اولیاء اللہ اور راز کرامت

اولیاء اللہ اور راز کرامت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مسلمانوں اور مومنین کو یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ کہاں ہیں  تمہارے بابے اور کہاں ہیں انکی کرامات وہ آج کیوں اپنی کرامات نہیں دیکھاتے

اصل میں راز یہ ہے کہ کرامت کوئی منزل نہیں کوئی ولایت کااعلی درجہ نہیں یہ وہ معملات ہیں جو اہل کرامات اللہ تعالیٰ کے ساتھ رکھتے ہیں یہ کوئی اخیر منزل نہیں یہ ابتدائی مرحلے ہیں اب اولیاء اللہ اس دور اور منزل سے آگے بڑھ چکے ہیں اسی راز کو

اب لوگ ہوس پرست نفس پرست اور لمبی لمبی امیدوں میں گرفتار ہیں نفس امارہ کا شکار ہیں کینہ بغض نفرت تعصب سے ہی جان نہیں چھوٹتی اولیاء اللہ اصلاح امت میں لگے ہوئے ہیں مگر منکر ابی تک ہزار سال پیچھے کی بات کرتے ہیں انہیں اب تنگ نظری اور مومنین اور اولیاء اللہ سے بد گمانی سے نکلنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے

وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنۢ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ۝

ترجمہ:

“اور جو لوگ ان کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے، اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ۔ اے ہمارے رب! بے شک تو نہایت شفیق، بہت رحم فرمانے والا ہے۔”

📖 سورۃ الحشر: 10

یہ آیت خاص طور پر اس بات کی خوبصورت دلیل ہے کہ بعد کے اہلِ ایمان اپنے سے پہلے گزرنے والے مومنین کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور دل میں ان کے خلاف بغض و کینہ رکھنے سے پناہ مانگتے ہیں۔

اس آیت میں قیامت تک کے مومنین کی صفات کا ذکر کیاگیا ہے کہ کہ تمام مومنین وہ چاہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہوں یا اولیاء اللہ ہوں یاعام مومنین سب کے بارے حسن ظن رکھنا ہم پر واجب اور مومن ہونے کی علامت ہے

امام بقلی نے اپنی تفسیر میں ظاہر کیا کہ اولیاء کرام کی کتنی اقسام ہیں یہ کرامات والی قسم اول ہے باقی اس سے اوپر اور بڑے درجے اور مقامات ہیں جہاں کرامت پیچھے رہ جاتی ہے

تفسير عرائس البيان في حقائق القرآن/ البقلي (متوفی 606 هجری ـ) مصنف اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں

قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾

“کہہ دیجیے: اے اللہ! اے بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہتا ہے بادشاہی عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے بادشاہی چھین لیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔”

پھر فرمایا:

﴿لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ﴾

“میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔”

اولیاء کو عطا کیا جانے والا “ملک”

رہی وہ ملکیت جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کو خاص فرمایا، تو

 وہ چار قسموں پر ہے۔

پہلی قسم: کرامات اور آیات

اس کی ایک قسم کرامات اور نشانیاں ہیں۔

مثلاً:

اشیاء کی حقیقتوں کا بدل جانا،

زمین کا ان کے لیے تابع ہوجانا،

دعا کا قبول ہونا،

وغیرہ۔

یہ مرتبہ اہلِ معاملات کے لیے ہے۔

یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعمال، مجاہدات اور طاعات کے ذریعے معاملہ کرتے ہیں۔

دوسری قسم: مقامات

دوسری قسم پہلی سے زیادہ بلند ہے، اور وہ روحانی مقامات ہیں۔

ان میں:

زہد

ورع

تقویٰ

صبر

شکر

توکل

رضا

تسلیم

تفویض( اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرنا)

تقویم(اپنے آپ کو درست اور سیدھا رکھنا)

صدق

اخلاص

احسان

استقامت

اطمینان

شامل ہیں۔

یہ مقام اہلِ درجات کے لیے ہے۔

یعنی ایسے لوگ جو روحانی ترقی کے مختلف درجات طے کرتے ہیں۔

تیسری قسم: احوال

تیسری قسم دوسری سے بھی زیادہ بلند ہے، اور وہ احوال ہیں۔

ان میں:

وجد

مناجات و نجویٰ

مراقبہ

حیا

خوف

امید

محبت

شوق

عشق

سُکر

صحو

شامل ہیں۔

یہ اہلِ احوال کا مقام ہے۔

یعنی وہ لوگ جن کے دل پر اللہ تعالیٰ کی معرفت و محبت کے ایسے احوال وارد ہوتے ہیں جو محض ظاہری عمل سے آگے کی کیفیت رکھتے ہیں۔

چوتھی اور سب سے بلند قسم: معاينات

چوتھی قسم تیسری سے بھی زیادہ بلند ہے۔

یہ ہے:

کشف

مشاہدہ

معرفت

توحید

تفرید

فنا

بقا

اور یہ اہلِ معاينات کا مقام ہے۔

یعنی وہ لوگ جو صوفیانہ اصطلاح میں کشف، مشاہدہ اور معرفت کے بلند مقامات تک پہنچتے ہیں۔

اس تفسیر کا عربی متن

قُلِ ٱللَّهُمَّ مَالِكَ ٱلْمُلْكِ تُؤْتِي ٱلْمُلْكَ مَن تَشَآءُ وَتَنزِعُ ٱلْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُ بِيَدِكَ ٱلْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ }

{ لاَ يَنَالُ عَهْدِي ٱلظَّالِمِينَ } واما الملك الذي خص به اولياؤه فعلى اربعة اقسام قسم منها الكرامات والآيات مثل تقلب الاعيان ولحى الارض واستجاب الدعوة وهو لاهل المعاملات وقسم منها وهو اشرف من الاول وهو المقامات مثل الزهد والورع والتقوى والصبر والشكر والتوكل والرضا والتسليم والتفويض والتقويم والصدق والاخلاص والاحسان والاستقامة والطمأنينة وهو لاهل الدرجات وقسم منها وهو اشرف من الثانى هو الوجد والنجوى والمراقبة والحياء والخوف والرجاء والمحبة والشوق والعشق والسكر والصحو وهو لاهل الحالات وقسم منها واشرف من الثالث هو الكشف والمشاهدة والمعرفة والتوحيد والتفريد والفناء والبقاء وهو لاهل المعاينات فهذه الاحوال التى ذكرناها اصل ملك الولاية فمن خص بها فقد بلغ ذروة ملك الازل والابد ومن حرم منها فقد سقط عن حظ الدنيا

Loading