Daily Roshni News

داڑھی کا شرعی حکم اور  اختلاف فقہ کے آداب

داڑھی کا شرعی حکم اور  اختلاف فقہ کے آداب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اس مسئلے پر گفتگو سے پہلے ایک بنیادی اصول کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ دینی مسائل میں ایک قسم وہ ہے جس پر اہلِ علم کا اجماع اور اتفاق ہو، اور #دوسری قسم وہ ہے جس میں فقہاء کے درمیان معتبر اور قدیم اختلاف پایا جاتا ہو۔ پہلی قسم کے مسائل میں کسی شخص کے لیے محض اپنی ذاتی پسند یا رائے کی بنیاد پر اجماعی حکم کو ترک کرنا درست نہیں، کیونکہ اجماعِ امت شریعت میں ایک معتبر حجت ہے۔ لیکن دوسری قسم کے مسائل میں، جہاں معتبر اہلِ علم نے نصوص کی مختلف تعبیرات اور اجتہادی اصولوں کی بنیاد پر مختلف آراء اختیار کی ہوں، وہاں کسی مسلمان کے لیے کسی معتبر قول کو اختیار کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ ایسے مسائل میں ایک شخص جس قول کو اپنے لیے راجح یا زیادہ مناسب سمجھ کر اختیار کرے، دوسرے شخص کو بھی اس بات کی اجازت اور گنجائش دینی چاہیے کہ وہ کسی دوسرے معتبر قول پر عمل کرے۔ اپنے اختیار کردہ قول پر عمل کرنا ایک چیز ہے، اور اسے دوسروں پر اس طرح مسلط کرنا کہ مخالف رائے رکھنے والا شخص قابلِ ملامت، فاسق یا دین سے دور سمجھا جائے، بالکل دوسری چیز ہے۔ فقہی اختلاف کے آداب کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنے قول پر قائم رہے لیکن دوسرے معتبر قول کا احترام بھی باقی رکھے۔

#داڑھی کا مسئلہ اسی دوسرے دائرے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے داڑھی رکھی، اس کی نگہداشت فرمائی اور اس کے متعلق متعدد احادیث میں ہدایات وارد ہوئی ہیں۔ حضرت #ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح بخاری و صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ، أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَوْفُوا اللِّحَى”، یعنی مشرکین کی مخالفت کرو، مونچھیں خوب تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔ اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں داڑھی کو خصالِ فطرت میں شمار کیا گیا ہے۔ ان احادیث سے کم از کم یہ بات بالکل واضح ہے کہ داڑھی رکھنا رسول اللہ ﷺ کی سنت اور آپ کے مبارک طریقۂ زندگی کا حصہ ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی داڑھی کی صفائی، حسنِ ترتیب اور نگہداشت کا اہتمام فرمایا، اسے دھویا، کنگھی کی اور اپنے ظاہری حلیے کی پاکیزگی و شائستگی کا لحاظ رکھا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی آپ ﷺ کے اس طریقے کی پیروی کی۔ اس اعتبار سے داڑھی کی سنتی حیثیت میں کوئی شبہ نہیں۔

#البتہ یہاں ایک دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان احادیث کی بنا پر داڑھی رکھنا شرعاً واجب ہے، یا یہ سنت و مستحب ہے، یا اسے محض مباح امورِ عادات و ہیئت میں شمار کیا جائے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں فقہاء کے درمیان اختلاف پیدا ہوا ہے۔ فقہاء کی ایک بڑی جماعت، خصوصاً #احناف اور #حنابلہ کے بعض اہلِ علم، رسول اللہ ﷺ کے الفاظ “أَوْفُوا اللِّحَى” اور اس نوع کی دوسری روایات میں موجود امر کو وجوب پر محمول کرتی ہے۔ ان کے نزدیک شریعت میں امر کا اصل مفہوم وجوب ہے، جب تک کوئی ایسا قرینہ نہ ہو جو اسے وجوب سے استحباب کی طرف منتقل کرے۔ نیز احادیث میں مشرکین کی مخالفت کا ذکر بھی آیا ہے، جسے ان علماء نے اس حکم کی مزید تاکید کے طور پر سمجھا۔ اسی بنیاد پر ان حضرات نے داڑھی رکھنے کو واجب اور اسے مونڈنے کو ناجائز یا حرام قرار دیا ہے۔

دوسری طرف #شافعی فقہ کے معتمد قول اور متعدد دوسرے اہلِ علم کے نزدیک داڑھی رکھنا سنت یا مستحب ہے اور اسے مونڈنا مکروہ ہے، لیکن اسے حرام یا قطعی ناجائز قرار نہیں دیا جاتا۔ ان علماء کے نزدیک داڑھی سے متعلق احادیث کو ایسی سنت کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے جو نبی ﷺ کے طریقۂ زندگی، نظافت، حسنِ ہیئت اور معاشرتی آداب سے متعلق ہے۔ ان کے نزدیک ہر امر کو لازماً وجوب پر محمول کرنا ضروری نہیں، خصوصاً جب وہ امور عادات، ہیئت، نظافت اور معاشرتی زندگی سے متعلق ہوں۔ بعض اہلِ علم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نبی ﷺ کی طرف سے کسی امر کا صادر ہونا ہمیشہ اسی معنی میں نہیں ہوتا کہ اس کا ترک ہر حال میں حرام قرار پائے؛ بلکہ احکام کے مختلف درجات کو متعین کرنے کے لیے دیگر نصوص اور قرائن کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔

#معاصر زمانے میں بعض اہلِ علم نے اس مسئلے کا مزید تفصیلی اور اصولی مطالعہ کیا ہے اور داڑھی کو بنیادی طور پر مباح امورِ عادات و ہیئت میں شمار کیا ہے۔ شیخ عبد اللہ بن یوسف الجدیع نے اس موضوع پر مستقل کتاب میں داڑھی سے متعلق احادیث، فقہی اقوال اور اصولی دلائل کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور اس تحقیق کے بعد اس رائے کو ترجیح دی ہے کہ داڑھی کا معاملہ وجوب کے بجائے اباحت کے دائرے میں ہے۔ اس رائے سے اتفاق یا اختلاف ایک الگ علمی مسئلہ ہے، لیکن اسے محض اس وجہ سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ برصغیر کے عام فقہی ماحول میں یہ رائے معروف نہیں۔ مصر، مغرب اور بعض دوسرے عرب ممالک میں بھی متعدد علماء، خصوصاً بعض ازہری علماء، داڑھی کے مسئلے کو برصغیر کے بہت سے علماء کے مقابلے میں زیادہ وسیع دائرے میں دیکھتے ہیں، اور ان میں ایسے علماء بھی موجود ہیں جو خود داڑھی نہیں رکھتے۔ ان حضرات کے اپنے فقہی اور اصولی دلائل ہیں۔ اس لیے کسی عالم کا داڑھی نہ رکھنا بذاتِ خود اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ احادیث سے ناواقف ہے یا سنت کا منکر ہے؛ ممکن ہے وہ انہی نصوص کی ایک مختلف فقہی تعبیر کو اختیار کرتا ہو۔

#برصغیر کے علماء کی ایک بڑی تعداد داڑھی کے وجوب کی قائل ہے اور بعض فقہی مکاتب میں ایک مشت سے کم داڑھی رکھنے کو بھی درست نہیں سمجھا جاتا۔ اگر کسی عالم کو اپنے فقہی مطالعے اور دلائل کی روشنی میں یہ اطمینان حاصل ہے کہ داڑھی واجب ہے تو اس کا خود داڑھی رکھنا اور دوسروں کو اس کی ترغیب دینا قابلِ فہم اور قابلِ احترام ہے۔ فقہی مسئلے میں احتیاط اختیار کرنا بھی بذاتِ خود کوئی قابلِ مذمت چیز نہیں۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے اختیار کردہ فقہی موقف سے آگے بڑھ کر مخالف معتبر رائے رکھنے والے ہر شخص کو برا بھلا کہنے، اس کی تحقیر کرنے یا اس پر اپنے قول کو لازماً مسلط کرنے لگے۔ کسی مسئلے میں زیادہ سخت موقف اختیار کرنا ایک بات ہے، اور اپنے موقف کو دوسروں پر جبر کے ساتھ نافذ کرنا دوسری بات۔ پہلے کی گنجائش ہے، دوسرے سے احتراز ضروری ہے۔

#داڑھی کی مقدار کے بارے میں بھی یہی اصول پیشِ نظر رہنا چاہیے۔ بعض فقہاء، خصوصاً حنفی فقہاء کے ہاں، #حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل کی بنیاد پر ایک مشت کی مقدار کے بارے میں تفصیلی بحث ملتی ہے، اور اسی وجہ سے برصغیر کے فقہی ماحول میں ایک مشت داڑھی کا معیار بہت معروف ہوگیا ہے۔ لیکن قرآن و حدیث میں ایسی کوئی صریح اور قطعی عبارت موجود نہیں جس میں یہ کہا گیا ہو کہ داڑھی کی شرعی مقدار لازماً ایک مشت ہے اور اس سے ایک بال بھی کم ہونے کی صورت میں وہ شرعی داڑھی نہیں رہے گی۔ احادیث میں اصل تعبیر “أَوْفُوا اللِّحَى” اور “أَرْخُوا اللِّحَى” جیسی ہے، یعنی داڑھی کو بڑھانے اور چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی بنا پر بہت سے اہلِ علم نے داڑھی کی کوئی مخصوص عددی مقدار مقرر نہیں کی، بلکہ اس معاملے میں عرف کو اہمیت دی ہے۔ ان کے نزدیک جو چیز عرفاً داڑھی شمار ہوتی ہے وہ داڑھی ہے، اور شریعت نے اس کی لمبائی کو کسی متعین عددی پیمانے سے نہیں باندھا۔

#یہی وجہ ہے کہ ایک مشت سے کم داڑھی رکھنے والے ہر شخص کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کی کوئی داڑھی ہی نہیں یا اس نے لازماً ایک قطعی اور متفق علیہ شرعی حکم کی خلاف ورزی کی ہے، علمی طور پر درست نہیں۔ جو فقہاء ایک مشت کو لازم سمجھتے ہیں، ان کے نزدیک اس سے کم کرنا درست نہیں ہوگا، لیکن جو اہلِ علم ایک مشت کو شرعی مقدار نہیں سمجھتے، ان کے نزدیک اصل سوال یہ ہوگا کہ آیا عرفاً اس شخص کے چہرے پر داڑھی موجود ہے یا نہیں۔ چنانچہ ایک مشت کا مسئلہ بھی خود فقہی اختلاف سے خالی نہیں ہے۔

#رسول اللہ ﷺ کے بعد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے داڑھی رکھی اور آپ ﷺ کی سنت کی پیروی کی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل سے خاص طور پر فقہاء نے استدلال کیا ہے۔ لیکن صحابی کے ایک عملی طریقے سے یہ نتیجہ نکالنا کہ وہی مقدار تمام مسلمانوں کے لیے ایک قطعی اور متعین شرعی پیمانہ ہے، ایک مستقل اصولی بحث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے صحابہ کے اعمال کو مختلف طریقوں سے سمجھا اور ان سے مختلف فقہی نتائج اخذ کیے۔ ایک ہی حدیث یا ایک ہی اثر سے مختلف فقہی مذاہب کا مختلف نتیجہ اخذ کرنا اسلامی فقہ کی معروف حقیقت ہے۔

#یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ معتبر اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص اپنی خواہش کے مطابق جو چاہے اسے دین قرار دے دے۔ فقہی اختلاف بھی اپنی علمی حدود اور اصول رکھتا ہے۔ صریح اور قطعی نصوص کے مقابلے میں محض ذاتی خواہش کی کوئی حیثیت نہیں، لیکن جہاں نص کے مفہوم، امر کی دلالت، علت، عرف، تخصیص، تقیید اور دیگر اصولی امور میں اجتہاد کی گنجائش ہو، وہاں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پیدا ہوسکتا ہے۔ داڑھی کا مسئلہ اسی نوعیت کے مسائل میں شمار کیا گیا ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ کسی معتبر عالم یا فقہی مکتب کی رائے کو علم و اطمینان کے ساتھ اختیار کرے، نہ کہ صرف خواہشِ نفس کے تحت، اور پھر دوسروں کے لیے بھی وہی علمی گنجائش تسلیم کرے جو وہ اپنے لیے چاہتا ہے۔

#اسی اصول کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کوئی شخص داڑھی نہیں رکھتا یا اسے کم رکھتا ہے تو اس کے بارے میں یہ کہنا کہ “تم اسلام کی ایک قطعی فرض چیز چھوڑ رہے ہو” اس وقت تک درست نہیں جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ اس مسئلے میں وجوب قطعی اور غیر مختلف فیہ ہے۔

#جبکہ حقیقت یہ ہے کہ داڑھی کے حکم میں اہلِ علم کے درمیان قدیم سے اختلاف موجود ہے۔ لہٰذا کسی مسلمان کو محض اس مسئلے کی بنیاد پر برا بھلا کہنا، اس کی تحقیر کرنا یا اسے ایسا احساس دلانا کہ گویا وہ اسلام کی کسی متفق علیہ فرض چیز کا تارک ہے، مناسب نہیں۔ اگر کوئی شخص داڑھی کے وجوب کا قائل ہے تو وہ حکمت، محبت اور خیر خواہی کے ساتھ اس کی ترغیب دے سکتا ہے، لیکن ترغیب اور تحقیر میں بہت بڑا فرق ہے۔ دعوت کا مقصد انسان کو اللہ کے قریب کرنا ہے، اسے اپنے آپ سے دور کرنا نہیں۔

#اسلامی معاشرے کی خوب صورتی یہ ہے کہ لوگ اپنے فقہی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اگر ہر شخص یہ اصول بنا لے کہ صرف میری فقہی تعبیر درست ہے اور جو مجھ سے مختلف ہے وہ قابلِ ملامت ہے، تو مسلمانوں کے درمیان اجتماعی زندگی دشوار ہوجائے گی۔ فقہی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ائمۂ اربعہ اور ان کے پیروکاروں کے درمیان بہت سے فروعی مسائل میں اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے علم اور دیانت کا احترام موجود تھا۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ نمازیں پڑھتے، معاملات کرتے، علم حاصل کرتے اور باہمی تعلقات قائم رکھتے تھے۔ اس لیے ہمیں فروعی اختلاف کو دین کے بنیادی مقاصد پر غالب نہیں آنے دینا چاہیے۔

مثلاً بعض علاقوں کے علماء بعض غذاؤں یا استعمال کی چیزوں کو مکروہ یا حرام سمجھتے ہیں، جبکہ دوسرے علاقوں کے علماء انہیں اس درجے میں نہیں رکھتے۔ برصغیر کے بعض علماء پان استعمال کرتے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے بعض علماء اسے مکروہ یا حرام سمجھتے ہیں۔ اس اختلاف کی وجہ سے نہ ایک فریق دوسرے کو دین سے خارج سمجھتا ہے اور نہ اسے برا بھلا کہنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ہر شخص اپنے علم، اپنے فقہی مکتب اور اپنے اطمینان کے مطابق جس قول کو درست سمجھتا ہے، اس پر عمل کرتا ہے اور دوسرے کے لیے بھی اس کے معتبر قول پر عمل کرنے کی گنجائش رکھتا ہے۔ یہی طرزِ عمل داڑھی کے مسئلے میں بھی اختیار کیا جانا چاہیے۔

لہٰذا اس مسئلے میں متوازن بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی داڑھی بلا شبہ آپ کی سنت اور مبارک طریقۂ زندگی کا حصہ ہے، اور اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس سنت کے شرعی درجے کے تعین میں فقہاء کے درمیان معتبر اختلاف موجود ہے۔ بعض علماء اسے واجب قرار دیتے ہیں، بعض سنت یا مستحب کہتے ہیں، اور بعض معاصر اہلِ علم اسے مباح امورِ عادات میں شمار کرتے ہیں۔ اسی طرح اس کی مخصوص مقدار کے بارے میں بھی اختلاف ہے؛ بعض فقہاء نے ایک مشت کو معیار قرار دیا ہے، جبکہ دوسرے اہلِ علم نے اس کے لیے کوئی متعین شرعی مقدار تسلیم نہیں کی اور عرف کو بنیاد بنایا ہے۔

پس جو شخص داڑھی کے وجوب کا قائل ہے، اسے اپنے قول پر پوری دیانت اور اطمینان کے ساتھ عمل کرنا چاہیے؛ جو اسے سنت اور مستحب سمجھتا ہے، وہ سنت کی محبت میں اسے اختیار کرے؛ اور جو معتبر علمی تحقیق کی بنیاد پر اس کے وجوب کا قائل نہیں، اس کے ساتھ بھی مسلمان بھائی کی حیثیت سے حسنِ سلوک اور احترام کا معاملہ کیا جائے۔ اپنے لیے احتیاط اختیار کرنا درست ہے، لیکن اپنی احتیاط کو دوسروں پر شرعی جبر بنانا درست نہیں۔

آخر میں یہ اصول ہمیشہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ جس مسئلے میں امت کا معتبر اجماع ہو، وہاں محض ذاتی پسند کی بنیاد پر اجماع کی مخالفت نہیں کی جاسکتی؛ لیکن جس مسئلے میں ائمۂ دین کے درمیان معتبر اجتہادی اختلاف موجود ہو، وہاں اپنے لیے ایک قول اختیار کرنا اور دوسروں کو ان کے معتبر قول پر عمل کرنے دینا ہی علمی دیانت اور ادبِ اختلاف کا تقاضا ہے۔ داڑھی کا مسئلہ اسی دائرے میں آتا ہے۔ اس لیے اس مسئلے میں ہمیں اپنے اپنے علمی اطمینان کے مطابق عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے لیے وسعتِ قلب، حسنِ ظن، محبت اور احترام کو بھی باقی رکھنا چاہیے۔

اختلافِ رائے کو اختلافِ دل نہ بنایا جائے۔

ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ

Loading