ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) اُمّ المؤمنین حضرت سیدہ اُمّ حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا
پندرہ سال کے بعد ایک باپ اپنی بیٹی کے گھر میں داخل ہوتا ہے۔ بیٹی باپ کو دیکھتے ہی احتراماً کھڑی ہو جاتی ہے اور پوری خوش دلی سے اس کا استقبال کرتی ہے۔
ایک طویل عرصے کے بعد اپنی لختِ جگر کو اپنے سامنے پا کر باپ کی شفقت ایک تلاطم خیز چشمے کی طرح اُبل پڑتی ہے۔ فرطِ جذبات سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔
وہ پاس ہی بچھے ہوئے بستر کی طرف قدم بڑھاتا ہے، لیکن بیٹی فوراً بستر لپیٹ دیتی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر باپ پر حیرت اور رنج کی ایک عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ وہ قدرے برہمی سے دریافت کرتا ہے:
’’کیا اس بستر پر میرا بیٹھنا تمہیں گوارا نہیں؟‘‘
بیٹی بڑے ادب سے جواب دیتی ہے:
’’ابا جان! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر ہے۔ آپ ابھی شرک پر قائم ہیں، اس لیے میں پسند نہیں کرتی کہ آپ اس بستر پر بیٹھیں۔‘‘
باپ اپنی بیٹی کی یہ بات سن کر سخت ناراض ہوتا ہے اور یہ کہتے ہوئے گھر سے باہر نکل جاتا ہے:
’’تم میرے بعد بہت بدل گئی ہو۔‘‘
اپنی بیٹی کے گھر آنے والا یہ باپ مکہ کا سردار ابوسفیان تھا، جس کے تدبر، فراست اور معاملہ فہمی کا پورے عرب میں چرچا تھا۔ اس کی شخصیت قریش کے مادی جاہ و جلال، عسکری طاقت اور نظم و انتظام کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ اس کے تجارتی، سماجی اور سیاسی تعلقات عرب کے طاقتور قبائل سے لے کر بیرونی علاقوں تک پھیلے ہوئے تھے۔
یہ بیٹی حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا تھیں، جن کے حسن و جمال اور شائستہ عادات پر باپ کو بڑا ناز تھا۔ مگر انہوں نے قدیم جاہلی روایات سے الگ ہو کر حق و صداقت کے نور سے اپنے سینے کو منور کر لیا تھا۔
اس جرأت مندانہ فیصلے کے بعد ان کے آبائی شہر مکہ کی زمین ان پر تنگ ہو گئی۔ اپنے بیگانے ہو گئے اور جن سے تحفظ اور سرپرستی کی امید تھی، وہی مخالفت پر اُتر آئے۔
انہی پُرآشوب حالات میں انہیں اپنا وطن چھوڑنا پڑا، مگر اسلام کی اس حوصلہ مند بیٹی نے تمام مصیبتوں کو ثابت قدمی سے برداشت کیا۔ کوئی آزمائش اور کوئی تکلیف انہیں راہِ حق سے منحرف نہ کر سکی۔
اب وہ اُمّ المؤمنین کے لازوال شرف سے مشرف ہو چکی تھیں۔
واقعۂ فیل کے تقریباً تیس برس بعد قریش کے معزز قبیلے بنو اُمیہ کے سردار ابوسفیان کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ والدین نے اس کا نام **رملہ** رکھا۔ ان کی والدہ کا نام **صفیہ بنت ابی العاص** تھا۔
اس دور کے عرب معاشرے میں بیٹی کی ولادت بعض باپوں کے لیے رنج اور افسردگی کا سبب بن جاتی تھی، لیکن اس بچی کو دیکھ کر ابوسفیان کا دل خوشی سے بھر گیا۔
گھر کا ماحول خوش گوار اور باوقار تھا۔ اسی ماحول میں حضرت رملہ رضی اللہ عنہا نے پرورش پائی۔ شائستگی، وقار اور عرب معاشرت کی اعلیٰ اقدار ان کی طبیعت کا حصہ بن گئیں۔
علامہ ابن سعد اور دوسرے سیرت نگاروں نے ان کا شجرۂ نسب اس طرح بیان کیا ہے:
**رملہ، اُمّ حبیبہ بنت ابی سفیان بن حرب بن اُمیہ بن عبد شمس بن عبد مناف۔**
ان کی والدہ، صفیہ بنت ابی العاص، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں۔
ابوسفیان کی یہ لاڈلی بیٹی جب سنِ بلوغت کو پہنچیں تو ان کی شادی عبیداللہ بن جحش سے ہوئی۔
عبیداللہ کا خاندان قریش کے حلیف خاندانوں میں شمار ہوتا تھا اور عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کی والدہ اُمیمہ بنت عبدالمطلب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ اس تعلق سے بھی اس خاندان کی شرافت اور نسبی حیثیت واضح ہوتی ہے۔
شادی کے کچھ عرصے بعد اللہ تعالیٰ نے اس جوڑے کو ایک بیٹی عطا فرمائی، جس کا نام **حبیبہ** رکھا گیا۔ اسی بیٹی کی نسبت سے حضرت رملہ رضی اللہ عنہا کی کنیت **اُمّ حبیبہ** مشہور ہوئی۔
اس کنیت کو ایسی شہرت ملی کہ ان کے اصل نام پر غالب آ گئی۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں بھی وہ زیادہ تر حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔
### آفتابِ نبوت کا طلوع
حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ابھی اپنی زندگی کے تقریباً سترہ برس گزارے تھے کہ غارِ حرا سے نبوتِ محمدی کا آفتاب طلوع ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے سامنے توحید، حق و صداقت، امن و سلامتی اور انسانی مساوات کا پیغام لے کر آئے۔
ابتدائی حالات کے تقاضوں کے پیشِ نظر آپ اپنی دعوت نہایت خاموشی اور احتیاط کے ساتھ ان لوگوں تک پہنچاتے رہے جو اسے قبول کرنے کی استعداد رکھتے تھے۔ تاریخِ اسلام میں یہ زمانہ خفیہ دعوت کے دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر عبیداللہ بن جحش نے بھی اسلام قبول کر لیا۔
قریش کے سرداروں کی کھلم کھلا اسلام دشمنی کے باوجود ان کے خاندانوں کے افراد کا اسلام قبول کرنا اور پھر ثابت قدمی سے اس پر قائم رہنا بڑی ہمت اور مضبوط کردار کا تقاضا کرتا تھا۔
انہی باہمت اور ثابت قدم اہلِ ایمان میں حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں۔ ان کا یہ فیصلہ ان کے ایمان کی پختگی اور سیرت و کردار کی مضبوطی کا مظہر تھا۔
### ہجرتِ حبشہ
مکہ میں مسلمانوں کے لیے حالات دشوار ہوتے گئے تو اہلِ ایمان کی ایک جماعت نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔
اس مقدس سفر میں اپنے مسلمان شوہروں کے ساتھ شریک ہونے والی خواتین میں حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں۔ وہ اپنے شوہر عبیداللہ بن جحش اور بیٹی حبیبہ کے ساتھ حبشہ پہنچیں۔
اپنا وطن، خاندان اور مانوس ماحول چھوڑنا آسان نہ تھا، لیکن ایمان کی حفاظت ان کے نزدیک سب سے زیادہ اہم تھی۔
مہاجر خواتین کو یہ اطمینان بھی حاصل تھا کہ ان کے شوہر اس دینی اور روحانی سفر میں ان کے ساتھی ہیں اور پردیس کی مشکلات میں ان کا سہارا بنیں گے۔
حبشہ قریش کی پرانی تجارت گاہ تھی، جہاں وہ تجارت کے لیے آتے جاتے اور نفع کماتے تھے۔
مسلمان مہاجرین کو وہاں امن اور تحفظ میسر آیا۔ وہ اپنے دین کے معاملے میں مطمئن تھے اور آزادی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکتے تھے۔ انہیں نہ مکہ جیسے مظالم کا سامنا تھا اور نہ اپنے عقیدے کے باعث مسلسل اذیت برداشت کرنا پڑتی تھی۔
مہاجرین خود بیان کرتے تھے کہ حبشہ میں ان کے ساتھ اچھا سلوک ہوتا تھا۔ انہیں تکلیف نہیں دی جاتی تھی اور نہ ایسی ناگوار باتیں سننا پڑتی تھیں جو ان کی زندگی کو دشوار بنا دیں۔
لیکن حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کے لیے پردیس میں ایک نئی اور نہایت کڑی آزمائش منتظر تھی۔
### حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کی کڑی آزمائش
حبشہ پہنچنے کے بعد عبیداللہ بن جحش کی صحبت بدل گئی۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا ایسے لوگوں کے ساتھ ہونے لگا جو عیسائی تھے اور شراب نوشی کے عادی تھے۔
رفتہ رفتہ ان محفلوں کا اثر ان پر بھی پڑا۔ وہ شراب نوشی میں مبتلا ہو گئے اور بالآخر اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر لی۔
حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کو سمجھانے اور راہِ راست پر لانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر ان کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔
عبیداللہ کا رویہ ان کے لیے تکلیف دہ ہو گیا۔ وہ خود بھی اسلام سے پھر چکے تھے اور ان کا طرزِ عمل اہلِ ایمان کے لیے بھی اذیت کا سبب بننے لگا تھا۔
یوں جس شخص کے ساتھ حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ایمان کی حفاظت کے لیے وطن چھوڑا تھا، وہی ان کے لیے ایک بڑی آزمائش بن گیا۔
انہیں تقریباً دس برس پردیس کے ان مشکل حالات میں گزارنے پڑے۔ ماں باپ اور دوسرے عزیزوں سے دور ایک شریف اور باحیا خاتون کے لیے شوہر کا مذہب بدل لینا، شراب نوشی میں مبتلا ہونا اور دل آزار رویہ اختیار کرنا نہایت کرب ناک تھا۔
ایسے حالات کسی بھی انسان کی ہمت توڑ سکتے تھے، لیکن حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے صبر، عزیمت اور استقامت کا راستہ اختیار کیا۔
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نے ان کے دل کو مضبوط رکھا۔ زندگی کی تنگ اور تاریک گزرگاہوں میں بھی انہوں نے اپنے قدم راہِ حق سے ہٹنے نہ دیے۔
شراب نوشی نے عبیداللہ کی صحت کو تباہ کر دیا۔ آخرکار اسی حالت میں ان کی وفات ہو گئی۔
شوہر کی موت کے بعد حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنی بیٹی کے ساتھ پردیس میں بے سہارا رہ گئیں۔
جب وہ مکہ سے ہجرت کر کے نکلی تھیں تو ان کے شوہر کے بھائی حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ اور ان کے ماموں زاد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی مہاجرین میں شامل تھے۔ تاہم یہ دونوں حضرات ہجرتِ مدینہ سے پہلے بعض دوسرے مہاجرین کے ساتھ مکہ واپس آ چکے تھے۔
حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا اب بھی دوسرے مسلمانوں کے ساتھ حبشہ میں مقیم تھیں۔ وطن دور تھا، خاندان قریب نہ تھا اور شوہر کا سہارا بھی باقی نہیں رہا تھا۔
لیکن ان تمام حالات کے باوجود انہوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کی اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد قائم رکھا۔
### رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا سہارا
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اس قدیم، مخلص اور ثابت قدم پیروکار خاتون کے حالات کا علم ہوا تو آپ نے ان کی دلجوئی اور کفالت کا اہتمام فرمایا۔
حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے دین کی خاطر وطن چھوڑا تھا، پردیس کی صعوبتیں برداشت کی تھیں اور شوہر کے اسلام سے پھر جانے کے باوجود اپنے ایمان پر قائم رہی تھیں۔
عدت کی مدت پوری ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی حضرت عمرو بن اُمیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو نکاح کا پیغام دے کر حبشہ روانہ فرمایا۔
حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں اب ایک نئے باب کا آغاز ہونے والا تھا۔