روشنی جو پہلو سے
پھوٹتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )امریکہ میں کم وبیش تین دھائیاں گزارنے کے باوجود اب تک میری رائے امریکی معاشرے خصوصا” امریکن پولیس کے بارے میں بہت اچھی ہے۔ انتہائی انسان دوست ، خوش مزاج اور مدد گار پولیس آفیسر امریکن زندگی کا بہت اہم حصہ ہیں۔ قانون کی پابندی کی امید ہر امریکن شہری سے کی جاتی ہے اور یکساں ہی لاگو ہوتی ہے۔
غالبا” پندرہ سال پہلے بچوں کے اسکول کی باسکٹ بال ٹیم سنسناٹی اوہائیو میں میچ کھیلنے پہنچی اور بچے بہت اچھا کھیل کر کپ جیت لائے۔ ہماری واپسی بہت رات گئے ہوئی تھی اور بہت شدید سردیوں کے دن تھے جب ہم نے مرکزی شاہراہ جس کو انٹرسٹیٹ ( موٹروے ) کہا جاتا ہے وہاں سے شہر کی شاہ راہ کی طرف کا رخ کیا۔ یہ سڑک ان دنوں تازہ تازہ ہی بنی تھی اور سڑکوں کی حالت میں تبدیلی یا اُن میں کوئی بھی بنیادی تبدیلی حد رفتار بدل سکتی ہے۔ کار کو موڑ کر چند سو میٹر کا ہی فاصلہ طے کیا ہو گا کہ پیچھے سے پولیس کار کی سُرخ اور نیلی روشنیاں دکھائی دیں۔ ان حالات میں فورا” کار کو روک دینا بہت اہم ہے کیونکہ کار کو مسلسل چلاتے رہنا قانون کی مزید خلاف ورزی ہے۔ ایک خوش مزاج نوجوان بھاری بھرکم پولیس آفیسر مسکراتی ہوئی ڈرائیور کی طرف کی کھڑکی کی جانب پہنچیں۔ پچھلی سیٹ پر بچوں کو دیکھا اور غالبا” کپ پر بھی نظر پڑی۔ میرا لائسنس اور کار کی رجسٹریشن مانگی اور مجھ سے پُوچھنے لگیں کہ آپ کو اس سے پہلے کبھی ٹکٹ ملی ہے۔ میرے انکار پر بچوں سے گفتگو کرنے لگیں۔ ہنستی مسکراتی ہوئی کہنے لگیں کہ یہاں ہم بڑی مچھلیوں کو پکڑنے بیٹھے ہیں۔ ہمارا آپ کا کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے اور ہنس پڑیں۔ بچوں کو کپ جیتنے پر مبارکباد دی اور میرے کاغذات میرے ہاتھ میں واپس کر دئیے۔ ہم اپنی راہ چل پڑے۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ وہ بچوں کی اور ہماری خوشی خراب نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ بچے اور ہم اپنی خوشی کے ہمراہ گھر پہنچے۔ مجھے یقین ہے کہ مجھے وارننگ تک نہ دینے میں وہ خاتون پولیس آفیسر میرے بچوں سے اُن کے جیتے گئے کپ اور اُن سے وابستہ خوشیوں میں باپ کی پریشانی کا زہر نہیں گھولنا چاہتی تھیں۔ انسانیت کا ایک روشن باب رقم ہوا
آج سے کم و بیش بیس یا بائیس سال پہلے ہم شینن ڈووا آئیووا میں رہتے تھے جہاں نہ ہی کوئی حلال کھانے کی دکان یا حلال گوشت کا سٹور تھا لہذا سودا سلف لینے اوماہا جانا پڑتا تھا۔ واپسی کیلئے بنیادی شاہ راہ یعنی ہائی وے ایک ہی تھی جہاں پولیس کی گشت بہت کم تھی۔ جرائم کا نام و نشان نہیں تھا اور ہم اوماہا آتے جاتے رہتے تھے۔ فیضان ابھی دو یا تین سال کا تھا اور کار سیٹ میں جکڑ دیا جاتا تھا البتہ باقی دونوں بچے سمجھدار تھے۔ ایک مرتبہ اوماہا سے واپسی میری رفتار کچھ تیز تھی اور مجھے پولیس نے روک لیا۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک بچے نے خوف سے رونا شروع کر دیا۔ پولیس آفیسر کی نظر یقیننا” خوف زدہ بچوں پر پڑی اور ایک آدھ نصیحت کا لفظ کہہ کر مجھے جانے دیا۔ نہ کوئی ٹکٹ ملی اور نہ ہی وارننگ دی البتہ چند خوفزدہ بچوں کے باپ کا احترام کیا اور اُن کی خوشگوار یادوں میں کوئی رستا زخم نہیں آیا۔ ہم چند ہی منٹوں میں اپنی راہ پر رواں دواں تھے۔ بیس بائیس سال گزر گئے اور آج بھی کوئی ٹکٹ نہیں ملی لیکن زندگی کی درخشاں یادوں میں اس رحم دل اور انسان دوست پولیس آفیسر کی شبہیہ آج بھی فروزاں ہے۔ ایک باپ کا بچوں کے سامنے عزت اور وقار قائم رہا۔
یہ جو اک روشنی پہلو سے مرے پھوٹتی ہے
یہ وہی زخم ہے جو تو نے لگایا ہوا ہے
۱۹۹۱ میں میں لاہور جنرل اسپتال میں میں بحثیت ہاؤس آفیسر کام کر رہا تھا۔ اُنہی دنوں میرے خالو کے کان میں کچھ تکلیف ہوئی۔ اب نئی نئی ڈاکٹری کی خوشی اور خُمار تھا لہذا انکل کو جنرل اسپتال میں آنے کی دعوت دے ڈالی۔ وہ دن میں کچھ دیر سے آئے لہذا ارادہ کچھ یوں تھا کہ ای این ٹی میں جا کر کسی کی منت سماجت کروں گا۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اُس وقت پروفیسر صاحب خود ہی موجود تھے۔ انہوں نے انکل کا بڑی تفصیل سے معائنہ کیا اور وہ انسانی احترام جس کا میں حقدار تھا وہ بہت فراخدلی سے میرے دامن میں بھر دیا۔ شکریہ سے زیادہ کچھ میرے پاس نہیں تھا لیکن آج جب اُس واقعے کو گزرے پینتیس طویل سال ہو گئے۔ انکل بھی تین چار سال پہلے وفات پا گئے اور ورجینیا میں ہی دفن ہیں لیکن شکرگزاری کا وہ لمحہ جاوداں ہو گیا۔ زندگی کے بوڑھے برگد میں پھلوں سے لدی ہوئی ایک سرسبز دلنواز شاخ آج بھی خوش کُن یادوں میں مہکتی ہے۔
شاید آپ جاننا چاہیں گے کہ پروفیسر صاحب کا کیا نام ہے لیکن مجھے اُن کا نام یاد نہیں البتہ نام میں کیا رکھا ہے۔ بھلا ہر مسحور کُن خوشبو کا بھی کبھی نام ہوا ہے۔ ایک نوجوان کو ایسا احترام دیا کہ اُس کے دل کا آنگن روشن ہوا اور اُس کی زندگی کی گہری ہوتی ہوئی شام میں وہ لمحہ اور اس سے وابستہ روشن احترام آج بھی یادوں کی گلی کو منور کئیے ہوئے ہے۔ آج بھی بہت سے اگلے دن لو دے اٹھتے ہیں اور کئی روشن لمحے آج بھی یادوں میں فروزاں ہیں۔ وہ بھی ایک ایسا ہی لمحہ تھا
ہر وہ انسان جو زندگی کی راہ گزر میں آپ سے ملتا ہے وہ صرف ایک انسان نہیں ہوتا۔ وہ ایک علامت ہوتا ہے۔ بعض اوقات اُس کی اہلیہ اس کے ساتھ ہوتی ہیں اور وہ اُن کے لئیے ایک وقار اور احترام کی علامت ہوتا ہے۔ بسا اوقات بچے ساتھ ہوتے ہیں جو اپنے باپ کو ایک مکمل اور قابل رشک انسان کی شناخت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اُس وقت ایک باپ ہی آپ کے پاس آتا ہے۔ بعض بچے اپنے ماں باپ کو ساتھ لاتے ہیں اور ماں باپ کیلئے وہ روشن فخر ہوتے ہیں۔ اگر اور کچھ نہ دے سکیں تو ان کی روشن پیشانی کو داغ دار مت کیجئیے۔ اُن کے اُجلے لباس پر دھبہ مت لگائیے۔ اُن کی انا کا بت مسمار مت کیجئیے۔ اُن کا وہ مجسمہ جو اُن کے گھر والوں کے سامنے عزت کی علامت ہے ، وہ بُت قائم رکھئیے۔
داغدار پیشانی ، مسمار انا ، عزت کا بُت اور مجسمہ برباد ہو جائے تو کرچیاں اور ٹھیکریاں سمیٹتے ہوئے زندگی گزر جاتی ہے۔ ہر کانچ کی مرمت نہیں ہوتی۔ انگلیاں فگار اور دل کی نیلی رگیں برفاب مت کیجئیے۔عزت اُجڑ جائے اور رشتہ لیرا لیرا ہو جائے یا احترام دریا بُرد ہو جائے تو زندگیاں اُجڑ جاتی ہیں۔ جانئیے کہ کوئی بھی رفو کیا کپڑا کبھی اصلی حالت میں واپس نہیں آتا۔ کوئی غلطی بھی کر ڈالے تو بھی وہ عزت اور شخصی احترام دیجئیے جو سب کا انسانی حق ہے۔ اتنا تو سب کا ہی استحقاق ہے اور یہی کم از کم احترام آدمیت ہے
سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے
سرفراز سعید خان
خزاں کا سورج 👇
![]()






