Daily Roshni News

حسن ایسا کہ نگاہ ٹھہر جائے، ادا ایسی کہ دل جیت لے—مسرت نذیر کی داستانِ حیات

حسن ایسا کہ نگاہ ٹھہر جائے، ادا ایسی کہ دل جیت لے—مسرت نذیر کی داستانِ حیات

محمد مسلم غازی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بڑی بڑی آنکھیں، گورا چٹا چہرہ، دلکش خدوخال اور ایسی ادا کہ پردۂ سیمیں پر آتے ہی نگاہیں ان کی طرف اٹھ جاتیں۔ مسرت نذیر پاکستانی فلمی دنیا کی وہ حسین اداکارہ تھیں جن کی شخصیت میں حسن، نزاکت، اداکاری اور آواز—سب کچھ ایک ساتھ سمٹ آیا تھا۔

13 اکتوبر 1940 کو سیالکوٹ میں پیدا ہونے والی مسرت نذیر نے 1955 میں انور کمال پاشا کی فلم ’’قاتل‘‘ سے فلمی سفر شروع کیا۔ ’’پتن‘‘ نے انہیں نمایاں مقام دلایا اور پھر ’’ماہی منڈا‘‘، ’’یکے والی‘‘، ’’کرتار سنگھ‘‘، ’’زہرِ عشق‘‘، ’’جھومر‘‘ اور ’’شہید‘‘ جیسی فلموں سے ان کا شمار صفِ اول کی اداکاراؤں میں ہونے لگا۔

ان کی خوبصورتی اور بے باک اسکرین انداز بھی اپنے زمانے میں خاصی توجہ کا مرکز رہا۔ 1956 کی فلم ’’باغی‘‘ میں ان کے بولڈلباس پر سنسر کی جانب سے اعتراض بھی ہوا-

مسرت نذیر نے اپنے  فلمی عروج پر ڈاکٹر ارشد مجید سے شادی کی اور 1965 میں کینیڈا منتقل ہوگئیں۔ دونوں کے تین بچے ہوئے، جن میں صاحبزادے عمر مجید آج کینیڈین فلم ڈائریکٹر اور پروڈیوسر ہیں۔

کینیڈا منتقل ہونے کے بعد مسرت نذیر کا پاکستان سے رشتہ قائم رہا۔ ایک مرحلے پر دونوں لاہور واپس آئے اور یہاں اسپتال قائم کرنے کا ارادہ کیا، مگر منصوبہ کامیاب نہ ہوسکا اور وہ دوبارہ کینیڈا چلے گئے۔

مسرت نذیر نے اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری میں بھی اپنی الگ پہچان بنائی۔ ’’میرا لونگ گواچا‘‘، ’’جوگی‘‘ اور دیگر لوک و شادی بیاہ کے گیتوں نے انہیں ایک نئی نسل سے بھی متعارف کرایا۔  وہ آج بھی کینیڈا میں مقیم ہیں اور وقتاً فوقتاً بیرونِ ملک پاکستانی ثقافتی و موسیقی کی تقریبات میں شرکت کرتی ہیں۔

ان کے شوہر ڈاکٹر ارشد مجید 24 مئی 2026 کو اونٹاریو، کینیڈا میں انتقال کرگئے۔ یوں مسرت نذیر کی زندگی میں رفاقت کا ایک طویل باب بھی اختتام پذیر ہوا۔

آج پردۂ سیمیں سے دور ہونے کے باوجود مسرت نذیر کا نام پاکستانی سینما کے اس سنہری دور کی یاد دلاتا ہے، جب حسن بھی کہانی تھا، ادا بھی پہچان تھی اور آواز بھی دل میں اتر جاتی تھی-🔹🔹🔹

#MusarratNazir #PakistaniCinema #Lollywood #PakistaniActress #PakistaniMusic

Loading