ہے۔
محسن علی
21 ستمبر 2026ء
—–
#mohsiiinaliii #east2blue #Houthi #HouthiRebels
![]()

