واحد فلمی ہیرو جو تھا نہیں
ہے اور رہے گا ۔۔۔۔۔۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آج 2 اکتوبر لیجنڈری ہیرو وحید مراد کی 88 ویں سالگرہ کا دن ہے۔ اگر آج ہم سب کے ویدو حیات ہوتے تو کیسے دکھتے؟ آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے یہ سب کچھ آسان بنادیا ہے۔
لیجنڈری ہیرو کی اصطلاح پر اگر کوئی فلمی ہیرو پورا اترتا ہے تو وہ وحید مراد ہے۔
لیجنڈری کے معنی ہی افسانوی کردار ہیں اور وحید مراد سے ذیادہ افسانوی شہرت کا حامل کوئی پاکستانی ہیرو نہیں رہا۔
وحید مراد کی فلمیں، کردار، اسکینڈلز، افواہیں، ڈومیسٹک لائف سمیت ہر ایک ادا زیربحث رہی اور وہ پھر یوں اچانک دنیا سے جانا بھی ایک عہد کا اختتام تو ایک نئے فسانے کا آغاز ثابت ہوا۔
مجھ جیسے لاکھوں مداح ہیں جنہیں وحید مراد سے شناسائی ان کے انتقال کے بعد ہوئی۔ ہم نے وہ دور جیا جب وحید اس دنیا میں نہیں تھے لیکن ان کے گیتوں سے ہماری سماعتوں کو تسکین ملی، ان کے مکالمے ہمارے لبوں پر مچلے اور ان کا اسٹائل منترا ہمارے دل و دماغ پر چھایا رہا۔
60 اور 70 کی دہائی کی لڑکیاں وحید مراد کی تصویریں اپنے پرس میں رکھا کرتی تھیں اور ڈائجسٹ، ناول یا نصابی کتابوں کی آڑ میں اس کا دیدار کیا کرتی تھیں۔
پاکستان کی ایک جنریشن نے وہ دور بھی دیکھا جب سیلونز پر ایلوس پریسلے کے ساتھ وحید مراد کا ہیئر اسٹائل آویزاں ہوتا تھا اور نوجوان بڑے شوق سے وحید کا ہیئر اسٹائل کاپی کرتے۔
وحید مراد کی افسانوی شہرت کا اس سے بڑ ثبوت کیا ہوگا کہ آج بھی ان کی برسی اور سالگرہ پر تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے اور انتقال کے 43 برس بعد بھی وحید کے مداح انہیں نہیں بھولے۔
وحید شاید واحد فلمی ہیرو ہے جو تھا نہیں بلکہ ہے اور رہے گا۔
@followers
![]()