Daily Roshni News

راہِ باطن میں “مرشدِ کامل” کی ضرورت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )راہِ باطن میں “مرشدِ کامل” کی ضرورت اِسی لیے ہے کہ سالک کا دل جب دنیا کی کثافت سے تنگ ہوتا ہے، تو وہ خود سے اِسے کھول نہیں پاتا۔

مرشد اپنے روحانی تصرف اور نگاہِ شفقت سے سالک کے سینے کی زمین کو نرم کرتا ہے۔

​سلطانِ عارفین حضرت سخی سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا ایک خوبصورت واقعہ سنو۔ ایک شخص باطنی تنگی کا شکار تھا، زبانی ذکر کرتا تو وسوسے اِسے گھیر لیتے، دل میں گھٹن محسوس ہوتی۔ وہ تڑپتا ہوا اپنے وقت کے کامل مرشد کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔

مرشد نے اِس کی بے قراری کو دیکھا، مسکرائے اور نہایت شفقت سے اپنا نورانی ہاتھ اُس کے سینے کے درمیان میں رکھا۔

​مرشد کا ہاتھ سینے پر لگنا تھا کہ اُس شخص کو یوں محسوس ہوا جیسے اُس کے سینے کے اندر مٹی کی بنی ہوئی ایک تنگ کوٹھڑی تھی، جو یکلخت ٹوٹ گئی اور وہاں ایک وسیع و عریض کائنات روشن ہو گئی، جس میں نور کے چشمے ابل رہے تھے۔

اُس کے چہرے پر سکون کی ندیاں بہنے لگیں اور آنکھوں سے زار و قطار محبتِ الٰہی کے آنسو جاری ہو گئے۔

​حضرت سلطان باہوؒ اِس کیفیت کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ جب تک کامل مرشد کی زیرِ نگرانی دل دنیا کی تنگی اور حرص سے آزاد نہ ہو، معرفتِ الٰہی کا نور اُس میں ٹھہر ہی نہیں سکتا۔ یہی سبب ہے کہ راہِ سلوک میں سب سے پہلے دل کی کشادگی کی دعا کی جاتی ہے۔

#Khaak_e_rawan

Loading