علم اور عمل

علم اور عمل

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )علم انسان کو حقیقت سے آگاہ کرتا ہے، مگر عمل اس آگاہی کو زندگی کی حقیقت بنا دیتا ہے۔ انسان جانتا ہو کہ سچ بولنا واجب ہے، مگر جھوٹ بولتا رہے تو اس کا علم ابھی کردار میں منتقل نہیں ہوا۔ وہ عدل کی فضیلت جانتا ہو، مگر معاملات میں ظلم کرے تو مسئلہ علم کی کمی نہیں بلکہ علم کے تقاضے سے انحراف ہے۔

قرآن علم کو محض ذہنی ذخیرے کے طور پر نہیں پیش کرتا بلکہ ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ جوڑتا ہے: ﴿وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۝ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾۔ یہاں نجات کا راستہ صرف جان لینے میں نہیں بلکہ ایمان کو عمل میں ڈھالنے میں ہے۔

علم اور عمل کا تعلق یہ ہے کہ علم راستہ دکھاتا ہے اور عمل اس راستے پر چلتا ہے۔ علم بتاتا ہے کہ کیا درست ہے؛ عمل ثابت کرتا ہے کہ انسان نے اسے حقیقتاً قبول بھی کیا ہے۔ اسی لیے علم کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب وہ ارادے، عادت، کردار اور فیصلوں میں ظاہر ہونے لگے۔

لیکن عمل کے لیے بھی صحیح علم ضروری ہے؛ ورنہ نیک نیتی کے باوجود آدمی غلط طریقہ اختیار کر سکتا ہے۔ اس لیے مطلوب ترتیب یہ ہے: صحیح علم پھر صحیح فہم پھر صحیح نیت پھر صحیح عمل۔

اصل امتحان یہ نہیں کہ انسان کتنا جانتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ جو جانتا ہے، اس میں سے کتنا اپنی زندگی میں اتارتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علم، محض ذہنی قوت سے نکل کر ہدایت کی عملی صورت اختیار کرتا ہے۔

اور جب علم عمل میں اترتا ہے تو اگلا سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہر عمل اللہ کے ہاں یکساں قدر رکھتا ہے، یا عمل کی قبولیت کے لیے اخلاص بھی ضروری ہے؟ یہی ہمیں علم و عمل کے بعد اخلاص کی طرف لے جاتا ہے۔

Loading