گیارہ ہزار فریکوئنسی از سیدہ سعیدہ خاتون عظیمی۔ قسط 1
تاریخ: 9 آکٹوبر 2026، جمعۃ المبارک 26 ربیع الثانی 1448 ہجری
چھُپا ہوا خزانہ
۱. ازل، روحِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم اور مقامِ بندگی
زمانہ ازل میں جب کہ نہ زمین تھی نہ آسمان تھے، نہ شجر تھے نہ پہاڑ تھے، بس مرتبہِ خالقیت پر اللہ جلّ شانہُ وحدانیت کے عرش پر جلوہ افروز تھے۔ کون جانتا ہے روحِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے عرش کے گرد کتنے طواف کیے! لازمانیت اور لامکانیت کی تحریریں صفتِ تدلّٰی میں ہیں۔ عرش کے ہر طواف پر خالق کا ذہن روحِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کو منتقل ہوا، تاکہ روحِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے اندر چھپے ہوئے خزانوں سے نفسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم واقف ہو جائے۔
نفسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم اپنی ذات کے اندر تہہ در تہہ نور سے واقف ہو گیا۔ نگاہِ احمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے جب اپنے نور میں دیکھا تو نور کے ہر ذرے پر اس نے اللہ کا نام دکھائی دیا۔ نگاہ نے اپنے نفس کو پہچان کر اپنے رب کو پہچان لیا؛ ذاتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نورِ حق کا آئینہ بن گئی۔ آئینے کے بالمقابل نگاہ آئینے کے عکس کو دیکھتی ہے، آئینے کو نہیں۔ نگاہِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے اپنے نفس کی نفی کر کے بندگی کی معراج کو پا لیا۔
۲. کائنات کا وجود اور حقیقتِ مراد و مرید
ادراک کا ہر نقطہ لازمانیت کی کوئی نہ کوئی کسر ہے، جس میں ازل کا وہ لمحہ بند ہے جس لمحے میں اللہ اور روح کا ساتھ تھا۔ ساری کائنات ایک نفس ہے؛ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
”ہم نے نفسِ واحدہ سے تم کو بنایا۔“
حدیثِ قدسی ہے:
”اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نہ ہوتے تو کائنات کا وجود نہ ہوتا۔“
کائنات کی ہر صورت روحِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا ایک ادراک ہے، جو لامحدودیت سے محدودیت میں آ کر اپنی پہچان کراتا ہے۔ کائنات کی تمام حرکات اللہ تعالیٰ کے ارادے کے تابع ہیں۔ اللہ تعالیٰ سبحانہُ ”مراد“ ہے اور نفسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ”مرید“ ہے۔ مراد کا تفکر اللہ کا تفکر ہے جس کی تکمیل مراد کے ذریعے سے ہے۔ یہ بات سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی اس حدیثِ مبارک کی تشریح ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا:
”میری تربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے۔“
۳. تخلیقِ کائنات اور نقطۂ وحدانی
کائنات کی تخلیق کے پسِ پردہ اللہ تعالیٰ کا خود اپنی ذات کو پہچانے جانے کا تفکر کام کر رہا ہے۔ کائنات اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظاہرہ ہے، جو کائنات کے نقطۂ وحدانی کی صفات ہیں۔ کائنات کے نقطۂ وحدانی کا شعور حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ہے، جو اللہ تعالیٰ کو پہچاننے والا ہے۔ نقطۂ وحدانی کا یہ شعور کائنات کے ذرے ذرے میں کام کر رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ہر شئے کو جوڑا جوڑا بنایا ہے۔ ہر شئے کے اندر پہچانے جانے کا تفکر ہی شئے کو دو رخوں میں تقسیم کرتا ہے، کیونکہ ایک رخ سے تفکر کی تکمیل نہیں ہوتی۔ تفکر کا ایک رخ وہ کردار ہے جو پہچانا جا رہا ہے؛ تفکر کا دوسرا رخ پہلے رخ کو پہچاننے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ نقطۂ وحدانی یا حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا دماغ عالمِ امر ہے اور عالمِ امر کا تفکر انہی دو بنیادی حقیقتوں پر گامزن ہے۔
باطنِ تجلی اور مہرِ نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
نقطۂ وحدانی یا کائنات کا نقطہ اللہ تعالیٰ کی تجلی ہے۔ تجلی کی صفات اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات میں علیم ہے۔ انسانی روح، جو امرِ ربی ہے، اسے صفتِ علیم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے نسبت حاصل ہے۔ اسی نسبت کے تحت آدم کو اسمائے الٰہیہ کے علوم عطا کیے گئے۔
اسمائے الٰہیہ کے علوم کا نقش حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ہے۔ یہ نقش تجلیِ ذات کے باطن میں ہے؛ مہرِ نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم اسی نقش کا عکس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس چھپے ہوئے خزانہ کا ذکر فرمایا ہے، وہ خزانہ تجلیِ ذات کے باطن میں حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا نقش ہے۔ اللہ پاک کی نظر تجلی کے ظاہر و باطن کا احاطہ کرتی ہے اور وہ اپنی ذات و صفات میں علیم ہے۔ اس کا علم قدیم ہے اور حادث ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تجلی کے باطن میں حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا نقش ہمیشہ سے تھا، ہے اور رہے گا۔ مگر اس حقیقت کا علم سوائے اللہ کے کسی اور کو نہ تھا۔ کسی اور سے مراد خود حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا نقش ہے۔
جب اللہ پاک نے چاہا کہ حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم خود اپنی ذات سے واقف ہو جائے کہ وہ تجلی کا جمال ہے (جیسے ہیرے کی چمک ہیرے کا جمال ہے)، تو اللہ تعالیٰ نے حقیقتِ محمدی کے اس نقش میں اپنی روح پھونکی۔ روح، تجلی کے نقشِ حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا شعور ہے۔ حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا شعور تجلیِ ذات کا شعور ہے، جو حقیقتِ الٰہی کو ظاہر کرنے کے لیے پیدا کیا گیا۔
۴. رموزِ حروف (الم) اور انوارِ ”لا“ و ”اِلّا“
حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے اللہ تعالیٰ کو ساڑھے گیارہ ہزار صفات کے ساتھ پہچانا۔ تمام پیغمبرانِ علیہم السلام حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے مختلف زاویے ہیں۔ اس بات کو آسان لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم وہ نظر ہے جس نظر نے اللہ تعالیٰ کو ساڑھے گیارہ ہزار صفات کے ساتھ دیکھا۔ باقی تمام پیغمبرانِ علیہم السلام حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی نظر کے مختلف زاویے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ تمام پیغمبرانِ علیہم السلام براہِ راست اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔
اسمائے الٰہیہ کے علوم حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم میں روح پھونکنے کے علوم ہیں، جس کا آغاز زمانہ ازل ہے۔ قرآن میں اس حقیقت کی ”الم“ کے حروف سے نشاندہی کی گئی ہے اور اس کی وضاحت ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ“ کے کلمے سے کی گئی ہے۔
لا کے انوار:
”لَا“ انوار وہ حقیقت ہے جو چھپا ہوا خزانہ تھاجس سے اللہ ہمیشہ سے واقف تھا، مگر یہ حقیقت ناقابلِ تذکرہ تھی (یعنی اس کا ذکر نہ تھا)۔ اسے ہم اندھیرے سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ یہ اندھیرا یعنی ”لا“ کے انوار کائنات کا لاشعور ہیں۔ ”لا“ کے انوار تجلیِ ذات ہیں۔
اِلّا کے انوار:
ان انوار میں تجلی کا جمال وہ حقیقت ہے جس کے ظاہر کرنے کا ارادہ کیا گیا اور ”لا“ کے انوار ”اِلّا“ میں بدل گئے۔ ”اِلّا“ کے انوار الف انوار ہیں جو کائنات کی بنیاد ہیں اور یہی انوار کائنات کا ازلی شعور ہیں۔ ”اِلّا“ یا الف انوار کو ہم اجالے سے تعبیر کرتے ہیں۔
”لا“ اور ”اِلّا“ کے درمیان حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا ظہور ہے، جو حقیقتِ الٰہیہ کو ظاہر کرنے کے لیے پیدا کیا گیا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم وہ ذاتِ اقدس ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ساڑھے گیارہ ہزار صفات کا مجموعہ ہیں۔ ہر صفت تخلیقی صلاحیت ہے؛ روح ان تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتی ہے اور کائنات وجود میں آتی ہے۔
۵. تخلیقی ارادہ اور کائناتی مظاہر
لا انوار کا اِلّا میں تبدیل ہونا بغیر کسی وسائل و اسباب کے ہے۔ لامحدودیت میں اللہ تعالیٰ کا ارادہ داخل ہو کر لامحدودیت میں پھیلی ہوئی تجلیات کو تشکیلی صورت بخشتا ہے۔ یہ تشکیلی صورتیں اسمائے الٰہیہ ہیں، جن کی روشنیوں کے مجموعے کی صورت روحِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ہے۔
زمانۂ ازل کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے چھپے ہوئے خزانے کو ظاہر کرنے کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کے ارادے سے اس فکر کی روشنی کو ”کُن“ کی تحریکی قوت حاصل ہوئی اور فکر کے اجزاء اسمائے الٰہیہ کی صورت میں کائنات کے اجزاء بن کر ظاہر ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کے امر نے کائنات کی تخلیقی فکر کو ایک مجموعی صورت بخش دی۔ تجلیِ ذات کا یہ نقش روحِ اعظم یا حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ہے۔ اللہ تعالیٰ ذات و صفات، شکل و صورت اور نقش و نگار سے پاک ہے۔
تجلیِ ذات کا شعور روحِ اعظم کا ازلی شعور ہے۔ اس ازلی شعور کی ظاہری صورت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ہیں۔ روحِ اعظم کا شعور اللہ تعالیٰ کا امر ہے اور اللہ تعالیٰ کا امر اس کا ارادہ ہے۔ ارادہ تخلیقی قوت و صفت کا حامل ہے۔ کائنات کے علم کی تجلیات و انوار روحِ اعظم کے باطن سے گزر کر لوحِ محفوظ کی زینت بنتے ہیں، اور لوحِ محفوظ سے نیچے اتر کر تمام عالمین سے گزرتے ہوئے زمین پر اپنا مظاہرہ کرتے ہیں۔
ازلی شعور، خودی کی نفی اور مقامِ محمود
مظاہرِ کائنات کی بنیاد روحِ اعظم کا ازلی شعور ہے، جو اللہ تعالیٰ کی خود اپنی ذات میں پہچانے جانے کی فکر کی تکمیل کے لیے اور حکمِ خداوندی کی تعمیل کے لیے کائنات کے ذرے ذرے میں رحمت بن کر دوڑ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی نسبت سے انسانوں کو روحِ اعظم کے علوم عطا کیے ہیں۔ جب کسی بندے کے اندر ازلی شعور متحرک ہو جاتا ہے تو وہ اپنے مقصدِ حیات سے باخبر ہو جاتا ہے اور اپنی سکت کے مطابق حقیقت کو پہچان لیتا ہے۔ یہ پہچان بحیثیتِ جز کے ہے، بحیثیتِ کل کے نہیں۔ حقیقت اللہ ہے اور اللہ لامحدود ہے۔ لامحدودیت کا احاطہ کوئی آنکھ نہیں کر سکتی؛ یہی وجہ ہے کہ بندے کا حقیقت کو پہچاننا خود اپنے زاویۂ نگاہ و فکر کے احاطے میں حقیقت کا اعتراف ہے۔
حقیقت کو دیکھنے والی نگاہ روحِ اعظم کی آنکھ ہے۔ اس نگاہ کی انتہائی سکت مقامِ محمود ہے۔ مقامِ محمود پر حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے پہنچ کر جس طرح اللہ تعالیٰ کی حقیقت کو دیکھا، اس کا بیان قرآن میں موجود ہے۔ روحِ اعظم کی آنکھ اللہ تعالیٰ کو تجلیِ ذات کے حجاب میں دیکھتی ہے۔ تجلیِ ذات کے حجاب میں ذاتِ خداوندی کا مشاہدہ کرنا ازلی شعور ہے، جو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔
اس مقام پر فکر کے اندر سے کائناتی ابعاد (Dimensions) نکل جاتے ہیں۔ جب کائناتی ابعاد ذہن سے نکل جاتے ہیں تو تجلی سامنے سے آتی ہے؛ اسی فعل کو ”اپنی نفی کرنا“ کہا گیا ہے۔ اپنی نفی کرنا ساری کائنات کی نفی کرنا ہے۔ روحِ اعظم کا ذہن وہ ہے جس کا تعلق براہِ راست ذات سے ہے۔ روحِ اعظم کی نظر ہر شئے کو تجلیِ ذات میں دیکھتی ہے۔ تجلیِ ذات میں کائنات تجلی کے نقطے کی صورت ہے۔ پس روحِ اعظم کی آنکھ صرف تجلیِ ذات کو دیکھتی ہے، کائنات کی اشیاء کو نہیں دیکھتیجیسے سورج کی روشنی میں سارا آسمان چاند ستاروں سے خالی دکھائی دیتا ہے، پس ہم سورج کی روشنی میں چاند ستاروں کی نفی کر دیتے ہیں کہ چاند ستارے ہیں ہی نہیں۔
روحِ اعظم خود تجلیِ ذات کی تشکیلی صورت ہے۔ جب کسی بندے میں روحِ اعظم کا شعور بیدار ہوتا ہے تو وہ خود اپنے ہی نقطۂ ذات کی تجلی کے نور کا مشاہدہ کرتا ہے اور اس کے ذہن سے کائناتی ابعاد نکل جاتے ہیں۔ اس نور میں ذات کا تفکر ذاتِ خالق کی حیثیت سے ہے، یعنی اللہ ہے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ اس لمحے انسان کا شعور مکمل طور پر تجلی کے نور سے سیراب ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کا کامل یقین حاصل ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی فکر میں ایمان یا یقین کا دوسرا رخ نہیں ہے (یعنی کفر نہیں ہے)، کیونکہ روحِ اعظم کی ہر فکر تجلی کا نقطہ ہے جو یقین ہے۔ کفر وہ فکر ہے جو تجلی کی روشنی سے خالی ہے۔ ان خلاؤں کا گزر اگر حقیقتِ محمدی کے اندر نہیں ہے تو پھر کہاں ہے؟ کیونکہ خود حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا ہے کہ:
”میری صورت میں شیطان نہیں آ سکتا۔“
۶. ادراک کے مراتب: روحِ انسانی، حیوانی اور ناسوتی حُجُب
روحِ اعظم کی فکر کی روشنی میں جب اللہ تعالیٰ کے حکم کی تجلی شامل ہو جاتی ہے تو روحِ اعظم کی تجلی کا دوسرا دائرہ تخلیق ہوتا ہے۔ یہ دوسرا دائرہ روحِ انسانی ہے، جس میں انسان کی نظر کائنات کی ہر شئے کو روح کی صورت میں دیکھتی ہے۔ اور جب روحیں اللہ تعالیٰ کے حکم پر حرکت کرتی ہیں تو نگاہ کا تیسرا دائرہ تخلیق ہوتا ہے، جو روحِ حیوانی کا دائرہ ہے۔
حرکت انرجی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ انرجی روحِ اعظم کی تجلی کی روشنی سے روحِ حیوانی کو حاصل ہوتی ہے۔ روحِ اعظم کی تجلی اجسام کے اندر منفی طور پر کام کرتی ہے۔ اگر انسان اپنے اندر کام کرنے والے نور سے واقف نہ ہو اور صرف جسمانی حرکات کو ہی زندگی کا حاصل سمجھ لے، تو روحِ حیوانی کی تمام تر توجہ صرف دنیاوی زندگی کی حرکات کی طرف ہو جاتی ہے اور آدمی دنیا میں مگن ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں روح کی نظر جب اپنے جسم پر پڑتی ہے تو روحِ حیوانی کی فکر کے اندر نور کی بجائے دنیاوی روشنیوں کا ذخیرہ دیکھتی ہے، جس کی وجہ سے آدمی کا شعور اسے منفی انکار کے معنی پہناتا ہے۔
کفر، جھوٹ اور منفی خیالات سب کے سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آدمی کے شعور و ارادے میں نور کی مقداریں خطرناک حد تک کم ہو چکی ہیں۔ نور کی انرجی کم ہونے کی وجہ سے آدمی کا شعور کمزور اور ناکارہ ہو جاتا ہے۔ اگر یہ کمزوری حد سے بڑھ جائے تو روحِ انسانی کی ناسوتی روشنیاں نور کا غلاف بن کر لاشعور اور شعور کے درمیان رکاوٹ بن جاتی ہیں، جس کی وجہ سے روحِ اعظم کی جانب سے نور اور روحِ انسانی کی جانب سے ہدایت نہیں پہنچتی اور نظر چھپے ہوئے خزانوں کو دیکھنے کی بجائے کائنات میں مادی اجسام کو چلتے پھرتے دیکھتی ہے۔
۷. صفتِ نظر، چاروں عالمین اور انسان کی ذمہ داری
نظر اللہ کی صفت ہے اور اللہ کی ہر صفت نور ہے۔ اللہ کی فکر کائنات میں چھپا ہوا خزانہ، حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا نور ہے۔ اللہ کی نظر روحِ اعظم کے ذریعے کائنات کے دائرے میں سفر کرتی ہے اور کائنات کے جس ذرے کو اپنے نور سے خالی دیکھتی ہے، وہاں سے پلٹ آتی ہے۔
نظر کی روشنی کے تنزل اور صعود کا مرکزی نقطہ روح کا وہ ہے جس سے وہ اس عالم کو دیکھتی ہے۔ اگر اس نقطے میں نورانی روشنیاں غالب ہیں تو آدمی کی نگاہ نورانی روشنی میں کائنات کا مشاہدہ کرتی ہے، اور اگر مادی روشنیاں غالب ہیں تو مادی روشنی میں کائنات کا مشاہدہ کرتی ہے۔
مادی روشنیوں کی ویو لینتھ عالمِ ناسوت ہے۔
نورانی روشنیوں کی ویو لینتھ عالمِ ملکوت ہے۔
تجلی کی نگاہ کی ویو لینتھ عالمِ جبروت و عالمِ لاہوت ہے۔
حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی نظر چاروں عالمین میں بیک وقت دیکھتی ہے، اسی لیے آپ کو اللہ تعالیٰ نے ”رحمت للعالمین“ کہا ہے۔ روح کی نظر جس عالم میں پہنچتی ہے، اسی عالم میں انسان اپنے آپ کو موجود جانتا ہے۔
روح کی نظر میں کائنات کے تمام نقش و نگار موجود ہیں۔ روح کی نظر کے ساتھ ساتھ نظر کی روشنی میں موجود نقش و نگار بھی اس عالم میں ظاہر ہو جاتے ہیں۔ اس طرح روح کی نظر کائنات کو دیکھ رہی ہے۔ روحِ اعظم کی نگاہ میں ازل سے ابد تک کے تمام اجزاء موجود ہیں۔ اسی مناسبت سے روحِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی نظر ساری کائنات کو دیکھتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی نظر بھی کائنات میں اللہ تعالیٰ کی تجلیات کا اور تجلیات کے عالمین کا مشاہدہ کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ ایک ایسا اعجاز ہے جس کی عظمت و بزرگی کو سوائے اللہ جلّ شانہُ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔ اللہ کی نظر ہی حقیقتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے چھپے ہوئے خزانے کو دیکھ سکتی ہے اور ان کی صحیح عظمت کو پہچان سکتی ہے۔ بنی نوعِ انسان کے لیے سب سے بڑی رحمت یہ ہے کہ رحمت للعالمین نے اسے بشری نسل سے چُنا ہے۔ بشری نسل میں رحمت للعالمین کا ذہن براہِ راست منتقل ہو رہا ہے۔ اگر نسلِ انسانی پیغمبرانہ صفات کو اپنا لے تو رحمت للعالمین کی رحمت سے خود اپنے اندر چھپے ہوئے خزانوں سے واقفیت حاصل کر لے گی۔