خواب میں زیارت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

خواب میں زیارت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم گذشتہ سے پیوستہ۔ تاریخ 28 ربیع الثانی 1448 ہجری۔ 11 آکٹوبر 2026
حضرت سید شاہ حسینؒ کی ولادتِ با باسعاد

۴۶۷- حضرت سید شاہ حسینؒ ۱۰ ذیقعد ۱۱۸۰ھ کو بمقام اترچھتر ضلع گورداسپور (مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام سید شاہ کریمؒ تھا۔ آپ کی پیدائش سے ساڑھے تین سو سال قبل آپ کے مورث اعلیٰ حضرت شاہ دانیالؒ بحکم حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرب سے تشریف لائے اور اترچھتر آباد کیا۔ کہتے ہیں بوقتِ روانگی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازراہِ عنایت انگور کے دو دانے آپ کو عطا فرمائے تھے اور ارشاد فرمایا تھا کہ کچھ عرصہ کے بعد یہ بیج پھلیں گے۔ چنانچہ حضرت سید شاہ حسینؒ وہ پہلے نونہال تھے جن کی بشارت حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے مورث اعلیٰ کو دی تھی۔ (اولیاءِ نقشبندیہ مؤلفہ محمد امین شرقبوری صفحہ ۱۴۹)

حضرت شیخ محمد خیالیؒ کے حالاتِ زندگی اور وصال

۴۶۸- شیخ محمد خیالیؒ حضرت شیخ حسن طاہرؒ کے بڑے بیٹے تھے۔ پیران پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے عقیدت نہیں عشق تھا۔ شب بیدار، خلوت دوست اور رات بھر پر فریفتہ تھے۔ دن بھر رات کے انتظار میں بے چین و بے قرار رہتے تھے۔ جہاں شام ہوتی روزہ داروں کی طرح باوضو غروب آفتاب کے منتظر رہتے تھے۔ سلطان سکندر لودھی کا زمانہ تھا۔ آپ کو حرمین شریفین کی زیارت کا شوق ہوا۔ بارہ برس تک دارالنور مدینہ طیبہ میں محو جمال عقیدت و اخلاص نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) رہے اور کوئی آپ کے حال سے آگاہ نہ ہوا۔ بارہ برس بعد جب سید عبدالوہاب بخاری دہلویؒ دوبارہ حج کر کے مدینہ طیبہ پہنچے تو عالم مثال میں دربار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمان ملا کہ ہمارا فلاں دیوانہ فلاں مقام پر پڑا ہے۔ اسے اپنے ہمراہ ہندوستان لے جاؤ کہ بہت سے بندگان الٰہی وہاں اس کے منتظر ہیں۔ جب حاجی عبدالوہابؒ نے بشارت کا ذکر کر کے بكمال لجاجت ہندوستان تشریف لے چلنے کو کہا تو حضرت شیخؒ نے فرمایا یہ سچ ہے لیکن جب تک خود مجھے اس کا حکم نہ ہو گا ہندوستان نہیں جا سکتا۔ چنانچہ آپ کو بھی یہی بشارت ہوئی تو حضرت شیخؒ کو حاجی عبدالوہابؒ اپنے ساتھ دہلی لے آئے جہاں ۲۷ رجب المرجب ۹۹۰ھ کو آپ بہشت بریں کو سدھار گئے۔ خوابگاہ وجہ منڈل دہلی میں والد بزرگوار جناب شیخ حسن طاہرؒ کے پہلو میں ہے۔ گو آپ کی شہرت زیادہ تر علوم سلوک میں ہے لیکن آپ فقہ و حدیث اور ادب و کلام میں بھی اجتہاد کا درجہ رکھتے تھے (روستان اخیار صفحہ ۱۵۵ تا ۱۵۷) (حیات ولی از مولانا محمد رحیم بخش دہلوی صفحہ ۱۴۴)

حضرت خواجہ عبیداللہ احرار قدس سرہ کا نسب اور ولادت

۴۶۹- حضرت خواجہ عبیداللہ احرار قدس سرہ کے جدِ امجد حضرت خواجہ شہاب الدینؒ قطب وقت تھے۔ آپ کو اس فرزند کے بارے میں بشارت نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہوئی تھی کہ پیر عالم ہو گا اور اس سے طریقت و شریعت کو رونق حاصل ہوگی۔ آپ کے والد بزرگوار کا نام خواجہ محمود تھا۔ رمضان المبارک ۸۰۶ میں تاشقند کے ایک قریہ باغستان میں پیدا ہوئے اور بروز شنبہ ۲۹ ربیع الاول ۸۹۵ھ وصال فرمایا۔ مزار عالیہ سمرقند میں ہے۔ حضرت مولانا عبدالرحمن جامیؒ آپ کے عقیدت کیش اور ارادت مند تھے جو اپنے مرشد حضرت خواجہ سعد الدین کا شغری کے پہلو میں خیابان (ہرات) میں دفن ہیں۔

حضرت سید غیاث الدین قادریؒ کا احمد آباد آمد اور خدماتِ دین

۴۷۰- سید غیاث الدین قادری قدس سرہ کے احمد آباد تشریف لانے کا سبب یہ ہوا کہ ایک روز آپ کو عالم رویامیں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارت دی اور خلعت ولایت سے سرفرازی بخشی اور فرمایا کہ اے فرزند تو احمد آباد جا اور وہاں دین اسلام کو رونق بخش۔ جب آپ احمد آباد کے لئے روانہ ہوئے سلطان محمود بے گڑھہ والی احمد آباد اور وہاں کے ایک ہزار علماء و فضلاء اور سادات عظام کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شب کے درمیان بشارت دی کہ میرا فرزند سید غیاث الدین تمہارے ملک کی نگہبانی کے لئے بھیجا جا رہا ہے۔ اس کی خاطر مدارات کرنا۔ فلاں تاریخ کو وہ احمد آباد پہنچے گا۔ اس کا شاندار استقبال کرنا۔ اس میں سعادت دارین تم کو حاصل ہوگی۔ جب سلطان خواب سے بیدار ہوا تمام علماء ، فضلاء اور امراء کو جمع کیا اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر فاتحہ دی اور سب کو لذیذ کھانے کھلائے اور خواب کا حال بیان کیا۔ اس خواب کے سننے کے بعد ان سب نے عرض کیا کہ ہمیں بھی گزشتہ شب اسی طرح بشارت ہوئی ہے۔ غرض ایک ہزار سادات عظام اور علمائے کرام نے گواہی دی۔ تاریخ مقررہ پر آپ احمد آباد تشریف لائے۔ شہر میں دھوم مچ گئی اور آپ کا نہایت شاندار استقبال کیا گیا۔ ایک اعلیٰ مکان آپ کو رہنے کے لئے دیا گیا۔ وہیں رہ کر آپ نے ۲۲ برس دین کی خدمت انجام دی اور ہزارہا انسان آپ کے فیض کی بدولت صاحب ولایت ہوئے۔ ۴۱ برس کی عمر میں آپ احمد آباد تشریف لائے تھے اور ۶۳ برس کی عمر میں ۲۲ صفر ۸۹۵ھ کو وصال فرمایا۔ آپ کی تربت موضع سرسمنی متصل احمد آباد میں زیارت گاہ عالم ہے۔ (تاریخ الاولیاء حصہ دوم صفحہ ۴۹۳ تا ۴۹۴)