نجات کا فلسفہ
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ سید اسلم شاہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ نجات کا فلسفہ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ سید اسلم شاہ)بعد از مرگ بخشش و نجات کا نظریہ جن بنیادوں پر استوار ہے اور دنیا کی اکثریت اس مغالطہ و خوش فہمی میں مبتلا نظر آتی ہے کے مرنے کے بعد شخص کی بخشش و نجات کیلیے مانگی گئی دعائیں رنگ لاتی ہیں۔
۔
ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیے نجات ہر فرد نے جیتے جی حاصل کرنی ہوتی ہے۔ مرنے سے پہلے خود کو نجات یافتہ افراد کے صف میں کھڑا کرنا ہوتا ہے۔ موت سے پہلے اس زندگی میں زندہ رہتے ہوئے نجات حاصل کرنی ہوتی ہے تب ہی آپ کیلیے اُس جہان کے دروازے کھولے جائینگے۔ اور آپ کو وہاں بھی دیدار الہی حاصل ہوگا۔
۔
جو روح اس مادی جہان میں آکر جب تک زندگی میں زندہ رہتے ہوئے نجات حاصل نہیں کرے گی تب تک اس روح کی بخشش کیلیے مانگی گئی دعائیں بے سود، کار لاحاصل رہتی ہیں۔
۔
یہ مت سوچو کے مرنے کے بعد نجات مل جائے گی یا بخشش ہو جائے گی۔ مرنے سے پہلے نجات حاصل کرنی ہوتی ہے۔ بخشش پالینی ہوتی ہے۔ خود کو جیتے جی آزاد کرنا ہوتا ہے۔ خود کا بحیثیت روح ادراک کرنا ہوتا ہے۔
۔
اگر اس زندگی میں آپ نجات حاصل نہیں کر پائے اگر اس زندگی میں آپ اندھے رہے تو آپ کو وہاں بھی اندھا ہی اٹھایا جائے گا۔ جو یہاں اندھا رہا وہ وہاں بھی اندھا رہے گا۔
۔
جس کو یہاں دیدار الہی حاصل ہوا اسے وہاں بھی وصل حاصل ہوگا۔ جس نے اپنی زندگی غفلت میں گزاری اور مالک کی ذات جو اس کے دل میں جلوہ گر ہے اگر اس کو جاننے و دیکھنے سے اگر یہ محروم رہ جائے تو اس سے بڑی دکھ و حماقت والی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔
۔
آپ کی زندگی بہت قیمتی ہے اس زندگی کا لمحہ لمحہ بہت قیمتی ہے۔ ایک ایک سانس ہیرے موتی لعل اور جواہرات سے زندہ قیمتی ہے۔ جو سانس یاد الہی میں گزر جائے صرف وہی سانس قیمتی ہے۔ باقی سب فسوں وافسانہ ہے۔
۔
یہ مت سوچو کے مرنے کے بعد والی زندگی بہت پرسکون اور مزیدار ہوگی۔ اگر آپ اس زندگی میں پرسکون نہیں ہو ٹینشن، ڈپریشن میں مبتلا ہو، پریشانیوں میں گھرے ہوئے ہو تو آپ یہ کس طرح سوچ سکتے ہیں کے مرنے کے بعد والی زندگی آسان ہوگی۔ مرنے کے بعد والی زندگی اس زندگی سے بہت ذیادہ کھٹن ہے۔
۔
اب تو یہ کہتے ہیں کے مر جائینگے،
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائینگے۔
۔
ذندگی میں زندہ رہتے ہوئے نجات حاصل کرنے کیلیے جدجہد کرنی ہے۔ اس زندگی میں زندہ رہتے ہوئے انعام یافتہ/نجات یافتہ افراد کی صف میں خود کو کھڑا کرنا ہوگا۔ مغضوب اور ضالین/ اندھوں و بہروں سے بچنا ہوگا۔
۔
آپ سب میں خود کو جاننے کی تلاش و جستجو پیدا ہو۔ خود کا ادراک بحیثیت روح کر پائیں۔ زندگی میں زندہ رہتے ہوئے نجات حاصل کریں۔ آپ سب کی روحیں منور ہوں۔ آپ سب کو عرفان خودی حاصل ہو۔ اپنے آپ کو بیدار کیجیے۔ خواب غفلت سے جاگ جائیے۔ اپنی روح کا ادراک حاصل کیجیے۔
۔
اس روحانی سفر کا حصہ بن کر فلاح نوع انسان کیلیے اس مشن میں شامل ہوں تاکہ ایک اچھے معاشرے کی تعمیر ہو جس میں روحوں کو ان کی نشو ونما کا سامان ملے، تزکیہ نفس ہو، روحیں پھلے پھولے۔
![]()

