تذکرہ حضور قلندر بابا اولیاء از حضور خواجہ شمس الدین عظیمی۔

تذکرہ حضور قلندر بابا اولیاء از حضور خواجہ شمس الدین عظیمی۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)12.  اسرارِ الٰہی کا بحرِ ذخّار:ابدالِ حق، سیدنا و مرشدنا حضور قلندر بابا اولیاءؒ نہ خود جبّہ و دستار پوش تھے اور نہ ان کے ہاں بیعت کا سلسلہ مروّجہ طریقوں سے تھا۔ ان کے ہاں نہ مشیخت کی کوئی کروفر تھی، نہ پیری مریدی کا اہتمام۔ بادی النظر میں کون جان سکتا تھا کہ یہ سیدھی سادی ہستی اسرارِ الٰہی کا بحرِ ذخّار اور دریائے ناپیدا کنار ہے!

حضور قبلہ بابا صاحبؒ کا ہر نفَس فیضان سے مملو تھا۔ مجھے جب بھی ان کی حضوری میں باریابی ہوتی تو میں ان کے ارشاداتِ گرامی اور الطاف و اکرامجو مجھ پر ہوتےوہ سب بحوالہ دن و تاریخ، اپنی بیاض میں قلمبند کر لیا کرتا تھا۔ چند ارشاداتِ گرامی پیشِ خدمت ہیں:

۱۔ میں ایک روز حضور قلندر بابا اولیاءؒ کے سلسلۂ عالیہ میں اپنے داخلے کی تصدیق کے طور پر کسی تحریری سند (بشکلِ شجرہ) کا خواستگار ہوا تو حضور بابا جیؒ نے فرمایا: ”ہماری زبان سند ہے جو تحریر سے زیادہ مستند ہے۔“

مجھے اپنی اس نالائقی اور گستاخی پر بڑی ندامت محسوس ہوئی جو میری دلی تمنا کے ساتھ حضور بابا صاحبؒ کی چشمِ حقیقت بیں سے مخفی نہ رہی۔ دریائے رحمت جوش میں آیا اور اپنے در سے بھکاری کو خالی ہاتھ نہ بھیجنے کے لیے، دوسرے روز اپنے قلم سے تحریر کر کے خود ہی موم جامہ کر کے مجھے عطا کیا اور فرمایا: ”اسے بازو پر باندھ لو۔“

۲۔ ایک روز میں نے دریافت کیا کہ سلسلۂ عظیمیہ میں اجرائے سلسلہ کے لیے کون کون با مجاز اور صاحبِ اختیار ہیں؟

حضور بابا صاحبؒ نے ارشاد فرمایا: ”ایک میں (حضور بابا جیؒ) خود ہوں، ایک خواجہ صاحب ہیں اور ایک ڈاکٹر صاحب ہیں۔ ایک بدر صاحب ہیں، ایک عبید اللہ صاحب ہیں جن کو تم نے نہیں دیکھا ہے۔“ پھر عرض کیا کہ ان حضرات میں حضور کے علاوہ صاحبِ تکوین بھی کوئی صاحب ہیں؟ فرمایا: ”ہاں، ہیں۔“

اس کے ساتھ ہی لفظ ”خانوادہ“ کی تشریح فرمائی کہ خلیفہ اور خانوادہ میں یہ فرق ہے کہ خانوادہ کو امام اپنا ذہن منتقل کر دیتا ہے اور وہ امام کا ممثل ہوتا ہے۔

۳۔ ایک روز عرض کیا کہ خواب میں سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت ہوئی جس میں حضور ﷺ کا روئے انور صاف دکھائی نہیں دیا۔ حضور بابا صاحبؒ نے فرمایا: ”حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا روئے منور دیکھنے کی کون تاب لا سکتا ہے؟ تمہارے ذہن پر جو پردہ ہے وہ اٹھ جائے گا تو حسبِ استعداد شبیہِ مبارک صاف نظر آنے لگے گی۔“

۴۔ ایک روز بابا صاحبؒ نے ارشاد فرمایا کہ قرآن کی چند آیتوں کو جو منسوخ کہا جاتا ہے، یہ غلط ہے؛ کیوں کہ قرآن کی ایک آیت کو اگر منسوخ مانا جائے تو سارا قرآن مشکوک ہو سکتا ہے۔ اس لیے چاہیے تو یہ تھا کہ جو آیات ناسخ و منسوخ دکھائی دیتی ہیں، ان کے احکام میں غور کر کے تاویل و تطبیق کی جاتی۔

میری (راوی) اس معاملے میں مولانا انور شاہ صاحب سے بڑی گفتگو ہوئی تھی۔ وہ مجھے قائل نہ کر سکے اور یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ ”پہلے لوگوں کا یہی قول ہے جو ہمیں ماننا پڑتا ہے۔“

  1. دربارِ رسالتؐ میں حاضری

ایک روز میں نے داڑھی کے متعلق دریافت کیا کہ ازروئے قرآن و حدیث اس کی حد کتنی ہے اور سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ریشِ مبارک کیسی تھی اور صحابہ کرامؓبالخصوص خلفائے راشدینؓجن سے بڑھ کر منبعِ شریعت کوئی نہیں ہو سکتا، ان کی داڑھیاں کتنی لمبی تھیں؟ ارشاد فرمایا: ”قرآن میں داڑھی کی لمبائی چوڑائی کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔ داڑھی کے متعلق حدیث بھی صرف ایک ہے، باقی سب موضوع ہیں۔“ اس کے بعد فرمایا: ”ہمارے دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں ہفتہ میں دو بار تو ضرور حاضری ہوتی ہے۔ وہاں خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی موجود ہوتے ہیں۔ ہم جو وہاں دیکھتے ہیں وہ تو یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ریشِ انور کے موئے مبارک گھونگر والے، پیچیدہ، لچھے دار ہیں اور جسمِ اطہر پر ایک انگل کے قریب لمبے نظر آتے ہیں اور بڑے خوبصورت لگتے ہیں۔ حضرت ابو بکرؓ کی داڑھی خشخشی ہے، حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمانؓ کی داڑھیاں ذرا اس سے بڑی ہیں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی داڑھی تو چڑھی ہوئی نظر آتی ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ حضور قلندر بابا اولیاءؒ صاحبِ دیوان الصالحین بھی ہیں۔

آخری علالت کے دوران جب بجلی کے علاج کا کورس پورا ہو گیا تو ایک روز اس علاج کے دوران ہونے والی سخت تکلیف کا ذکر کرتے ہوئے حضور بابا صاحبؒ نے فرمایا کہ میں (حضور بابا جیؒ) نے اس تکلیف کے لیے اللہ تعالیٰ سے کہا تھا کہ: ”اے میرے مالک! تو نے مجھے محض اپنے فضل و کرم سے ابدالوں کا سردار بنایا اور ایسی تکلیف میں مبتلا کر دیا۔ اگر میری زندگی ختم ہو گئی ہے تو موت بھیج دے تاکہ اس تکلیف سے چھوٹ جاؤں۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”خاموش! ہم اپنے خواص کو بھی عوام کے معمول سے گزارتے ہیں۔“ اور مجھ سے دریافت کیا: ”کیا تم زندہ رہنا چاہتے ہو؟“

میں نے کہا: ”میں اپنے لیے زندہ رہنا نہیں چاہتا۔“

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اویس قرنیؓ سے پوچھو۔“

میں نے حضرت اویس قرنیؓ کی خدمت میں یہ بات عرض کی۔ وہ سن کر خاموش ہو گئے۔ کچھ جواب نہیں دیا تو میں بھی خاموش ہو گیا؛ کیونکہ ایک دفعہ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کو اتنا سخت بخار تھا کہ ان کا بدن تپ رہا تھا۔ ان کے ایک دوست نے ان کی یہ حالت دیکھ کر کہا کہ: ”حضور! اس تکلیف سے نجات کے لیے اللہ میاں سے کہیے۔“ تو انہوں نے کہا: میں نے اللہ میاں سے کہا تھا تو جواب ملا: ”خاموش! جنید بھی ہمارا، بخار بھی ہمارا۔ تم بیچ میں بولنے والے کون؟“

راوی: غلام رسول قادری العظیمی

Loading