دنیا سے آخرت تک — سورۃ المرسلات کا سفر
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک حقیر قطرے سے انسان تک… پھر غرور کس بات کا؟
کبھی اپنے آپ کو غور سے دیکھا ہے؟
وہ انسان جو کبھی اپنی طاقت پر فخر کرتا ہے، کبھی اپنے مال پر، کبھی اپنی خوبصورتی پر، کبھی اپنی عقل پر اور کبھی اپنی شہرت پر…
وہی انسان جس کی ابتدا ایک ایسی حقیقت سے ہوئی جسے وہ خود بیان کرنا بھی پسند نہیں کرتا۔
پھر یہ غرور کہاں سے آگیا؟
ہم اپنی زندگی میں اتنی چیزیں حاصل کر لیتے ہیں کہ آہستہ آہستہ ہمیں اپنی اصل بھولنے لگتی ہے۔
گھر مل جاتا ہے تو لگتا ہے ہم محفوظ ہیں۔
دولت مل جاتی ہے تو لگتا ہے ہم طاقتور ہیں۔
علم مل جاتا ہے تو لگتا ہے ہم دوسروں سے بہتر ہیں۔
شہرت مل جاتی ہے تو لگتا ہے ہماری کوئی خاص حیثیت ہے۔
لیکن قرآن انسان کو ایک ایسی جگہ واپس لے جاتا ہے جہاں اس کا غرور خود بخود خاموش ہونے لگتا ہے:
اس کی ابتدا کہاں سے ہوئی تھی؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
ترجمہ:
“کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟ پھر اسے ایک محفوظ جگہ میں رکھا، ایک مقررہ مدت تک۔ پھر ہم نے اندازہ مقرر کیا، اور ہم کیا ہی خوب قدرت رکھنے والے ہیں۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔”
یہ آیات انسان کو اس کی ابتدا یاد دلا رہی ہیں۔
اور شاید اس لیے کہ انسان جب اپنی ابتدا بھولتا ہے تو اپنی حقیقت بھی بھولنے لگتا ہے۔
ایک قطرہ… اور پھر ایک مکمل انسان
انسان اپنے آپ کو دیکھتا ہے تو اسے ایک مکمل شخصیت نظر آتی ہے۔
آنکھیں۔
کان۔
دماغ۔
دل۔
ہاتھ۔
پاؤں۔
زبان۔
سوچنے کی صلاحیت۔
فیصلہ کرنے کی طاقت۔
احساسات۔
خواہشات۔
یادداشت۔
اور ایک ایسی عقل جو پوری دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔
لیکن قرآن پوچھتا ہے:
یہ سب کہاں سے آیا؟
وہ انسان جو آج کائنات کے راز سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے، کبھی خود ایک نہایت ابتدائی حالت میں تھا۔
اس کے پاس نہ دولت تھی، نہ شہرت۔
نہ عہدہ تھا، نہ کوئی شناخت۔
نہ اس نے اپنے لیے کچھ منتخب کیا تھا، نہ وہ اپنی پیدائش کا فیصلہ کر سکتا تھا۔
اسے وجود دیا گیا۔
اور یہی لفظ انسان کے اندر ایک بہت بڑی حقیقت پیدا کرتا ہے:
میں خود سے نہیں آیا۔
میرا وجود میری اپنی تخلیق نہیں۔
میری زندگی میری ملکیت نہیں۔
میری طاقت میری مستقل طاقت نہیں۔
میں ایک مخلوق ہوں۔
اور مخلوق جتنی بھی بڑی ہوجائے، خالق نہیں بن سکتی۔
انسان کی اصل بھول کیا ہے؟
انسان کی اصل بھول صرف یہ نہیں کہ وہ اللہ کو بھول جاتا ہے۔
کبھی کبھی انسان اللہ کو مانتا بھی ہے، لیکن اپنی زندگی ایسے گزارتا ہے جیسے اسے اپنے وجود کا کوئی جواب نہیں دینا۔
وہ نماز پڑھتا ہے مگر معاملات میں اللہ کو بھول جاتا ہے۔
وہ قرآن پڑھتا ہے مگر اپنی خواہش کے سامنے حق چھوڑ دیتا ہے۔
وہ اللہ کی نعمتیں مانتا ہے مگر نعمت دینے والے کو اپنی ترجیحات میں پیچھے کر دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انسان کو بار بار اس کی ابتدا یاد دلائی جاتی ہے۔
جو اپنی ابتدا کو پہچان لے، وہ اپنی حیثیت بھی پہچان لیتا ہے۔
“ماءٍ مَّهِينٍ” — انسان کے غرور کے لیے ایک آئینہ
قرآن انسان کو اس کے آغاز کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
یہ تحقیر کے لیے نہیں بلکہ غرور توڑنے کے لیے ہے۔
انسان کو اپنی پیدائش پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیے۔
بلکہ اسے اس بات پر حیران ہونا چاہیے کہ اللہ نے ایک معمولی آغاز سے اسے شعور، عقل، احساس اور اختیار عطا کیا۔
یہی تو قدرت ہے۔
انسان اپنی ابتدا نہیں بنا سکتا تھا، لیکن اللہ نے اسے ابتدا سے اٹھا کر شعور رکھنے والی مخلوق بنا دیا۔
پھر انسان اسی شعور کو اپنے خالق سے دوری کے لیے استعمال کرے تو اس سے بڑا تضاد کیا ہوگا؟
جس عقل سے وہ کائنات کو سمجھتا ہے، اسی عقل سے اسے اپنے خالق کو پہچاننا چاہیے۔
جس زبان سے وہ ہزاروں الفاظ بولتا ہے، اسی زبان سے اسے اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
جس دل میں محبت کی صلاحیت ہے، اسی دل میں اللہ کی یاد بھی ہونی چاہیے۔
ایک محفوظ جگہ — زندگی اتفاق نہیں
اللہ فرماتے ہیں:
فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ
“پھر اسے ایک محفوظ جگہ میں رکھا۔”
انسان کی پیدائش میں ایک ترتیب ہے۔
ایک مدت ہے۔
ایک نظام ہے۔
ایک حفاظت ہے۔
ایک تقدیر ہے۔
یہ سب انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ اس کی زندگی بے مقصد اور بے ترتیب حادثہ نہیں۔
ہم اپنی زندگی میں بہت کچھ اتفاق سمجھ لیتے ہیں۔
لیکن قرآن بار بار انسان کو اللہ کی قدرت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
تمہاری پیدائش۔
تمہاری نشوونما۔
تمہاری زندگی۔
تمہاری صلاحیتیں۔
تمہاری سانسیں۔
یہ سب تمہارے اختیار سے باہر کی حقیقتیں ہیں۔
تو پھر جو شخص اپنی پیدائش کا بھی مالک نہیں، وہ اپنی زندگی پر مکمل اختیار کا دعویٰ کیسے کرسکتا ہے؟
“ایک مقررہ مدت تک”
پھر فرمایا:
إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ
“ایک مقررہ مدت تک۔”
یہاں بات صرف پیدائش کی نہیں رہتی۔
یہ پوری زندگی کی طرف اشارہ بن جاتی ہے۔
انسان دنیا میں آتا ہے۔
ایک مدت گزارتا ہے۔
پھر چلا جاتا ہے۔
کوئی بچپن میں چلا جاتا ہے۔
کوئی جوانی میں۔
کوئی بڑھاپے میں۔
لیکن ہر انسان کے لیے ایک حقیقت مشترک ہے:
اس کی مہلت محدود ہے۔
ہم اپنی عمر کو سالوں میں دیکھتے ہیں۔
اللہ کے نظام میں ہماری زندگی ایک مقررہ مہلت ہے۔
اور یہی تصور زندگی کو سنجیدہ بناتا ہے۔
اگر وقت لامحدود ہوتا تو تاخیر کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔
اگر زندگی کبھی ختم نہ ہوتی تو توبہ کو مؤخر کرنا نقصان نہ ہوتا۔
لیکن جب مہلت محدود ہے تو ہر دن کی اپنی قیمت ہے۔
آج کا دن واپس نہیں آئے گا
ہم اکثر کہتے ہیں:
“کل سے بدل جاؤں گا۔”
“اگلے ہفتے سے نماز کی پابندی کروں گا۔”
“رمضان میں توبہ کروں گا۔”
“جب حالات بہتر ہوں گے تو قرآن پڑھوں گا۔”
“جب مصروفیات کم ہوں گی تو اللہ کے قریب ہوجاؤں گا۔”
لیکن قرآن انسان کو یاد دلاتا ہے:
مہلت مقرر ہے۔
ہمیں یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ ہم اپنی زندگی کی آخری تاریخ خود طے کریں۔
اسی لیے نیکی کے لیے بہترین وقت “بعد میں” نہیں۔
بہترین وقت وہ ہے جو ابھی ہمارے پاس ہے۔
اللہ کی قدرت صرف انسان کو بنانے میں نہیں
پھر فرمایا:
فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ
“پھر ہم نے اندازہ مقرر کیا، اور ہم کیا ہی خوب قدرت رکھنے والے ہیں۔”
یہاں انسان کو اپنی کمزوری کے ساتھ اللہ کی قدرت دکھائی جاتی ہے۔
انسان محدود ہے۔
اللہ کی قدرت محدود نہیں۔
انسان بھولتا ہے۔
اللہ نہیں بھولتا۔
انسان غلط اندازہ لگا سکتا ہے۔
اللہ کا فیصلہ کامل ہے۔
انسان مستقبل نہیں جانتا۔
اللہ ہر چیز کے علم کا مالک ہے۔
یہ فرق سمجھ لینا انسان کے اندر توکل اور عاجزی پیدا کرتا ہے۔
پھر انسان غرور کیوں کرتا ہے؟
یہ شاید اس قسط کا سب سے اہم سوال ہے۔
اگر تم خود اپنی پیدائش کے فیصلے میں شریک نہیں تھے…
اگر تم اپنی شکل خود منتخب نہیں کرسکے…
اگر تم اپنی عمر خود مقرر نہیں کرسکتے…
اگر تم اپنی موت کو روک نہیں سکتے…
اگر تم اپنی سانسوں کے نظام کو خود نہیں چلا رہے…
تو پھر غرور کس بات کا؟
انسان کے پاس جو کچھ ہے، وہ عطا ہے۔
عطا پر شکر کیا جاتا ہے، تکبر نہیں۔
اگر اللہ نے عقل دی ہے تو شکر کرو۔
اگر مال دیا ہے تو شکر کرو۔
اگر علم دیا ہے تو شکر کرو۔
اگر خوبصورتی دی ہے تو شکر کرو۔
اگر طاقت دی ہے تو شکر کرو۔
کیونکہ نعمت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ تمہارے پاس کتنی ہے۔
اصل امتحان یہ ہے کہ نعمت ملنے کے بعد تمہارا دل کیسا ہوگیا؟
علم بڑھا یا عاجزی؟
آج انسان نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔
ہم خلاء تک پہنچ گئے۔
سمندروں کی گہرائیوں تک پہنچ گئے۔
دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لمحوں میں رابطہ کر لیتے ہیں۔
لیکن علم بڑھنے کے ساتھ اگر عاجزی نہ بڑھے تو علم انسان کو اللہ کے قریب کرنے کے بجائے غرور کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
قرآن کا مطلوب انسان وہ نہیں جو صرف بہت کچھ جانتا ہو۔
قرآن کا مطلوب وہ انسان ہے جو جاننے کے بعد پہچانتا بھی ہو۔
اپنی حقیقت پہچانے۔
اپنی کمزوری پہچانے۔
اپنے رب کی قدرت پہچانے۔
اپنی ذمہ داری پہچانے۔
اور اپنے انجام کو پہچانے۔
زندگی صرف وجود نہیں، امانت ہے
اللہ نے ہمیں صرف پیدا نہیں کیا۔
ہمیں شعور دیا۔
اختیار دیا۔
حق اور باطل میں فرق سمجھنے کی صلاحیت دی۔
پھر ہمیں ایک محدود مدت دی۔
تو زندگی محض “زندہ رہنے” کا نام نہیں۔
زندگی ایک امانت ہے۔
ہم اپنے وقت کے امین ہیں۔
اپنی زبان کے امین ہیں۔
اپنی آنکھوں کے امین ہیں۔
اپنی صلاحیتوں کے امین ہیں۔
اپنے مال کے امین ہیں۔
اپنے رشتوں کے امین ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر اپنے ایمان کے امین ہیں۔
یہ احساس انسان کی زندگی بدل سکتا ہے۔
پھر وہ ہر کام سے پہلے سوچتا ہے:
“کیا میں اس امانت کا حق ادا کر رہا ہوں؟”
اگر ابتدا اللہ کے ہاتھ میں تھی تو انجام بھی اسی کے علم میں ہے
انسان اپنی پیدائش پر اختیار نہیں رکھتا۔
اور موت پر بھی مکمل اختیار نہیں رکھتا۔
پھر اس کے درمیان کی زندگی بھی مکمل طور پر اس کے اختیار میں نہیں۔
یہ احساس انسان کو بے بس کرنے کے لیے نہیں۔
بلکہ اسے اللہ پر اعتماد سکھانے کے لیے ہے۔
کوشش تمہاری ذمہ داری ہے۔
نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے۔
تمہیں نیکی کی طرف چلنا ہے۔
تمہیں غلطی کے بعد واپس آنا ہے۔
تمہیں اپنے نفس سے لڑنا ہے۔
تمہیں حق کا ساتھ دینا ہے۔
اور پھر اپنے رب پر بھروسہ کرنا ہے۔
اپنے جسم کو دیکھو… پھر اپنے رب کو یاد کرو
کبھی تنہائی میں چند لمحوں کے لیے اپنے ہاتھوں کو دیکھیں۔
یہ ہاتھ خود نہیں بنے۔
اپنی آنکھوں کو دیکھیں۔
یہ آنکھیں خود نہیں بنیں۔
اپنی سانس محسوس کریں۔
آپ ہر سانس خود نہیں چلا رہے۔
اپنے دل کی دھڑکن محسوس کریں۔
آپ ہر دھڑکن کا حکم خود نہیں دیتے۔
پھر اپنے آپ سے کہیں:
“میں خود اپنی تخلیق نہیں ہوں۔ مجھے پیدا کیا گیا ہے۔ مجھے مہلت دی گئی ہے۔ اور ایک دن مجھے واپس جانا ہے۔”
شاید یہی چند جملے انسان کے اندر وہ عاجزی پیدا کردیں جو لمبی تقریریں نہیں پیدا کرتیں۔
اصل مسئلہ غرور نہیں، بھول ہے
انسان جب اپنی اصل بھول جاتا ہے تو غرور پیدا ہوتا ہے۔
جب اپنی محدودیت بھولتا ہے تو تکبر پیدا ہوتا ہے۔
جب اپنی مہلت بھولتا ہے تو غفلت پیدا ہوتی ہے۔
جب اپنے انجام کو بھولتا ہے تو گناہ معمولی لگنے لگتا ہے۔
اور جب اپنے رب کو پہچان لیتا ہے تو دل میں ایک عجیب توازن پیدا ہوتا ہے:
نعمت ملے تو شکر۔
مشکل آئے تو صبر۔
غلطی ہو تو توبہ۔
کامیابی ملے تو عاجزی۔
مستقبل کی فکر ہو تو توکل۔
یہی وہ زندگی ہے جس میں انسان دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کو نہیں بھولتا۔
ایک قطرے سے انسان… اور انسان سے کیا بننا ہے؟
یہ قسط ہمیں صرف یہ نہیں بتاتی کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔
یہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ:
ہمیں کہاں جانا ہے؟
ایک معمولی آغاز سے اللہ نے ہمیں انسان بنایا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس انسان نے اپنی زندگی میں کیا انتخاب کیا؟
کیا وہ اپنے رب کو پہچان سکا؟
کیا وہ اپنی نعمتوں پر شکر گزار ہوا؟
کیا اس نے اپنی مہلت کو ضائع ہونے سے بچایا؟
کیا اس نے اپنی خواہش سے اوپر اللہ کی رضا کو رکھا؟
کیا وہ اس دنیا سے ایسا گیا کہ اس کا رب اس سے راضی ہو؟
اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کتنا بڑا بن گیا؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کے سامنے کتنا جھک گیا۔
آج کی اصلاح
آج اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھنے سے پہلے اپنی ابتدا یاد کریں۔
آج اپنی نعمتوں پر فخر کرنے سے پہلے نعمت دینے والے کو یاد کریں۔
آج وقت ضائع کرنے سے پہلے یاد کریں کہ یہ وقت دوبارہ نہیں ملے گا۔
آج کسی کمزور انسان کو حقیر سمجھنے سے پہلے یاد کریں کہ تمہاری اپنی ابتدا بھی کمزوری سے ہوئی تھی۔
اور آج اللہ سے دوری محسوس ہو تو یہ نہ سوچیں کہ واپسی مشکل ہے۔
جس رب نے تمہیں عدم سے وجود دیا، وہ تمہاری ٹوٹی ہوئی زندگی کو بھی سنوار سکتا ہے۔
بس شرط یہ ہے کہ انسان اپنی حقیقت پہچان کر اپنے رب کی طرف واپس آ جائے۔
تدبر کا سوال
اگر آپ کو ہر روز اپنی اصل اور اپنی محدود مہلت یاد رہے، تو آپ کے رویّے، فیصلے اور ترجیحات میں کیا بدل سکتا ہے؟
اگر یہ تحریر دل کو چھو گئی ہے تو پسند کریں، دوسروں تک پہنچائیں اور ہمارے صفحے سے جڑ جائیں۔
اور تبصرے میں ضرور بتائیں: کیا آپ نے کبھی اپنی زندگی کی سب سے بڑی نعمت کو صرف “اپنا حق” سمجھ لیا ہے؟
اگلی قسط کے لیے ہمارے ساتھ رہیے۔
![]()

