Daily Roshni News

خدائی حکمت۔۔۔انتخاب ۔۔۔  میاں عاصم محمود

خدائی حکمت

انتخاب ۔۔۔  میاں عاصم محمود

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔خدائی حکمت۔۔۔انتخاب ۔۔۔  میاں عاصم محمود)ایک دن جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے سامنے وعظ فرما رہے تھے، تو کسی شخص نے ان سے سوال کیا کہ کیا روئے زمین پر آپ سے زیادہ جاننے والا بھی کوئی موجود ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے علم کی حد تک جواب دیا کہ ایسا کوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی اور ان پر ہلکی سی ناراضگی ظاہر کی کیونکہ حقیقی اور مکمل علم صرف اللہ کی ذات کے پاس ہے، اور انسان کو جو بھی علم ملتا ہے وہ محض اللہ کا کرم ہوتا ہے جس پر کوئی بھی غرور نہیں کر سکتا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب وحی نازل کی کہ ہمارے بندوں میں سے ایک خاص بندہ مجمع البحرین یعنی دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پر موجود ہے، جسے ہم نے اپنی خاص رحمت اور علم لدنی سے نوازا ہے۔ یہ جان کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوئی حیل و حجت نہیں کی، بلکہ فوراً اس علم والے بندے سے ملاقات کی غرض سے ایک طویل سفر کا پختہ ارادہ کر لیا اور فرمایا، لَا أَبْرَحُ حَتَّىٰ أَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًا۔ اس کا ترجمہ ہے کہ میں چلنے سے باز نہیں آؤں گا جب تک کہ دو دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں، یا پھر سالہا سال اسی طرح چلتا رہوں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے ایک نوجوان ساتھی کو ہمراہ لے کر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے، اور انہوں نے نشانی کے طور پر ایک مچھلی بھی اپنے ساتھ رکھ لی۔ سفر کے بیچ جب وہ ایک چٹان کے قریب رکے تو ایک حیران کن ماجرا پیش آیا۔ اس مچھلی نے معجزانہ طور پر سمندر کے اندر اپنا راستہ بنا لیا، مگر ان کا نوجوان ساتھی یہ عجیب واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتانا بھول گیا۔ جب وہ دونوں اس مقام سے کافی آگے نکل گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تھک کر کھانے کا تقاضا کیا، تب اس نوجوان کو پچھلا واقعہ یاد آیا اور اس نے عرض کی، أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ۔ جس کا مطلب ہے، کیا آپ نے دیکھا، جب ہم نے چٹان کے پاس پناہ لی تھی تو میں مچھلی کو بھول گیا، اور مجھے شیطان ہی نے اسے یاد رکھنے سے بھلا دیا۔ یہ سنتے ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام سمجھ گئے کہ دراصل یہی وہ نشانی تھی جس کی انہیں تلاش تھی، لہذا وہ اپنے ساتھی کے ہمراہ اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے اسی چٹان تک واپس پہنچ گئے۔

اس مقام پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات اس نیک ہستی سے ہوئی جن پر اللہ کی خاص رحمت اور علم کا سایہ تھا۔ آپ نے انہیں سلام پیش کیا اور خواہش ظاہر کی کہ وہ انہیں اپنے ساتھ رہنے کا موقع دیں تاکہ جو خاص علم اللہ نے انہیں عطا کیا ہے، وہ اس میں سے کچھ سیکھ سکیں۔ اس نیک بندے نے جواب دیا، إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا۔ یعنی یقیناً آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکیں گے، اور آپ اس بات پر کیسے صبر کریں گے جس کی حقیقت کا آپ کو علم نہیں؟ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کمال ادب اور عزم کے ساتھ فرمایا، سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ اس نیک بندے نے یہ شرط عائد کی کہ سفر کے دوران آپ مجھ سے کسی بھی چیز کی بابت کوئی سوال نہیں کریں گے جب تک کہ میں خود اس کی حقیقت بیان نہ کر دوں، جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام راضی ہو گئے۔

یہ دونوں شخصیات سفر پر روانہ ہوئیں اور راستے میں کچھ غریب ملاحوں کی ایک کشتی میں سوار ہو گئیں۔ ان غریبوں نے ان کی بڑی تکریم کی اور کوئی کرایہ لیے بغیر انہیں اپنی کشتی میں بٹھا لیا، مگر اس نیک بندے نے حیرت انگیز طور پر کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ نکال کر اس میں سوراخ کر دیا۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے رہا نہ گیا اور انہوں نے ناگواری کے عالم میں پوچھا، أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا۔ کیا آپ نے اسے پھاڑ دیا تاکہ اس کے سواروں کو غرق کر دیں؟ یقیناً آپ نے ایک بہت خطرناک کام کیا ہے۔ ان کے ہم سفر نے فوراً شرط یاد دلاتے ہوئے کہا، أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکیں گے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی اس جلد بازی پر معافی مانگی اور درخواست کی کہ ان کے معاملے میں سختی سے کام نہ لیا جائے۔

کشتی کے سفر کے بعد جب وہ خشکی پر چلنے لگے تو راستے میں ایک لڑکا ملا، جسے اس نیک بندے نے جان سے مار دیا۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سخت صدمہ ہوا اور انہوں نے شدت سے اعتراض کرتے ہوئے کہا، أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُّكْرًا۔ کیا آپ نے ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے قصاص کے بغیر مار ڈالا؟ یقیناً آپ نے بہت ہی برا کام کیا ہے۔ تب اس بندے نے وارننگ دی کہ اگر اب کی بار آپ نے کوئی سوال کیا تو ہمارے راستے الگ ہو جائیں گے۔ اس تنبیہ کے بعد دونوں پھر سے چل پڑے اور ایک بستی میں جا پہنچے۔ انہوں نے وہاں کے لوگوں سے کھانے پینے کی درخواست کی، لیکن اہل بستی نے ان کی میزبانی سے صاف انکار کر دیا۔ اسی بستی کے اندر انہیں ایک خستہ حال دیوار نظر آئی جو گرنے ہی والی تھی، تو اس نیک بندے نے بغیر کسی معاوضے کے اس دیوار کو اپنے ہاتھوں سے مرمت کر کے سیدھا کر دیا۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کہہ اٹھے کہ اگر آپ چاہتے تو اس کام کی کوئی مزدوری طلب کر سکتے تھے۔

اس تیسری خلاف ورزی پر اس نیک ہستی نے اپنا حتمی فیصلہ سنا دیا، هَٰذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ۔ یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت ہے۔ پھر اس بندے نے ان تمام واقعات کی حقیقت بیان کرنا شروع کی تاکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ جان لیں کہ بظاہر نظر آنے والے واقعات کے پس پردہ قدرت کی ایسی مصلحتیں پوشیدہ ہوتی ہیں جنہیں انسان بغیر الہی رہنمائی کے نہیں سمجھ سکتا۔ جہاں تک اس کشتی کا تعلق تھا، وہ چند غریب محنت کشوں کی ملکیت تھی جو سمندر سے اپنا رزق کماتے تھے، جبکہ ان کے علاقے کا بادشاہ ہر اچھی اور صیح سالم کشتی کو زبردستی قبضے میں لے رہا تھا۔ اس لیے میں نے چاہا کہ اس کشتی میں کوئی نقص پیدا کر دوں تاکہ بادشاہ اسے چھوڑ دے اور غریبوں کی روزی روٹی چلتی رہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے، أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدتُّ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءَهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا۔

اس کے بعد اس لڑکے کا واقعہ تھا، جس کے والدین سچے مومن تھے، چنانچہ یہ اندیشہ تھا کہ بڑا ہو کر یہ لڑکا اپنی نافرمانی اور کفر کی وجہ سے ان کے لیے شدید اذیت کا باعث بنے گا۔ اس لیے اللہ کی یہ منشا تھی کہ ان کا پروردگار انہیں اس کے بدلے میں ایسی اولاد عطا کرے جو پاکیزگی میں اس سے افضل ہو اور والدین کے لیے زیادہ رحم دل ہو۔ قرآنی الفاظ میں، وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَن يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا فَأَرَدْنَا أَن يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِّنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا۔

آخر میں اس دیوار کی حقیقت یہ تھی کہ وہ اسی بستی کے دو یتیم بچوں کی ملکیت تھی اور اس کے بالکل نیچے ان بچوں کا خزانہ دفن تھا، جبکہ ان کا والد ایک نہایت نیک انسان تھا۔ چنانچہ اللہ کی یہ منشا تھی کہ یہ دونوں یتیم بچے اپنی جوانی کی عمر کو پہنچ کر اپنا یہ خزانہ خود نکالیں، اور یہ سراسر آپ کے رب کی مہربانی تھی۔ آخر میں اس نیک بندے نے وضاحت کی، وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي۔ اور میں نے یہ سب کچھ اپنی مرضی سے نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنی سوچ سے کوئی قدم نہیں اٹھایا، بلکہ جو کچھ بھی کیا وہ خالصتاً اللہ کے حکم اور اس کی دی گئی تعلیم کے مطابق تھا۔

یہ سارا واقعہ ہمیں یہ ہرگز نہیں سکھاتا کہ ہم شرعی احکامات کو ماننے سے انکار کریں یا کسی ظلم پر چپ سادھ لیں، کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ان کاموں پر فوراً معترض ہوئے جو ظاہری طور پر شریعت کے منافی لگ رہے تھے۔ درحقیقت یہ واقعہ ہمیں یہ حقیقت سمجھاتا ہے کہ انسان کی نظر محدود ہے اور وہ تصویر کا محض ایک چھوٹا سا رخ دیکھ پاتا ہے، جبکہ اللہ رب العزت کا علم اور اس کی حکمت پوری کائنات پر محیط ہے۔ زندگی میں کتنے ہی ایسے لمحات آتے ہیں جب ہم کسی بات پر رنجیدہ ہو جاتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اس میں چھپی رحمت نظر آنے لگتی ہے۔ بے شمار مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے لیے کوئی دروازہ بند ہو جاتا ہے اور ہم مایوس ہو جاتے ہیں، حالانکہ اس بندش میں ہماری اپنی حفاظت چھپی ہوتی ہے۔ اسی طرح کتنی ہی بار کسی کام میں ہونے والی تاخیر ہمیں محرومی لگتی ہے مگر وہ قدرت کی طرف سے کسی عظیم کامیابی کی تیاری کا حصہ ہوتی ہے۔

قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے، وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ۔ اور ہر علم والے کے اوپر ایک زیادہ علم والا موجود ہے۔ اسی طرح اس پاک ذات کا یہ بھی فرمان ہے، وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔ اور عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو، اور عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بری ہو، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

اس واقعے سے حاصل ہونے والے سب سے بڑے اسباق میں یہ بھی شامل ہے کہ علم کی جستجو ہمیشہ عاجزی، برداشت اور باادب رویے کا تقاضا کرتی ہے۔ انسان خواہ علم کے کتنے ہی بلند مرتبے پر فائز ہو جائے، اسے ہمیشہ مزید جاننے اور سیکھنے کی حاجت رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، حالات و واقعات کے بارے میں عجلت پسندی سے فیصلہ کرنا انسان کو غلط فہمی میں مبتلا کر سکتا ہے، جس کے باعث وہ نقصان کو فائدہ اور فائدے کو نقصان تصور کرنے لگتا ہے۔

لہذا آج کے بعد اگر آپ کی زندگی میں کوئی ایسا لمحہ آئے جس کی مصلحت آپ کی سمجھ سے بالاتر ہو، تو دل سے یہ دعا کیا کریں، یا رب علمنی الرضا بحکمتک، جس کے معنی ہیں، اے میرے پروردگار مجھے اپنی حکمتوں پر دل سے راضی رہنا سکھا دے۔ اور یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اس واقعے کی کوئی نصیحت کسی انسان کے دل میں رب پر مکمل بھروسے اور صبر و استقامت کا ایک نیا باب روشن کر دے۔

Loading