جمال رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم از سید ابوالفیض قلندر علی سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔ گذشتہ سے پیوستہ۔ تاریخ: 26 ربیع الثانی 1448 ہجری، 9 آکٹوبر 2026 عیسوی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )قارئین کرام نے مندرجہ بالا حوالے مرزا صاحب کی اپنی تصنیفات سے ہی پڑھ لیے ہیں۔ جن کے خادم کا خود ساختہ قاعدہ ”کہ: ”خاتَم کا ترجمہ جمع کی طرف مضاف ہونے سے آخری اور بند کرنے والا نہیں آتا“ ان کے پیشوا ہی کی تحریروں سے باطل ہو گیا ہے اور ضرورت ہی نہیں رہی کہ اس بے سروپا اعتراض پر کلامِ عرب سے کچھ پیش کیا جائے اور اگر یہ مرزا صاحب کے اقوال، معترض کے نزدیک سچے ہیں تو پھر معترض جھوٹا ہے اور اگر معترض اپنے دعوٰی میں سچا ہے، تو مرزا صاحب کے متعلق وہ خود ہی حکمِ شریعت صادر کرے۔ ہم کہیں گے تو برائی ہو گی۔ ہم نے تو معترض کے چیلنج کا جواب بوضاحت دے دیا ہے تاکہ ان کو قیامت تک کا انتظار نہ رہے۔ شعر
سمجھ کر پاؤں رکھنا میکدہ میں خادمِ مرزا
یہاں پگڑی اچھلتی ہے اسے میخانہ کہتے ہیں
یہ تو تھی خادمِ مرزا کی کہانی ان کے اپنے پیشوائے قادیانی کی زبانی۔ اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عقیدہ حقہ حضراتِ اہلسنت والجماعت متقدمین ومتاخرین کے وہ دلائل پیش کر دیئے جائیں جن کی بناء پر وہ آنحضرت سرورِ کائنات، مفخرِ موجودات، مختارِ شش جہات محمد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ”خاتم النبیین“ تسلیم کرتے ہیں۔
یہ بحث چار عنوانات پر ہوگی تاکہ قارئینِ کتاب ہذا پوری طرح اس شانِ نبوتِ تامّہ کو سمجھ سکیں:
اگرچہ قرآنِ کریم میں ختمِ نبوت پر متعدد نصوص موجود ہیں لیکن اس مختصر مضمون میں صرف مندرجہ بالا تین نصوص پر ہی اکتفا کر کے اب احادیثِ صحیحہ پیش کی جاتی ہیں جن سے مسئلہ ختمِ نبوت اور واضح ہو جائےے۔
احادیث
حدیث نمبر 1:
((لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰى يُبْعَثَ دَجَّالُوْنَ كَذَّابُوْنَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ اَنَّهُ نَبِيٌّ وَ اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ)) ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک بہت سے دجال اور کذاب نہ اٹھائے جائیں جن میں سے ہر ایک یہ گمان کرتا ہو گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں تو خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا۔“ [ابوداؤد و ترمذی]
اس حدیث میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک فیصلہ کن بات فرما دی ہے، جس کے بعد کوئی مسلمان جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو گا، خاتم النبیین کے حقیقی اور صحیح مفہوم میں شک نہیں کر سکتا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے معنی خود کر دیئے ہیں کہ میں سلسلہٴ انبیاء کا ختم کرنے والا ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔
لا نبي بعدي میں لائے نفی جنس کی نفی کرتا ہے یعنی کسی قسم کا بھی نبی پیدا نہیں ہو گا۔ ہر قسم کی نبوت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی نے بھی ایام الصلح کے صفحہ 124 پر لکھا ہے کہ لا نبی بعدی میں لائے نفی جنس کی نفی کرتا ہے، کسی قسم کا بھی نبی خواہ نیا ہو یا پرانا آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد دنیا میں نہیں آ سکتا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے بعد کون سی وحی ایسی نازل ہو گئی تھی، جس کی رو سے لا نبي بعدي میں وہی لائے نفی جنس کی نفی نہیں کرتا۔
بسوخت عقل ز حیرت کہ این چہ بو العجبی است ترجمہ حیرت سے عقل جل کر رہ گئی (عقل دانگ رہ گئی) کہ یہ کیسا عجیب و غریب معاملہ / کیسی حیرت انگیز بات ہے۔
حدیث نمبر 2:
((إِنَّ مَثَلِيْ وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِيْ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوْفُوْنَ وَيَعْجَبُوْنَ لَهُ وَيَقُوْلُوْنَ هَلَّا وُضِعَتْ هٰذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ)) ”میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی گھر بنایا ہو اور اس کو آراستہ پیراستہ کیا ہو مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ہو۔ لوگ اس کے پاس چکر لگاتے ہوں اور خوش ہوتے ہوں اور کہتے ہوں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی (کہ عمارت مکمل ہو جاتی) فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہ میں ہی وہ آخری اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔“ [رواہ البخاری ومسلم وغیرہا]
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ خاتم النبیین کے معنی آخر الانبیاء کے ہیں اور یہ ”قصرِ نبوت“ مکمل ہو چکا ہے۔ اب کسی اینٹ کی گنجائش نہیں۔ قربان جائیے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آپ نے کیسی خوبصورتی کے ساتھ اس حقیقت کا اعلان فرما دیا ہے کہ میں آخری نبی ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ سلسلہٴ بعثتِ انبیاء کو ایک عمارت تصور کر لو، عمارت اینٹوں سے پایہٴ تکمیل کو پہنچتی ہے معمار ایک عرصہ تک اس عمارت کو اینٹوں سے بناتا رہا، یہاں تک کہ وہ عمارت پایہٴ تکمیل کو پہنچ گئی اور صرف ایک اینٹ کی کسر باقی رہ گئی۔ آخر ایک دن اس نے وہ آخری اینٹ بھی لگا دی۔ کیا اب کوئی شخص خواہ وہ کتنا ہی بڑا کاریگر کیوں نہ ہو، اس عمارت میں کسی اینٹ کا اضافہ کر سکتا ہے؟۔ اسی طرح اس ”قصرِ نبوت“ کی تکمیل کے بعد تشریعی نبوت کی اینٹ کی گنجائش ہے نہ غیر تشریعی یا ظلی و بروزی یا لغوی و مجازی کی، ہاں! خلقِ خدا کو گمراہ کرنے کا ٹھیکیدار بن جانا ایک دوسری بات ہے، نبوت تو درکنار لوگوں نے خدائی کے دعؤوں تک سے دریغ نہیں کیا۔
حدیث نمبر 3:
((وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ)) [رواہ مسلم ، باب الفضائل]۔ امام مسلم نے اس حدیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فضائل کے باب میں درج کیا ہے۔ اس حدیث میں چھ فضیلتوں کا ذکر ہے جن میں سے چھٹی فضیلت یہ ہے کہ میرے ساتھ تمام انبیاء علیہم السلام کو ختم کیا گیا۔ اس حدیث میں اس تحریف کی بھی جڑ کاٹ دی گئی، جو لفظِ خاتم میں کی جاتی ہے۔ خاتَمُ النَّبِيّينَ کی جگہ خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ فرمایا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کے نبی کا استثناء موجود نہیں۔
حدیث نمبر 4:
بروايت ابن ماجہ باب فتنة الدجال۔ ((أَنَا آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَ أَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ))۔ ”یعنی میں سب نبیوں کے آخر میں آنے والا ہوں اور تم سب امتوں کے آخر میں آنے والی امت ہو۔“ گویا آپ کے بعد کوئی شخص اس امت کے لیے نبی بنا کر نہیں بھیجا جائے گا۔ ان احادیثِ صحیحہ کی موجودگی میں نہ کوئی مسلمان نبوت کا دعوٰی خود کر سکتا ہے، نہ کسی مدعیِ کاذب کے دعوٰی پر ایمان لا سکتا ہے مگر داد دیجیے ان بھٹکے ہوؤں کے ایمان کی جو اپنا ایمان کسی کاذب مدعیِ نبوت کے سپرد کر کے عوام کے لیے بھی بہکاوٹ کی صدہا راہیں نکالتے رہتے ہیں اور ایک مدعی کی بطالت کو ثابت کرنے کے لیے ہزاروں جھوٹ بولتے اور لاکھوں تاویلات کو کام میں لاتے ہیں۔ ایمان رہے یا نہ رہے ان احادیث کو پڑھ کر بھی کوشش جاری رہتی ہے کہ کوئی ضعیف حدیث یا کوئی گرا ہوا متقدمین کا قول ہی مل جائے تو ہم بھی اپنے دعوے میں پیش کر سکیں۔ چنانچہ مسئلہ ختمِ نبوت کے مخالف ایک حدیث صحیح پیش کیا کرتے ہیں جس کا مفہوم حقیقی تو وہی ہے جو جمیع اہل اسلام نے خاتم النبیین کا سمجھا ہے مگر وہ ہیں کہ ”اگر مگر“ پر قیاس آرائی کرتے ہوئے اپنے رہنما کے لیے پورا ایڑی چوٹی کا زور لگا کر یہ ثابت کرنے کی سعی کرتے ہیں کہ اس حدیث کے ‘اگر’ سے کچھ نفع اٹھانے کی صورت پیدا کر لیں، مگر:
وائے آرزو کہ خاک شدہ ترجمہ افسوس! (ہائے!) وہ آرزو جو مٹی میں مل گئی / خاک ہو گئی۔
ہزاروں ٹکریں مارتے ہیں مگر کامیابی نہیں ہوتی۔ فقیر یہاں وہ حدیث شریف نقل کر کے مخالفین کے لیے مفصل بحث کر دیتا ہے تاکہ وہ ”اگر مگر“ کی بھول بھلیوں سے نکل کر ابدی صراطِ مستقیم پا سکیں۔
وَبِاللهِ التَّؤْفِيْقُ
حدیث شریف یوں ہے: ((لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا)) ابنِ ماجہ جلد اول، صفحہ 237 مطبوعہ مصر۔ یہ حدیث اپنی صحت کے لحاظ سے ‘شہادتِ شہاب علی البيضاوی’ جلد 7، صفحہ 175 میں یوں بیان کی گئی ہے کہ اما صحة الحديث فلا شبهة فيها لانه رواه ابن ماجه وغيره كما ذكره ابن حجر یعنی اس حدیث کی صحت میں کوئی شبہ نہیں جیسا کہ ابن حجر نے ذکر کیا ہے اور اس حدیث کو ابن ماجہ کے علاوہ اور محدثین نے بھی ذکر کیا ہے۔
اس کی تشریح یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم 8 ہجری المقدس میں پیدا ہوئے اور ربیع الاول 10 کو بروز منگل وفات پا گئے۔ ان کی وفات پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر ابراہیم زندہ رہتے تو ضرور صدیق نبی ہوتے۔ مرزائی اس اگر میں مرزائے قادیانی کی نبوت کو ثابت کرنے کے لیے یہ استدلال کرتے ہیں کہ دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی نئے نبی کا آنا ممکن اور ثابت ہو گیا۔ یعنی اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اجراءِ نبوت لازم ہے کیونکہ ابراہیم فوت ہو گئے، اس لیے نبی نہ ہوئے تو معلوم ہوا کہ ان کا نبی نہ ہونا ان کی موت کا سبب تھا ورنہ نبوت جاری ہے اور حضور نے آیتِ خاتم النبیین سے نبوت کو کلی مسدود نہیں سمجھا اور اسی طرح کی ایک اور حدیث بھی جس کے الفاظ یہ ہیں، پیش کیا کرتے ہیں: ((لَوْ كَانَ بَعْدِيْ نَبِيًّا لَكَانَ عُمَرُ)) یعنی اگر میرے بعد کسی نبی کا ہونا ممکن ہوتا تو بلا شبہ حضرت عمر نبی ہوتے۔ یہاں بھی وہی ”اگر“ نظر آ رہا ہے، جس کے معنے نہ سمجھتے ہوئے خواہ مخواہ کھینچ کر مرزا صاحب کی نبوت نکالنے اور منوانے کی سعی کی جا رہی ہے۔ ان دلدادگانِ پیشوا سے پوچھا جائے کہ جہاں حرف ”اگر“ آئے گا، اس مطلب کا آئندہ اجراء ہی مقصود ہو گا؟ یا یہ اگر کسی اور مطلب کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں تو بات سیدھی اور صاف تھی کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد نبوت ختم تھی لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نبی ہونا محال ہوا اور صاحبزادے ابراہیمؑ کی وفات اس لیے ہوئی کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آنا تھا، اگر زندہ رہتے تو نبی ہوتے اور نبوت تھی ختم، لہٰذا فوت کر لیے گئے کیونکہ اگر زندہ رہ کر نبی ہوتے تو یہ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کسرِ شان تھی کہ باقی انبیاء کی اولاد زندہ رہ کر نبوت پائے اور حضور کی اولاد محروم النبوت ہو۔ چنانچہ اسی مفہوم کی تائید میں بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ موجود ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ اس لیے زندہ نہ رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ((ولكن لا نبي بعده)) ایسے ہی حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((ولو بقي لكان نبيا)) اگر حضرت ابراہیمؑ زندہ رہتے تو ضرور نبی ہوتے۔ ((ولكن لم يكن يبقى)) ”لیکن ممکن نہیں تھا کہ زندہ رہیں“ ((لان نبيكم اخر الانبياء)) اس لیے کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آخری نبی ہیں۔ یعنی آخری نبی کے بعد اور نبی نہیں آ سکتا۔ کیا صحابہ کرامؓ کی تشریح سے بھی یہ مطلب ذہن نشین نہیں ہوگا کہ حضرت صاحبزادہ سیدنا ابراہیمؑ کی موت کس بنا پر ہوئی؟ اور اگر اس کا مفہوم یہی فرض کر لیا جائے جو مرزا صاحب کے مرید کہتے ہیں، تو کیا حضرت عمرؓ کی نبوت تو موت سے ختم نہیں ہوئی، انہوں نے تمہارے اس غلط استدلال کے ماتحت کا دعویٰ کیوں نہ کیا؟ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ختمِ نبوت کے صحیح مفہوم کو خوب سمجھتے تھے اور ”اگر“، حرف ”لَوْ“ آپ کے نزدیک انہی مطالب کا حامل ہے تو ذرا دو مثالوں پر غور فرمانے کے بعد جاری رہنے کے معنوں کی ہٹ دھرمی کیجیے۔
1- قرآنِ مجید وحدتِ خدا کے اثبات پر دلیل پیش کرتا ہے: ﴿لَوْ كَانَ فِيْهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا﴾ یعنی اگر کائنات میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور خدا بھی ہوتا تو نظامِ عالم بگڑ جاتا اور اس میں فساد آ جاتا۔ کیا یہاں دوسرے خدا کا ہونا صرف لَو کے ماتحت ممکن ہے جس طرح اس سے پہلے استدلال کیا جا چکا ہے یا یہاں پر لَو اس حقیقت کا ترجمان ہو گا کہ اللہ کے سوا کسی اور خدا کا ہونا محال ہے اور اگر یہاں بھی اسی جدتِ علمی سے کام لیا جائے گا تو وہ علم ظاہر کرنے سے پہلے ایمان کی فکر کرنی پڑے گی۔
ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ لو عاش ابراهيم میں بھی ان کا زندہ رہنا محال تھا۔ اب کہیں یہ نہ کہہ دیں کہ دوسرے خدا کے لیے گنجائش تو ہے مگر یہ ایک الگ بات ہے کہ اتفاق سے دوسرا خدا نہیں اور اگر سوچا جائے تو آیت میں حرفِ لو موجود ہے لہٰذا دوسرا خدا ہو سکتا ہے۔ (نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذَالِكَ)
2- حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: ((لَوْ كَانَ مُوْسٰى حَيًّا لَمَا وَسِعَهُ إِلَّا اتِّبَاعِيْ)) ”یعنی اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو انہیں لامحالہ میری اطاعت کرنی پڑتی۔“ کیا یہاں سے موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا اجرا ثابت ہوگا؟ گو وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات نہیں فرما سکے۔ مختصر بات صرف یہ ہے کہ جیسے ”لَوْ“ دو خداؤں کی نفی ظاہر فرماتا ہے ویسے ہی حیاتِ موسیٰ کی نفی کرتا ہے، اور ایسے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صغیر سن بیٹے ابراہیم علیہ السلام کی نبوت کی نفی پر دال ہے۔ اور لو عاش کا صحیح ترجمہ وہی ہو سکتا ہے، جو احادیث کے مطابق اور تشریحِ صحابہ کرامؓ کے موافق ہو۔
3- ابنِ ماجہ میں ایک حدیث ہے، کہ ((انا آخر الانبياء)) یعنی میں آخری نبی ہوں۔ گویا بتا دیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
4- صحیح مسلم میں ہے ((فانى آخر الانبياء)) اس میں قطعاً شبہ نہیں کہ تحقیق میں آخری نبی ہوں۔ اس سے صاف طور پر واضح فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
5- کنز العمال میں ہے۔ ((انا خاتم الانبياء)) یعنی میں تمام نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں۔
6- مسلم و بخاری میں ہے۔ ((لم يبقى من النبوة الا المبشرات الصالحات)) یعنی نبوت کا کوئی جزو باقی نہیں رہا، مگر مبشرات الصالحات باقی ہیں۔ صحابہؓ عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ مبشرات کیا ہیں؟ فرمایا: ((الرويا الصالحه)) ”سچے خواب“، مطلب یہ کہ نبوت ختم ہو گئی ہے۔
7- ترمذی شریف میں ہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ((یا اباذر اول الانبیا آدم و اخرهم محمد و اول نبی من انبیاء بنی اسرائیل موسیٰ و اخرهم عیسیٰ)) یعنی اے ابو ذر سب سے پہلے نبی آدم ہیں اور سب سے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں اور بنی اسرائیل کے سب سے پہلے نبی موسیٰ اور آخری نبی عیسیٰ ہیں۔
کیا مسلمان کے لیے یہ وضاحت ناکافی ہے اگر بنی اسرائیل کے انبیاء علیہم السلام میں عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آیا، تو آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اس امت میں اس حدیث کے ماتحت کیوں کر کوئی نبی آ سکتا ہے۔
8- مسند امام احمد بن حنبل میں ہے۔ ((عن عائشة ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لا يبقى بعدی من النبوة شییء الا المبشرات قالوا يا رسول الله صلى الله عليه وسلم وما المبشرات قال الرويا الصالحه)) حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد نبوت میں سے کوئی چیز سوائے مبشرات کے باقی نہیں رہی۔ اس پر صحابہؓ کی طرف سے گزارش کی گئی کہ مبشرات کیا ہیں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ نیک اور سچی خوابیں۔ کیا صاف الفاظ ہیں کہ نبوت میں سے بجز سچی خوابوں کے اور کچھ باقی نہیں رہا، لہٰذا کوئی شخص نبی نہیں بن سکتا۔ ہاں کسی کو سچے خواب ضرور آ سکتے ہیں کیونکہ مبشرات کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ یہ تھی حدیث شریف کی روشنی میں تشریحِ ختمِ نبوت۔ اب مفسرینِ متقدمین کے اقوال و اعتقادات بھی سن لیجیے:
1- ابو جعفر ابنِ جریر طبریؒ اپنی تفسیر میں حضرت قتادہؓ سے خاتم النبیین کے معنے یوں بیان فرماتے ہیں: ((من قتادة رضی الله عنه ولكن رسول الله وخاتم النبيين الى آخرهم)) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول اور خاتم النبیین بمعنے آخر النبیین ہیں۔
2- امام سیوطیؒ نے درِ منثور میں بحوالہ عبد اللہ ابنِ حمیدؒ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ((عن الحسن في قوله وخاتم النبيين قال ختم الله النبيين بمحمد صلى الله عليه وسلم وكان اخر من بعث)) کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ختم کر دیا اور آپ ان تمام رسولوں میں سے جو اللہ کریم نے مبعوث فرمائے آخری نبی ہیں۔
3- علامہ زمخشریؒ نے اپنی تفسیر کشاف میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا نبوت آپ کی ذات پر ختم ہو گئی ہے۔ [کشاف جلد دوم صفحہ 215]
4- امام رازیؒ نے بھی یہی معنے کئے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا۔ [تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 617]
5- علامہ آلوسی بغدادیؒ اپنی تفسیر روح المعانی میں کہتے ہیں، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ اس لیے حضور خاتم المرسلین بھی ہیں۔ آپ کے بعد قیامت تک اب وصفِ نبوت و رسالت کسی جن و انس میں پیدا نہیں ہو سکتا ختمِ نبوت کی تصریح قرآنِ کریم میں موجود ہے اور اس پر ایمان رکھنا از بس ضروری ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔ [روح المعانی جلد ہفتم صفحہ 60]
6- علامہ زرقانیؒ شرح مواہب اللدنیہ جلد 5 صفحہ 267 میں بیان کرتے ہیں، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ آپ سب انبیاء و رسل کے ختم کرنے والے ہیں۔
مقامِ غور ہے کہ دنیائے اسلام کے بزرگ ترین مفسرین نے خاتم النبیین کے معنے یہی کئے ہیں کہ آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا پھر کس قدر جائے تعجب ہے کہ اس قدر تصریحات کے باوجود نہایت بےباکی کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کرنا اور اپنے نہ ماننے والوں کو کافر گرداننا۔ پھر اپنی خود ساختہ تفسیر و تقسیم کے دامنِ ظل و بروز میں پناہ لینا، حقیقت سے دوری نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات ہی کے زمانہ میں اور بعد میں مسیلمہ کذاب کا اتنا ہی قصور نہ تھا کہ اُس نے نبوت کا دعویٰ کیا؟ حالانکہ وہ آپ کی رسالت و قرآنِ کریم کا منکر نہ تھا اور صحابہ کرامؓ نے اُس سے وہی سلوک کیا جو کفار کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ دیکھو تاریخِ طبری جلد 3 صفحہ 244 میں مرقوم ہے کہ مسیلمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت، قرآنِ مجید اور جمیع اسلامی احکام پر ایمان رکھتا تھا لیکن ختمِ نبوت کے بس یہی مسئلہ کے انکار پر اور مدعیِ نبوت ہونے کی وجہ سے تمام صحابہؓ اور عامۃ المسلمین نے اُس کو کافر سمجھا اور کسی ایک نے بھی یہ نہ کہا کہ یہ لوگ اہل القبلہ ہیں، کلمہ گو ہیں، نماز پڑھتے ہیں، ان کو کافر نہ کہنا چاہیے، جس طرح چودہویں صدی کے بعض مسلمان کہہ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ نبوت کی شان اور حقیقت سے واقف نہیں رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین و تنقیص ہوتی ہے تو ہوتی رہے، مگر اپنے تعلقات، بھائی بندی اور خطاب، روشن خیالی میں فرق نہ آنے پائے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہانت گوارا ہے، مگر ایک بے راہرو، بھٹکے ہوئے دوست کی گوارا نہیں۔ اس تعلقِ سفلی نے اُن کے دلوں پر بیجا محبتِ دنیا و اہلِ دنیا کی مہر کر دی ہے جو چند احباب کی خوشنودی کے لیے حق سے ہٹ کر گزارہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اگر بہت زیادہ تحقیق علمی نہیں رکھتے تو اُن کو اپنے مایہ ناز شاعر علامہ اقبال ہی سے پوچھنا چاہیے تھا کہ ختمِ نبوت کے مسئلہ کو آپ نے کیا سمجھا ہے۔ چونکہ انگریزی خوان طبقہ اقبال مرحوم سے ایک خاص عقیدت رکھتا ہے اور قادیانیوں کی تبلیغ کا شکار بھی یہی زیادہ ہوا ہے۔ لہٰذا علامہ اقبال مرحوم کے عقیدہٴ ختمِ نبوت کے متعلق جو خیالات اُن کی اپنی تصنیف ‘رموزِ بیخودی’ میں بیان ہوئے ہیں، اُن سے مسلمانوں کو روشناس کرادیان غیر مفید نہ ہوگا۔ دیکھیے ‘رموزِ بیخودی’ صفحہ 118 پر علامہ مرحوم یوں اظہارِ عقیدت فرماتے ہیں:
پس خدا بر ما شریعت ختم کرد، بر رسولِ ما رسالت ختم کرد
رونق از ما محفلِ ایام را، اُو رُسُل را ختم و ما اقوام را
خلعتِ ساقی گری بر ما گذاشت، داد ما را آخرین جامے کہ داشت
حق تعالیٰ نقشِ ہر دعوٰے شکست، تا ابد اسلام را شیرازہ بست
ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ جل وعلی مجدہ، نے ہم مسلمانوں پر اپنی پسندیدہ شریعت اور ہمارے رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نبوت و رسالت کو ختم کر دیا۔ دنیا کی رونق قیامت تک اب ہمارے ہی دم سے وابستہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں اور ہم قوموں کے۔ مالکِ الملک نے (ساقی گری) توحید کا جام، اہل جہان کو پلانے کا کام ہمارے سپرد کر دیا اور یہ آخری جام (قرآن پاک) بھی ہمیں ہی عنایت فرما دیا۔ یہ ختم نبوت بہت بڑا احسانِ الٰہی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ہی آپ کے مذہب کے لیے باعثِ امتیاز ہے۔ یعنی آپ کے آخر الانبیاء ہونے ہی کے سبب سے ملتِ اسلامیہ کو قوت و طاقت حاصل ہوئی اور ہوتی رہے گی، کیونکہ اسی نکتہ میں ملت کی وحدت کا راز مضمر ہے۔ نہ اب کوئی نیا نبی آ سکتا ہے، اور نہ کوئی جداگانہ نئی امت پیدا ہو سکتی ہے۔ گویا آپ کے بعد کسی شخص کو نبی تسلیم کرنا آپ کی صریح توہین وتحقیر ہی نہیں، بلکہ اسلام سے خارج ہو جانا بھی ہے۔
نتیجہ
پیغمبری کی حقیقت معلوم ہو جانے کے بعد یہ ماننا پڑے گا کہ پیغمبر روز روز پیدا نہیں ہوتے اور نہ آتے ہیں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر قوم کے لیے ہر وقت ایک پیغمبر موجود ہو، پیغمبر کی زندگی دراصل اس کی تعلیم و ہدایت کی زندگی ہے، یعنی جب تک اس کی تعلیم اور ہدایت زندہ ہے، اس وقت تک گویا وہ خود زندہ ہے۔ پچھلے پیغمبر اس لیے مرے ہوئے اعتقاد کیے گئے کہ جو کچھ تعلیم انہوں نے فرمائی تھی اہل دنیا نے اسے بدل ڈالا اور جو کتابیں ان پر نازل ہوئیں یا بالفاظِ دیگر وہ لائے ان میں سے ایک بھی آج اپنی اصلی صورت میں موجود نہیں، اور نہ ہی ان کے پیرو یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہمارے پاس ہمارے رسول کی لائی ہوئی کتاب اصلی حالت میں موجود ہے۔ بلکہ انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی سیرتوں کو بھی بھلا دیا۔ یہ الزام نہیں امرِ واقعی ہے کہ سابقہ پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر کے بھی صحیح حالاتِ زندگی آج نہیں ملتے اور سوانحِ حیات کا ملنا تو درکنار اتنا بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاں اور کس زمانہ میں پیدا ہوئے، اور انہوں نے کیا کام کیے یا کیسے زندگی گزاری؟ اور یہی ان کی امتوں کی معنوی موت ہے۔ مگر سید الکونین، تاجدارِ کائنات، مختارِ شش جہات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زندہ ہیں اور ”حیاتِ النبی“ ہوتے ہوئے اس طرح بھی زندہ ہیں کہ حضور علیہ السلام کی تعلیم و ہدایت زندہ ہے اور جو کتاب انہوں نے زمانہ کے سامنے پیش کی تھی وہ اپنے مکمل متن اور پورے الفاظ کے ساتھ موجود ہے جس میں ایک حرف، ایک لفظ، ایک نقطہ، ایک زبر، ایک زیر اور ایک ضمہ کا فرق نہیں۔ آپ کی پاکیزہ زندگی کے حالات آپ کے ارشادات اور آپ کے اعمال و افعال سب کے سب بلا کم و کاست محفوظ اور موجود ہیں۔ آج 1375ھ ء تیرہ سو پچھتر سال سے زیادہ مدت گزر جانے کے بعد بھی تاریخ میں ان کا نقشہ ایسا صاف نظر آتا ہے کہ گویا ہم خود سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو براءِ العین دیکھ رہے ہیں۔ دنیا میں آنے والے اشخاص و افراد میں سے کسی شخص و فرد کی زندگی اتنی محفوظ نہیں جتنی تاریخ میں حضور کی حیاتِ طیبہ محفوظ ہے، دور نہ جائیں آج بھی جو لوگ بہ ارادہٴ زیارتِ مدینہ طیبہ حاضر ہوتے ہیں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ ”مسجدِ قباء“ کے صحن کے عین وسط میں ایک برآمدہ چبوترہ نما بنا ہوا ہے۔ بظاہر جس کی کوئی حقیقت معلوم نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا ہونا مسجد کی کسی ضرورت کا حامل نظر آتا ہے مگر دریافت کرنے پر معلوم ہو جائے گا کہ یہ وہ مقام ہے۔ جہاں ہجرت کے موقعہ پر سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی خود بخود ”مامور من اللہ“ ہونے کی حیثیت میں بیٹھی تھی اور حضورِ اس مقام پر اتر پڑے تھے۔ سبحان اللہ! جس اولوالعزم رسول کی اونٹنی کے پاؤں کا نشان چودہ سو سال تک اس کی امت نے گم اور آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔ اس کی باقی حیاتِ مقدسہ کیونکہ غیر محفوظ چھوڑ دی جا سکتی تھی۔ یوں سمجھیے کہ ہم اپنی زندگی کے معاملہ میں ہر وقت آنحضرت کی زندگی سے ایسا سبق لے سکتے ہیں جس کی ہم کو ضرورت پڑے۔ یہی اس امر کی پختہ دلیل ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زندہ ہیں اور آپ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی کسی دوسرے نبی کی ضرورت نہیں۔
محققین نے لکھا ہے کہ ایک پیغمبر کے بعد دوسرا پیغمبر آنے کی صرف تین وجہیں ہو سکتی ہیں۔
1- یا تو پہلے نبی کی تعلیم و ہدایت نابود ہو چکی اور مر گئی ہو اور اس کو پھر زندہ کرنے کی ضرورت ہو۔
2- یا پہلے نبی کی تعلیم مکمل نہ ہو اور اس میں ترمیم یا اضافہ کی ضرورت ہو۔
3- یا پہلا نبی کسی خاص قوم یا طبقہ کے لیے آیا ہو اور اب ایک دوسری قوم کے لیے دوسرے نبی کی ضرورت ہو۔
اور یہ تینوں وجوہات ہی اب باقی نہیں ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیم و ہدایت زندہ ہے جیسے کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے، لہٰذا پہلی وجہ دور ہو گئی کیونکہ نبی کی تعلیم و ہدایت کا زندہ ہونا گویا خود نبی کا زندہ ہونا ہوتا ہے اور جب ایک نبی اپنے عہدہ اور منصب پر موجود ہو تو دوسرا نبی کیسے آ سکتا ہے؟
دوسرا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے واسطہ سے دنیا کو اسلام کی مکمل تعلیم دی جا چکی ہے، اب نہ اس میں کسی کمی بیشی کی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی ایسا نقص باقی رہ گیا ہے جس کی تکمیل کے لیے کسی نئے نبی کے آنے کی حاجت ہو، لہٰذا دوسری وجہ بھی دور ہو گئی۔
تیسرا سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چونکہ کسی خاص قوم کے لیے نہیں بلکہ ساری کائنات کے لیے رسول مبعوث ہوئے ہیں اور تمام اہل جہان کے لیے آپ کی تعلیم و ہدایت کافی ہے، اس لیے اب کسی بھی قوم کے لیے نبی آنے کی ضرورت نہیں۔ اس سے تیسری وجہ بھی جاتی رہی اور اسی بنا پر قرآن کریم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خاتم النبیین فرماتا ہے، یعنی سلسلہٴ نبوت کو ختم کر دینے والے۔ اس لیے اب دنیا کو کسی نبی و رسول کی حاجت باقی نہیں بلکہ صرف ایسے لوگوں کی ضرورت ہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نقشِ قدم پر خود چلیں اور آپ کی تعلیمات کو سمجھ کر خود عمل کریں اور اہل دنیا سے کرائیں، فقط۔