شباب کی باتیں۔۔۔ کتنا مشکل ہے محبت کی کہانی لکھنا ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔    مشتاق شباب

*شباب کی باتیں*

*کتنا مشکل ہے محبت کی کہانی لکھنا*

  ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ کتنا مشکل ہے محبت کی کہانی لکھنا ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔    مشتاق شباب) ایک انگریزی نظم یاد آگئی ہے

” Abu Ben Adham” لے ہنٹ (Leigh Hunt)  کی لکھی ہوئی یہ نظم ہم نے ساٹھ 60ء کی دہائی میں اپنے میٹرک کلاس کے انگریزی سلیبس میں پڑھی تھی۔  اس کی مختصر کہانی یہ ہے کہ ایک رات ا بو بن ادھم ،  اچانک نیند سے بیدار ہوتے ہیں، کمرے میں اس قدر روشنی پھیلی ہوتی ہے کہ چاروں جانب چکاچوند سے آنکھیں خیرہ ہو رہی ہوتی ہیں،  بن ادھم کو کمرے کی کھڑکی کے پاس ایک نورانی چہرے والی مخلوق (فرشتہ)  دکھائی دیتا ہے جو ایک رجسٹر میں کچھ لکھ رہا ہے۔ وہ اس سے پوچھتا ہے یہ کیا ہے؟ فرشتہ جواب دیتا ہے کہ یہ ان لوگوں کے نام ہیں جو اللہ سے محبت کرتے ہیں.  ابو بن ادھم پوچھتا ہے کیا ان میں میرا نام بھی شامل ہے؟  فرشتہ جواب دیتا ہے،  نہیں اس فہرست میں تمہارا نام  نہیں ہے۔  ابو بن ادھم،  جو ایک انتہائی نیک، پارسا اور بزرگ صوفی ہے،  یہ جواب سن کر قدر مایوس ہو جاتا ہے۔  پھر فرشتے کو مخاطب کر کے کہتا ہے "آپ میرا نام ان لوگوں میں شامل کر دیں جو اللہ کے بندوں سے پیار کرتے ہیں”،  فرشتہ رجسٹر میں اندراج کرتا ہے اور غائب ہو جاتا ہے۔

اگلی رات ایک بار پھر ابو بن ادھم کی آنکھ تیز روشنی کی وجہ سے کھل جاتی ہے،  تو اسے وہی فرشتہ نظر آتا ہے،  جو اسی طرح رجسٹر میں اندراج کرتا دکھائی دیتا ہے۔  ابو بن ادھم پھر پوچھتا ہے،  "یہ فہرست کن لوگوں کی ہے؟”  فرشتہ جواب دیتا ہے،  یہ ان لوگوں کے نام ہیں جن کو خود اللہ تعالی’ محبوب رکھتا ہے اور ان سے پیار کرتا ہے.  ابو بن ادھم کا تجسس بڑھتا ہے اور وہ رجسٹر پر نگاہ ڈالتا ہے تو وہاں اللہ کے محبوب بندوں میں سب سے اوپر ابو بن ادھم کا نام لکھا ہوتا ہے۔  اپنا نام اللہ کے محبوب اور مقرب بندوں میں دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔  اس کے ساتھ ہی فرشتہ رجسٹرڈ بند  کرکے غائب ہو جاتا ہے۔  اس حوالے سے ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

*خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں*

 *بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے*

*میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو*

*خدا کے بندوں سے پیار ہوگا*

جہاں تک خدا کے بندوں سے پیار کا تعلق ہے،  اس کو روحانی اقدار کے حوالے سے جانچنا ہی اصل محبت ہے۔  اور ایک فارسی شاعر کے مطابق اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ

 *ایں سعادت بزور بازو نیست*

*تا نہ بخشد خدائے بخشندہ*

اللہ کے بندوں سے محبت،  اللہ کی ذات سے قربت کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔  ایسے ہی لوگ خدمت خلق کے جذبے سے سرشار کر دیئے جاتے ہیں اور وہ کسی حرص و طمع کی پرواہ کئے بغیر،  اس للہی جذبے سے منور راہوں کے مسافر بن کر،  خدمت خلق میں مگن ہو جاتے ہیں۔

 ڈاکٹر خالد مفتی کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے جن کے،  اللہ کے بندوں سے محبت کے جذبات بے پایاں کے صیغے میں ڈھل چکے ہیں۔ اور جس کی صورتحال مجروح سلطان پوری کے اس شعر کی مانند ہو چکی ہے کہ

*میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر*

 *لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا*

لگ بھگ 1993ء کے دور میں بطور ایک ماہر نفسیات اور معالج ذہنی امراض،  خصوصاً زندگی کی جنگ میں مایوسی کی انتہاؤں کو چھو کر حالات سے فرار اختیار کرنے والوں کو،  نشے میں پناہ ڈھونڈنے سے بچانے،  دوبارہ بھرپور زندگی کی جانب راغب کرنے اور معمول کی زندگی گزارنے کے حوالے سے مایوس نسل کو نشے کی لت سے باہر لانے کے لیے،  ڈاکٹر خالد مفتی نے چند اور خدا ترس لوگوں کے ساتھ مل کر *گرین دسمبر موومنٹ*  کے نام سے جس فلاحی تنظیم کی بنیاد رکھی تھی،  وہ آج *ہورائزن*  کے نام سے ایک ایسے تناور اور چھتنار درخت کی صورت اختیار کر چکی ہے،  جس کے سائے میں نہ صرف پشاور اور گرد و نواح،  بلکہ صوبے کے مختلف اضلاع کے علاوہ ہمسایہ ملک افغانستان میں بھی جنگ سے متاثرہ خاندانوں کے نفسیاتی مسائل کے علاج کے لیے شاخیں قائم کر کے سرگرمی سے کام جاری ہے۔  جبکہ اب "ہورائزن”  کا قافلہ ایک کارواں کی صورت میں عالمی سطح پر بھی اپنی اہمیت واضح کرتا چلا جا رہا ہے۔

*کتنا مشکل ہے محبت کی کہانی لکھنا*

*جیسے پانی پہ ہو پانی ہی سے پانی لکھنا*

عالم انسانیت سے محبت کی یہ داستان کبھی کبھی دوہرانا کس قدر ضروری ہے،  یعنی

*گاہے گاہے باز  خوا*

 *ایں  قصہء پارینہ را*

گزشتہ روز ہورائزن کے انتخابات کے بعد نئی مجلس عاملہ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے،  ڈاکٹر خالد مفتی نے نہ صرف ہورائزن کے قیام کے پس منظر پر روشنی ڈالی،  ان برسوں کے دوران جو کارنامے ہورائزن نے انجام دیئے، ان سے مجلس عاملہ کو آگاہ کیا،  بلکہ آنے والے برسوں میں ذہنی امراض کے تدارک اور مریضوں کی فلاح و بہبود کے لیے جو منصوبے تشکیل دیے گئے ہیں،  ان کو عملی صورت دینے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر خالد مفتی نے عالمی حالات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے ذہنی مسائل سے دوچار لوگوں کی مشکلات کا ذکر کیا اور کہا کہ بین الاقوامی سطح پر جو اقتصادی دباؤ اس وقت بڑھ رہا ہے، اور جس کی وجہ سے خصوصاً نئی نسل کے اذہان جس طرح الجھ رہے ہیں اور حالات کے جبر کے تحت نفسیاتی مسائل میں مبتلا ہو رہے ہیں،  ان کا تقاضا ہے کہ ماہرین نفسیات اور دیگر متعلقہ افراد ان عوارض کے علاج کے لیے ابھی سے سوچیں۔  انہوں نے واپس جانے والے افغان مہاجرین جو ایک بار پھر پاکستان میں لوٹ کر آرہے ہیں ان کے علاوہ،  سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں حصول رزق کے لیے مقیم پاکستانیوں کی واپسی سے پیدا ہونے والے مسائل کو بھی مستقبل کے حوالے سے خاصہ چشم کشا قرار دیا اور کہا کہ آگے چل کر یہ مسئلہ ایک ہوشربا صورتحال میں ڈھل سکتا ہے اور ذہنی امراض میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔  اس لیے ماہرین نفسیات کو ابھی سے اس جانب اپنی بھرپور توجہ مبذول کرنا پڑے گی۔  ڈاکٹر خالد مفتی نے ہورائزن کی ذیلی تنظیم "سنڈیکیٹ آف رائٹرز”  کی بھرپور پذیرائی کی جانب توجہ دلائی تاکہ ادب کی ترویج سے بھی معاشرے میں مثبت رجحانات پنپ سکیں۔  اس حوالے سے ناصر علی سید کی ادارت میں شائع ہونے والے رسالے "احساس”  کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا بھی اعلان کیا، جسے ممبران مجلس عاملہ نے بہت سراہا ۔

*دل شکستہ کوئی ایسا ہنرمند بتا ؟*

*جس نے ٹوٹے ہوئے شیشوں کی مرمت کی ہو*

Loading