علم کی ذمہ داری
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )علم انسان کو صرف معلومات نہیں دیتا، ذمہ داری بھی دیتا ہے۔ جتنا انسان حقیقت کو جانتا ہے، اتنا ہی اس پر لازم ہوتا جاتا ہے کہ وہ اپنے علم کے مطابق سوچے، فیصلہ کرے اور عمل کرے۔
قرآن کا اصول ہے:
﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولًا﴾
“جس بات کا تمہیں علم نہیں، اس کے پیچھے نہ پڑو؛ بے شک کان، آنکھ اور دل، سب کے بارے میں پوچھا جائے گا۔”
(الإسراء: ۳۶)
علم کی پہلی ذمہ داری تحقیق ہے۔ جو بات معلوم نہ ہو، اسے معلوم ظاہر نہ کیا جائے۔ خاص طور پر دین، طب، قانون یا کسی حساس معاملے میں اندازے کو حقیقت بنا کر پیش کرنا دوسروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
دوسری ذمہ داری عمل ہے۔ علم اگر انسان کے اپنے کردار کو نہ بدلے تو اس میں ایک بنیادی خلا باقی رہ جاتا ہے۔ جو شخص سچائی کی فضیلت جانتا ہے مگر خود جھوٹ بولتا ہے، مسئلہ اس کے علم کی کمی نہیں بلکہ علم کے تقاضے سے فرار ہے۔
تیسری ذمہ داری امانت ہے۔ ہر علم ہر شخص کو ہر وقت منتقل کرنا ضروری نہیں، مگر جو بات دوسروں تک پہنچائی جائے وہ درست، واضح اور مناسب ہو۔ قرآن اہلِ علم کو حق کو چھپانے سے بھی متنبہ کرتا ہے۔
چوتھی ذمہ داری عاجزی ہے۔ علم بڑھنے کے ساتھ یہ شعور بھی بڑھنا چاہیے کہ انسان کا علم محدود ہے:
﴿وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾
“تمہیں علم میں سے بہت تھوڑا ہی دیا گیا ہے۔”
(الإسراء: ۸۵)
اور پانچویں ذمہ داری اثر کی ذمہ داری ہے۔ عالم، استاد، لکھنے والا یا کوئی بھی صاحبِ علم جب اپنی بات دوسروں تک پہنچاتا ہے تو اس کے الفاظ لوگوں کے خیالات اور فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؛ اس لیے علم کو سنسنی، تعصب یا ذاتی مفاد کا آلہ بنانا اس کی امانت کے خلاف ہے۔
یوں علم کا سوال صرف یہ نہیں کہ “میں کیا جانتا ہوں؟” بلکہ یہ بھی ہے:
“جو میں جانتا ہوں، اس کے بارے میں میری ذمہ داری کیا ہے؟”
حقیقی علم انسان کو اپنے مقام کا احساس دلاتا ہے، مگر اس کے ساتھ جوابدہی کا احساس بھی پیدا کرتا ہے۔ یہی علم کو محض ذہنی قوت کے بجائے امانت بنا دیتا ہے۔
اور جب علم ذمہ داری بن جائے تو اگلا مرحلہ یہ ہے کہ انسان اسے حاصل کرنے کے لیے کس منہج اور کن معتبر ذرائع پر اعتماد کرے۔
![]()






