حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی ؒ۔۔۔قسط نمبر2

حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی ؒ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی ؒ)آپ نے دور دراز کے سفر کئے ۔ آپ نے اپنے وقت کے ممتاز عالموں کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔ آپ کئی سال تک حصول علم میں مصروف رہے۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران آپ نے علم حدیث کی تعلیم حاصل کی۔

شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی کئی علوم کے ماہر تھے۔ آپ قرآن کی سات قراتوں کے قاری

تھے۔ حافظ قرآن تھے۔ کئی دیگر علوم کے ساتھ ساتھ آپ تفسیر کے عالم تھے۔ محدث تھے۔ علم الحدیث آپ نے مدینہ منورہ میں پانچ سال قیام کے

دوران حاصل کیا۔ حصول علم الحدیث کے بعد مدینہ منورہ میں حدیث کے درس بھی دیئے۔ شیخ بہاؤ الدین زکر یاملتانی کی بستی علوم اسلامی اور معرفت الہی کا ایک یگانہ روزگار امتزاج تھی۔ بہاؤالدین زکریا تحصیل علم کے لیے سلسلہ سہروردیہ کے بزرگ حضرت شیخ شہاب الدین سہروری کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مثل مشہور ہے کہ ہیرے کی قدر جوہری خوب جانتا ہے۔ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی نے بہاؤالدین کے اندر روحانی اور علمی صلاحیتوں کو فوراً پہنچان لیا۔ آپ نے بہاؤ الدین کو شرف بیعت سے نواز ا اور کئی روحانی مقامات بہت جلد طے کروادیے۔ بعد ازاں حضرت نے بہاؤالدین زکریا کو خلافت سے نوازا اور حکم دیا کہ وہ ملتان جا کر عوام الناس کی تربیت و تعلیم، خدمت خلق اور دین اسلام کی تبلیغ کا فریضہ سر انجام دیں۔

اپنے مرشد کے حکم پر حضرت شیخ بہاؤالدینزکریا ملتان واپس تشریف لے آئے ۔ ملتان میں آپ نے سلسلہ سہر وردیہ کے ذریعے عوام الناس کی تعلیم واصلاح اور خدمت خلق کے مشن کا آغاز فرمایا۔

آپ نے اسلام کی تبلیغ کے لیے اپنے مریدوں کی خصوصی تربیت فرمائی۔ روایات کے مطابق ان درویشوں کو تبلیغ کے لیے دور دراز کے علاقوں میں خاص طور پر مشرق بعید بھی بھیجا گیا۔ ان حضرات نے ملائیشیا، انڈونیشا، فلپائن اور مشرق بعید کے دیگر علاقوں میں تبلیغ کا فریضہ سر انجام دیا۔ حضرت بہاؤ الدین ذکریا سلسلہ چشتیہ کے روشن چراغ حضرت بابا فرید گنج شکر کے ہم عصر تھے۔

شیخ بہاؤالدین زکریا کی زندگی دین اسلام کے سنہری اصولوں کے فروغ میں اور مخلوق خدا کی خدمت میں بسر ہوئی۔

حضرت بہاء الدین زکریا نے اپنے مریدین کی اصلاح اور روحانی تربیت کے ساتھ ساتھ اصلاح معاشرہ کے لیے سماجی اور معاشی سطح پر بھی سر گرم اور موثر کردار ادا کیا۔ آپ نے ملتان اور سندھ میں کسانوں کی فلاح اور زراعت کی ترقی کے لیے بھی کئی دور رس اقدامات کئے ۔

حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی بہت خوش حال زندگی بسر کرتے تھے۔ آپ کی دولت وثرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ملتان میں قحط جیسی صور تحال پیدا ہونے پر والی ملتان نے آپ سے مدد کی درخواست کی تھی۔ اس موقع

زکریا ملتان واپس تشریف لے آئے ۔ ملتان میں آپ نے سلسلہ سہر وردیہ کے ذریعے عوام الناس کی تعلیم واصلاح اور خدمت خلق کے مشن کا آغاز فرمایا۔

آپ نے اسلام کی تبلیغ کے لیے اپنے مریدوں کی خصوصی تربیت فرمائی۔ روایات کے مطابق ان درویشوں کو تبلیغ کے لیے دور دراز کے علاقوں میں خاص طور پر مشرق بعید بھی بھیجا گیا۔ ان حضرات نے ملائیشیا، انڈونیشا، فلپائن اور مشرق بعید کے دیگر علاقوں میں تبلیغ کا فریضہ سر انجام دیا۔ حضرت بہاؤ الدین ذکریا سلسلہ چشتیہ کے روشن چراغ حضرت بابا فرید گنج شکر کے ہم عصر تھے۔

شیخ بہاؤالدین زکریا کی زندگی دین اسلام کے سنہری اصولوں کے فروغ میں اور مخلوق خدا کی خدمت میں بسر ہوئی۔

حضرت بہاء الدین زکریا نے اپنے مریدین کی اصلاح اور روحانی تربیت کے ساتھ ساتھ اصلاح معاشرہ کے لیے سماجی اور معاشی سطح پر بھی سر گرم اور موثر کردار ادا کیا۔ آپ نے ملتان اور سندھ میں کسانوں کی فلاح اور زراعت کی ترقی کے لیے بھی کئی دور رس اقدامات کئے ۔

حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی بہت خوش حال زندگی بسر کرتے تھے۔ آپ کی دولت وثرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ملتان میں قحط جیسی صور تحال پیدا ہونے پر والی ملتان نے آپ سے مدد کی درخواست کی تھی۔ اس موقع                            حضرت سے فیض پانے والوں کا تو کوئی شمار نہیں البتہ آپ کے نمایاں مریدین اور آپ سے خلافت پانے والے کئی اصحاب طریقت کے نام تاریخ میں محفوظ ہیں ان میں۔

حضرت بہاء الدین کے بڑے صاحبزادے شیخ صدر الدین عارف کے بعد حضرت لعل شہباز قلندر، حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری حضرت شیخ حسن افغان، حضرت فخر الدین ابراہیم عراقی، حضرت صدر الدین احمد المعروف سید حسین کے اسمائے گرامی نمایاں ہیں۔

بعد میں حضرت صدرالدین عارف کے صاحبزادے ابوالفتح رکن الدین المعروف شاہ رکن عالم نے سلسلہ سہروردیہ کے اس مرکز میں رشد و ہدایت کے فرائض سرانجام دیئے۔

شیخ الاسلام حضرت بہاؤ الدین ملتانی 7 صفر661 ( بمطابق 1267 عیسوی) کو اس دار فانی سے کوچ فرما گئے۔

حضرت بہاؤ الدین زکریا کے نام پر ملتان میں ایک مادر علمی بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے نام سے قائم ہے۔ اس یونیورسٹی کا شمار پاکستان کی بہترین جامعات میں ہوتا ہے۔

حکومت پاکستان نے حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی سے اظہار عقیدت کے طور پر ایک ایکسپریس ٹرین کو حضرت کے نام سے منسوب کیا۔

بہاؤ الدین زکریا ایکسپریس ، کراچی ملتان کراچی کے روٹ پر چلتی ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ

Loading