ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جان لے کہ مذکورہ بالا مراتب کا حصول سچی توبہ اور مرشد کامل کی تلقین کے بغیر ممکن نہیں جیسا کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے :
” اور اُن پر لازم کیا تقویٰ کا کلمہ“
اور کلمہ تقویٰ کلمہ توحید ہے لا اله الا الله بشرطیکہ یہ کسی ایسے پاک وصاف و پر ہیز گار دل سے اخذ کیا جائے جو غیر ماسوٹی سے پاک ہو ۔ اس سے مراد وہ زبانی کلمہ نہیں جسے عوام پڑھتے ہیں۔
گو کلمے کے الفاظ ایک ہی ہیں لیکن معنی میں بہت فرق ہے کہ توحید کا بیج اگر کسی زنده دل مرشد سے اخذ کیا جائے تو دل زندہ ہو جاتا ہے کہ وہ بیج نہایت عمدہ و کامل ہوتا ہے۔
اس کے برعکس خام و ناقص بیج اُگنے کے قابل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں کلمہ توحید کا نزول دو مقامات پر ہوا ہے ، ایک کا اطلاق قول ظاہر پر ہوتا ہے جیسا کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے : ۔ ” جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ کہو ” لَا إِلَهَ إِلَّا الله تو تکبر کرنے لگتے ہیں۔ یہ کلمات عوام کے حق میں نازل ہوئے ہیں۔
دوسرے کا اطلاق علم حقیقی پر ہوتا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے :۔
”پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور استغفار کرو اپنے لئے اور مومن مردوں اور عورتوں کیلئے “
اس آیت مبارکہ کا نزول خواص کی تلقین کے لئے ہوا ہے۔