ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بعض نو آموز شعرا یا شائقینِ ادب فنِ شاعری پر عبور حاصل کرنے کے لیے کچھ رہنما اصول جاننا چاہ رہے ہوتے ہیں۔
پہلے تو خیال آیا کہ بزعم خود استاد قرار پاتے ہوئے کچھ نصیحتیں ایک پوسٹ کی شکل میں کر دی جائیں۔ مگر پھر داغ دہلوی کا لکھا ہوا وہ نصیحت نامہ یاد آ گیا جو انھوں نے اپنے شاگردوں کے لیے فی البدیہہ کہا تھا۔ یہ پند نامہ آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا دمِ تحریر تھا۔ ایک بار ضرور پڑھ لینا چاہیے:
اپنے شاگردوں کو یہ عام ہدایت ہے مِری
کہ سمجھ لیں تہِ دل سے وہ بجا و بے جا
(میری اپنے تمام شاگردوں کو یہ عام ہدایت ہے کہ وہ شاعری میں صحیح اور غلط (مناسب اور نا مناسب) کا فرق دل سے سمجھ لیں)
شعر گوئی میں رہیں مدِ نظر یہ باتیں
کہ بغیر ان کے فصاحت نہیں ہوتی پیدا
(شاعری کرتے وقت ان اصولوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کیونکہ ان کے بغیر کلام میں فصاحت اور صفائی پیدا نہیں ہوتی)
چُست بندش ہو نہ ہو سُست یہی خوبی ہے
وہ فصاحت سے گِرا شعر میں جو حرف دبا
(مناسب الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ان کی نشست ایسی ہونی چاہیے کہ مصرع رواں ہو اور اس کی ادائیگی میں زبان کو تکلف کا احساس نہ ہو۔ جس شعر میں کوئی حرف دبا کر پڑھا جائے وہ فصاحت کے معیار سے گر جاتا ہے)
عربی فارسی الفاظ جو اردو میں کہیں
حرفِ علت کا بُرا ان میں ہے گِرنا دبنا
(اردو میں استعمال ہونے والے عربی اور فارسی الفاظ کے حروفِ علت (الف، واؤ، ی) کو گرانا یا دبانا بہت برا عیب سمجھا جاتا ہے)
الفِ وصل اگر آئے تو کُچھ عیب نہیں
لیکن الفاظ میں اردو کے یہ گِرنا ہے روا
(عربی و فارسی کے الفاظ کا “الفِ وصل” گر جائے تو عیب نہیں البتہ خالص اردو الفاظ کے حروفِ علت کو گرانے کی اجازت ہے)
جس میں گنجلک نہ ہو تھوڑی بھی صراحت ہے وہی
وہ کنایہ ہے جو تصریح سے بھی ہو اولیٰ
(واضح بات وہی ہے جس میں ذرا سا بھی الجھاؤ نہ ہو۔بہترین کنایہ وہ ہے جو صریح بیان سے بھی زیادہ واضح اور مؤثر ہو)
عیب و خوبی کا سمجھنا ہے اک امرِ نازک
پہلے کُچھ اور تھا اب رنگِ زباں اور ہوا
(شعر کے عیب اور خوبی کو سمجھنا ایک نازک معاملہ ہے کیونکہ پہلے زمانے کی زبان کا رنگ اور تھا اور اب بدل چکا ہے)
یہی اردو ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے
اہلِ دہلی نے اِسے اور سے اب اور کِیا
(یہ وہی اردو زبان ہے جو قدیم زمانے سے چلی آ رہی ہے لیکن اہل دہلی نے اسے مزید سنوار کر بہت بہتر کر دیا ہے)
مستند اہلِ زباں خاص ہیں دلی والے
اس میں غیروں کا تصرف نہیں مانا جاتا
(دہلی کے رہنے والے ہی زبان کا اصل معیار ہیں۔ اس زبان میں کسی غیر اہل زبان کا تصرف تسلیم نہیں کیا جاتا)
جوہری نقدِ سخن کے ہیں پرکھنے والے
ہے وہ ٹکسال سے باہر جو کسوٹی نہ چڑھا
(سخن فہم اور نقاد ہی کلام کے پرکھنے والے ہیں۔ جو شعر ان کے معیار پر پورا نہ اُترے وہ معتبر نہیں ہوتا)
بعض الفاظ جو دو آئے ہیں اک معنیٰ میں
ایک کو ترک کیا ایک کو قائم رکھا
(ایک ہی معنی میں استعمال ہونے والے دو الفاظ میں سے ایک کو متروک (چھوڑ) دیا گیا اور دوسرے کو قائم رکھا گیا)
ترک جو لفظ کیا اب وہ نہیں مستعمل
اگلے لوگوں کی زباں پر وہی دیتا تھا مزہ
(جو لفظ اب چھوڑ دیا گیا ہے وہ رائج نہیں رہا حالانکہ پہلے زمانے کے لوگوں کی زبان پر وہی لفظ اچھا لگتا تھا اور مزہ دیتا تھا)
گرچہ تعقید بری ہے مگر اچھی ہے کہیں
جو ہو بندش میں مناسب تو نہیں عیب ذرا
(اگرچہ شعر میں تعقید (الفاظ کی بے ترتیبی) بُری بات ہے لیکن اگر بندش کی مناسبت سے آئے تو اس میں کوئی برائی نہیں)
شعر میں حشو و زوائد بھی بُرے ہوتے ہیں
ایسی بھرتی کو سمجھتے نہیں شاعر اچھا
(شعر میں بے مقصد اور زائد الفاظ (حشو و زوائد) برے سمجھے جاتے ہیں۔ اچھے شعرا ایسی لفظی بھرتی کو پسند نہیں کرتے)
گر کسی شعر میں ایطائے جلی آتا ہے
وہ بڑا عیب ہے کہتے ہیں اسے بے معنیٰ
(اگر کسی شعر میں ایطائے جلی (قافیے کی واضح غلطی) آ جائے تو وہ بہت بڑا عیب ہے جو شعر کو بے معنی بنا دیتا ہے۔یعنی قاری کا دھیان معنی کے بجائے عیب کی طرف چلا جاتا ہے)
استعارہ جو مزے کا ہو مزے کی تشبیہ
اس میں اک لُطف ہے اس کہنے کا پھر کیا کہنا
(شعر میں اگر دلکش استعارہ یا عمدہ تشبیہ استعمال کی جائے تو اس کی خوبصورتی اور لطف کا کوئی جواب نہیں)
اصطلاح اچھی مثل اچھی ہو بندش اچھی
روزمرہ بھی رہے صاف فصاحت سے بھرا
(شعر کی اصطلاح، کہاوت اور بندش عمدہ ہونی چاہیے اور روزمرہ کی زبان صاف، رواں اور فصاحت سے بھرپور ہونی چاہیے)
ہے اضافت بھی ضروری مگر ایسی تو نہ ہو
ایک مصرع میں جو ہو چار جگہ بلکہ سوا
(شعر میں اضافت (کا، کے، کی یا زیر) کا استعمال ضروری ہے لیکن اتنی زیادہ نہیں ہونی چاہیے کہ ایک ہی مصرع میں چار یا اس سے زیادہ بار آ جائے)
عطف کا بھی ہے یہی حال یہی صورت ہے
وہ بھی آئے متواتر تو نہایت ہے بُرا
(یہی حال حروفِ عطف (اور/و) کا ہے۔اگر وہ بھی مُسلسل اور پے در پے آئیں تو بہت برے معلوم ہوتے ہیں)
لف و نشر آئے مرتب وہ بہت اچھا ہے
اور ہو غیر مرتب تو نہیں کُچھ بے جا
(صنعتِ لف و نشر کا بالترتیب (مرتب) آنا بہت اچھا ہے لیکن اگر غیر مرتب بھی ہو تو اس میں کوئی برائی یا عیب نہیں ہے)
شعر میں آئے جو ایہام کسی موقع پر
کیفیت اس میں بھی ہے وہ بھی نہایت اچھا
(اگر کسی مناسب موقع پر شعر میں ایہام (دو معنی والا لفظ جو وہم میں ڈال دے کہ شاعر نے کون سا معنی مراد لیا ہے) لایا جائے تو اس میں بھی ایک خوبصورت اثر ہوتا ہے اور وہ بھی بہت اچھا لگتا ہے)
جو نہ مرغوبِ طبیعت ہو بُری ہے وہ ردیف
شعر بے لطف ہے گر قافیہ ہو بے ڈھنگا
(جو ردیف طبیعت کو ناگوار گزرے وہ بری ہوتی ہے اور اگر قافیہ بے ڈھنگا ہو تو پورا شعر بے لطف ہو جاتا ہے)
ایک مصرع میں ہو تُم دوسرے مصرع میں ہو تُو
یہ شتر گربہ ہوا میں نے اسے ترک کیا
(ایک مصرع میں مخاطب کے لیے “تم” اور دوسرے میں “تو” کا استعمال کرنا شتر گربہ ( صیغے کا عیب) کہلاتا ہے جسے میں نے ترک کر دیا ہے)
چند بحریں متعارف ہیں فقط اردو میں
فارسی میں عربی میں ہیں مگر ان سے سوا
(اردو میں صرف چند مخصوص بحریں ہی زیادہ رائج ہیں جبکہ عربی اور فارسی میں ان کے علاوہ بھی بہت سی بحریں موجود ہیں)
شعر میں ہوتی ہے شاعر کو ضرورت اس کی
گر عروض اس نے پڑھا وہ ہے سخن ور دانا
(شاعر کو شاعری میں علمِ عروض کی سخت ضرورت ہوتی ہے اور جس نے علمِ عروض پڑھا ہوا ہو وہی دانا اور سمجھدار شاعر کہلاتا ہے)
مختصر یہ ہے کہ ہوتی ہے طبیعت استاد
دین اللہ کی ہے جس کو یہ نعمت ہو عطا
(مختصر یہ کہ شاعری کی صلاحیت بنیادی طور پر فطری ہوتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک خاص نعمت ہے)
بے اثر کے نہیں ہوتا کبھی مقبول کلام
اور تاثیر وہ شے ہے جسے دیتا ہے خدا
(کوئی بھی کلام اثر کے بغیر مقبول نہیں ہوتا اور کلام میں تاثیر پیدا کرنا صرف اللہ تعالیٰ کی عطا ہے)
گرچہ دنیا میں ہوئے اور ہیں لاکھوں شاعر
کسبِ فن سے نہیں ہوتی ہے یہ خوبی پیدا
(اگرچہ دنیا میں لاکھوں شعرا گزرے ہیں لیکن تاثیر اور مقبولیت کی یہ خوبی محض محنت یا فن سیکھنے سے پیدا نہیں ہوتی)
سید احسنؔ جو مرے دوست بھی شاگرد بھی ہیں
جن کو اللہ نے دی فکرِ رسا طبعِ رسا
(سید احسنؔ جو میرے دوست بھی ہیں اور شاگرد بھی،جنہیں اللہ تعالیٰ نے بلند فکر اور عمدہ طبیعت بخشی ہے)
شعر کے حسن و قبائح جو انھوں نے پوچھے
ان کی درخواست سے اک قطعہ یہ برجستہ کہا
(جب انہوں نے مجھ سے شعر کی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں پوچھا تو ان کی درخواست پر میں نے فی البدیہہ (برجستہ) یہ قطعہ کہا)
پند نامہ جو کہا داغؔ نے بیکار نہیں
کام کا قطعہ ہے یہ وقت پہ کام آئے گا
(داغؔ کا لکھا ہوا یہ نصیحت نامہ (پند نامہ) بے کار نہیں ہے، بلکہ یہ ایک انتہائی مفید قطعہ ہے جو بوقتِ ضرورت کام آئے گا)
تحریر : سعید شارق
۔۔۔۔۔۔۔۔
#شاعری #داغ #ادب #poetry
![]()
