آدمؑ سے خاتم ﷺ تک: قسط 3 – فرشتوں کے سامنے ایک نئے خلیفہ کا اعلان!

آدمؑ سے خاتم ﷺ تک: قسط 3 – فرشتوں کے سامنے ایک نئے خلیفہ کا اعلان!

تحریر ۔۔۔۔۔  بلال شوکت آزاد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔  بلال شوکت آزاد )علم کا مظاہرہ مکمل ہو چکا تھا۔

عالمِ بالا کی اس بے کراں اور ماورائے ادراک وسعت میں ایک گہرا سکوت طاری تھا۔

یہ سکوت لاعلمی کا نہیں، بلکہ اعترافِ حقیقت کا تھا۔

مٹی کا وہ مجسمہ، جو کچھ عرصہ قبل تک ایک بے جان اور اندر سے کھوکھلا خمیر تھا، اب کائنات کے خالق کی پھونکی گئی روح اور عطا کردہ علم کے بعد ایک زندہ، باشعور اور باوقار انسان کی حیثیت سے کھڑا تھا۔

فرشتوں نے کائنات کی ان تمام اشیاء اور حقائق کے نام سن لیے تھے، جنہیں جاننے سے ان کا نورانی علم قاصر رہا تھا۔

انہوں نے بے ساختہ پکار اٹھا تھا:

"پاک ہے تیری ذات! ہمیں اس کے سوا کچھ علم نہیں جو تو نے ہمیں سکھا دیا۔”

عالمِ بالا کی تاریخ اپنے سب سے فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی تھی۔

خالقِ کائنات نے فرشتوں کے اس ابتدائی سوال کا عملی اور حتمی جواب دے دیا تھا کہ زمین پر اس مخلوق کو کیوں خلیفہ بنایا جا رہا ہے جس سے خون ریزی اور فساد کا خدشہ ہے۔

اللہ نے واضح کر دیا کہ کائنات میں خلافت اور نیابت کا استحقاق محض بے داغ معصومیت اور مسلسل تسبیح کی بنیاد پر نہیں ملتا، بلکہ اس کے لیے اشیاء کی حقیقتوں کو سمجھنے، علم حاصل کرنے اور اس علم کی بنیاد پر ارادے کا درست استعمال کرنے کی صلاحیت درکار ہے۔

انسان کی علمی فضیلت ثابت ہو چکی تھی۔

اب کائنات کے اس نئے خلیفہ کے باقاعدہ اعلان اور اس کی تکوینی (Cosmic) تقریبِ حلف برداری کا وقت تھا۔

یہ وہ لمحہ تھا جس نے کائنات میں حق اور باطل، اطاعت اور تکبر، اور تسلیم و رضا اور بغاوت کی لکیریں ہمیشہ کے لیے کھینچ دینی تھیں۔

قرآن مجید اس عظیم الشان لمحے کو ایک جلال بھرے حکم کے ساتھ بیان کرتا ہے:

"اور (یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو!” (سورۃ البقرہ، آیت 34)

یہاں رک کر ایک لمحے کے لیے اس حکم کی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔

اسلامی عقیدے اور قرآنی تعلیمات کی رو سے سجدہ، جو کہ پیشانی کو زمین پر ٹیک دینے کا نام ہے، کمالِ بندگی کا اظہار ہے اور یہ صرف اور صرف اللہ کی ذات کے لیے مخصوص ہے۔

تو پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم کیوں دیا؟

مفسرینِ کرام اور علمائے عقائد واضح کرتے ہیں کہ یہ سجدہ "سجدہِ عبادت” نہیں تھا، بلکہ "سجدہِ تعظیمی” (احترام کا سجدہ) اور "سجدہِ تحیہ” (سلامی کا سجدہ) تھا۔

جس طرح جدید عسکری یا ریاستی نظام میں کسی بڑے منصب دار کو سلامی دی جاتی ہے، یہ کائنات کے خلیفہ کو فرشتوں کی طرف سے دی جانے والی تکوینی سلامی تھی۔

مزید برآں، یہ سجدہ درحقیقت آدم علیہ السلام کی عبادت نہیں تھی، بلکہ اللہ کے حکم کی اطاعت تھی۔

مقصود یہ دیکھنا تھا کہ خالق کا حکم آنے کے بعد کون اپنی منطق چلاتا ہے اور کون بلا چون و چرا سرِ تسلیم خم کرتا ہے۔

حکمِ الٰہی صادر ہوتے ہی فرشتوں کا ردعمل کیا تھا؟

قرآن اسے انتہائی جامعیت اور خوبصورتی سے بیان کرتا ہے:

"پس تمام کے تمام فرشتوں نے اکٹھے سجدہ کیا۔” (سورۃ ص، آیت 73)

یہاں عربی گرامر کی دو تاکیدیں (کُلُّهُمْ اور أَجْمَعُونَ) استعمال ہوئی ہیں۔

یعنی ایک فرشتہ بھی ایسا نہیں بچا جس نے سجدہ نہ کیا ہو، اور سب نے ایک ہی وقت میں، بیک زبان اور بیک حرکت سجدہ کیا۔

فرشتوں نے یہ نہیں سوچا کہ ہم نور سے بنے ہیں، ہم پاکیزہ ہیں، ہم لاکھوں سال سے عبادت کر رہے ہیں، اور یہ مخلوق مٹی سے بنی ہے اور ابھی ابھی تخلیق ہوئی ہے۔

ان کے نزدیک سب سے بڑی دلیل صرف اور صرف "حکمِ الٰہی” تھا۔

اللہ نے کہا سجدہ کرو، اور وہ سجدے میں گر گئے۔

لیکن اس بے پایاں فرمانبرداری اور نورانی سجدے کے منظر میں ایک کردار ایسا تھا جو اپنی جگہ پر ساکت کھڑا تھا۔

لاکھوں، کروڑوں فرشتوں کی جھکی ہوئی پیشانیوں کے درمیان وہ اکیلا سر اٹھائے کھڑا تھا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب اس کے اندر لاکھوں سالوں سے چھپا ہوا تکبر، اس کی رعونت اور اس کا حسد لاوے کی طرح پھٹ پڑا۔

قرآن نے تاریخِ انسانی کے اس سب سے بڑے باغی کا تعارف ان الفاظ میں کرایا:

"سوائے ابلیس کے۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا، اور وہ کافروں میں سے ہو گیا۔” (سورۃ البقرہ، آیت 34)

ابلیس کون تھا؟

کیا وہ فرشتہ تھا؟

یہاں ایک بہت بڑی تاریخی اور تفسیری بحث موجود ہے، جس نے صدیوں تک مذہبی حلقوں کو الجھائے رکھا۔

چونکہ حکم فرشتوں کو دیا گیا تھا اور ابلیس نے سجدہ نہیں کیا، تو بعض ابتدائی مفسرین اور اسرائیلی روایات نے یہ قیاس کیا کہ ابلیس بھی شاید فرشتوں ہی کے کسی اعلیٰ قبیلے کا سردار تھا۔

تفسیری روایات میں اس کا نام "عزازیل” بیان کیا گیا ہے، اور کہا گیا کہ یہ آسمانوں کا خزانچی تھا یا زمین پر فرشتوں کی فوج کا سپہ سالار تھا۔

لیکن تحقیقی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم روایات کو قرآن کے واضح بیان پر پرکھیں۔

قرآن مجید نے ابلیس کی اصل شناخت کے بارے میں کسی قیاس یا اسرائیلی روایت کی گنجائش نہیں چھوڑی۔

سورۃ الکہف کی آیت 50 میں اللہ تعالیٰ دو ٹوک الفاظ میں اعلان فرماتا ہے:

"سوائے ابلیس کے، وہ جنات میں سے تھا، پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔”

یہ ایک آیت پوری تاریخ کو واضح کر دیتی ہے۔

ابلیس فرشتہ نہیں تھا۔ وہ آگ سے پیدا کی گئی مخلوق، یعنی جنات میں سے تھا۔

فرشتوں میں تو گناہ کرنے، نافرمانی کرنے یا تکبر کرنے کا مادہ (Free Will) سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا۔

ابلیس چونکہ جن تھا، اس لیے اس کے پاس آزادیِ ارادہ موجود تھی۔

ابتدائی اسلامی تاریخ اور تفاسیرِ معتبرہ (جیسے تفسیر ابن کثیر اور تفسیر طبری) میں حضرت حسن بصریؒ اور دیگر تابعین سے یہ قول تواتر کے ساتھ منقول ہے کہ ابلیس نے ایک لمحے کے لیے بھی فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ وہ فرشتہ تھا۔

البتہ وہ اپنی کثرتِ عبادت، زہد اور علم کی وجہ سے فرشتوں کی صفوں میں، بلکہ ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کے مقام تک پہنچ چکا تھا۔

جب فرشتوں کو سجدے کا حکم ہوا، تو وہ بھی اس مجمعے میں موجود ہونے کے ناطے اس حکم کا براہِ راست مخاطب تھا۔

جب تمام فرشتے سجدے میں گر گئے اور ابلیس تنہا کھڑا رہا، تو عالمِ بالا کی اس عدالت میں کائنات کا پہلا مکالمہِ باز پرس (Interrogation) شروع ہوا۔

یہ اللہ اور ابلیس کے درمیان براہِ راست گفتگو تھی۔

اللہ تعالیٰ، جو سب کچھ جاننے والا ہے، اس نے ابلیس کے اندر چھپے تکبر کو بے نقاب کرنے اور کائنات پر اس کی منطق کا کھوکھلا پن ظاہر کرنے کے لیے اس سے سوال کیا:

"اے ابلیس! تجھے کس چیز نے اس کو سجدہ کرنے سے روکا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا؟ کیا تو نے تکبر کیا، یا تو واقعی اونچے درجے والوں میں سے تھا؟” (سورۃ ص، آیت 75)

غور کیجیے، اللہ تعالیٰ نے یہاں آدم علیہ السلام کی تخلیق کو "اپنے دونوں ہاتھوں” کی طرف منسوب کر کے اس نئے خلیفہ کی بے پناہ فضیلت اور شرف کو ظاہر کیا۔

ابلیس نے جو جواب دیا، وہ تاریخِ انسانی کا وہ پہلا جملہ تھا جس نے تعصب، نسل پرستی، مادی غرور اور باطل منطق کی بنیاد رکھی۔

ابلیس نے اللہ سے کہا:

"میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔” (سورۃ ص، آیت 76)

یہ وہ مقام ہے جہاں ایک محقق اور فلاسفر کا قلم رک کر اس نفسیات کا تجزیہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

ابلیس کا کفر یہ نہیں تھا کہ وہ اللہ کے وجود کا منکر تھا۔

وہ تو براہِ راست اللہ سے ہم کلام تھا۔

اس کا کفر یہ بھی نہیں تھا کہ وہ آخرت کو نہیں مانتا تھا، وہ قیامت کے دن تک مہلت مانگنے والا تھا۔

تو پھر اس کا کفر کیا تھا؟

امام فخر الدین رازی اور دیگر محققینِ علم الکلام واضح کرتے ہیں کہ ابلیس کا کفر "کفرِ عناد” اور "کفرِ استکبار” تھا۔

اس نے اللہ کے وجود سے نہیں، بلکہ اللہ کی ‘حاکمیت’ اور اس کے ‘حکم’ سے بغاوت کی تھی۔

اس نے اپنی محدود عقل اور ناقص منطق کو اللہ کے صریح حکم کے مقابلے میں کھڑا کر دیا تھا۔

ابلیس کی منطق کیا تھی؟

اس نے سوچا کہ آگ مٹی سے افضل ہے۔

آگ کا کام اوپر کو اٹھنا، روشنی دینا اور جلال دکھانا ہے۔

مٹی کا کام نیچے رہنا، روندے جانا اور ساکت رہنا ہے۔

اس لیے، ایک اعلیٰ عنصر (آگ) سے بنی ہوئی مخلوق، ایک ادنیٰ عنصر (مٹی) سے بنی ہوئی مخلوق کو کیسے سجدہ کر سکتی ہے؟

یہ کائنات کی تاریخ کا پہلا "قیاسِ فاسد” (باطل منطقی استدلال) تھا۔

ابلیس یہ بھول گیا کہ کسی بھی چیز کی فضیلت اس کے مادی عنصر (Material) میں نہیں ہوتی، بلکہ خالق کی عطا، علم اور اس کے مقصد میں ہوتی ہے۔

آگ اگرچہ روشن اور بلند ہوتی ہے، لیکن اس کی سرشت میں جلانا، بھسم کرنا اور تباہی مچانا ہے۔

جبکہ مٹی بظاہر ساکت اور حقیر ہے، لیکن اسی مٹی کے سینے سے کونپلیں پھوٹتی ہیں، زندگی جنم لیتی ہے، پھل اگتے ہیں اور استحکام پیدا ہوتا ہے۔

آگ بے چین ہے، مٹی بردبار ہے۔

لیکن ابلیس تعصب میں اندھا ہو چکا تھا۔

اس کا مرض "انا خیر منہ” (میں اس سے بہتر ہوں) تھا۔

یہ تکبر کی وہ پہلی بیماری تھی جو بعد میں آنے والی انسانی نسلوں میں فرعونوں، نمرودوں اور نسل پرست قوموں کی شکل میں ظاہر ہونے والی تھی۔

جب ابلیس نے اللہ کے حکم پر اپنی منطق کو ترجیح دی اور سجدے سے صاف انکار کر دیا، تو عالمِ بالا کی اس عظیم الشان عدالت سے کائنات کا سب سے سخت اور حتمی فیصلہ صادر ہوا۔

اب اللہ کی طرف سے کوئی مزید دلیل نہیں دی گئی، کیونکہ جب خالق کا صریح حکم آ جائے تو وہاں دلیل نہیں، تسلیم درکار ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کے جلال نے ابلیس کے تمام سابقہ اعمال، اس کی لاکھوں سال کی نام نہاد عبادت اور اس کے مقام کو ایک لمحے میں غارت کر دیا۔

ارشاد ہوا:

"تو یہاں (اس مقامِ بلند) سے نکل جا، کیونکہ یقیناً تو راندہ درگاہ (مردود) ہے۔ اور بے شک تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت ہے۔” (سورۃ ص، آیات 77-78)

اس ایک لمحے میں، کائنات کا وہ عالم و زاہد جن، جسے روایات میں عزازیل کہا گیا تھا، ہمیشہ کے لیے "ابلیس” (انتہائی مایوس ہونے والا) اور "شیطان” (رحمت سے دور کر دیا گیا) بن گیا۔

اس کے گلے میں قیامت تک کے لیے لعنت کا طوق ڈال دیا گیا۔

اس کا مقام چھن گیا، اس کی عزت خاک میں مل گئی، اور اس کا وجود کائنات کی سب سے غلیظ اور قابلِ نفرت حقیقت بن گیا۔

لیکن ابلیس کا غرور اور حسد اس لعنت کے بعد بھی کم نہیں ہوا۔

عام مجرم جب پکڑا جاتا ہے تو وہ معافی مانگتا ہے، روتا ہے، گڑگڑاتا ہے۔

لیکن ابلیس کے اندر کا متکبر معافی کے بجائے ایک ایسی بھیانک سازش تیار کر رہا تھا جس کا خمیازہ آنے والی انسانیت کو صدیوں تک بھگتنا تھا۔

اس نے اللہ سے توبہ کرنے کے بجائے ایک عجیب و غریب مطالبہ کیا۔ قرآن اسے یوں بیان کرتا ہے:

"(ابلیس نے) کہا: اے میرے رب! پھر مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے (قیامت تک)۔” (سورۃ ص، آیت 79)

اللہ تعالیٰ، جس کی حکمتیں ہماری عقل سے ماورا ہیں، اس نے اس کائنات کو امتحان کی ایک تجربہ گاہ (Testing ground) بنانا تھا۔

اگر ابلیس کو فوراً تباہ کر دیا جاتا، تو خیر اور شر کی وہ کشمکش کبھی پیدا ہی نہ ہوتی جو انسانی ارادے کی آزمائش کے لیے ضروری تھی۔

اللہ نے فرمایا:

"جا، تجھے اس وقتِ مقرر (قیامت) کے دن تک مہلت دی گئی۔” (سورۃ ص، آیات 80-81)

مہلت ملتے ہی ابلیس نے اپنا وہ خوفناک منشور پیش کیا جو آج تک انسانی تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

اس نے براہِ راست اللہ کو مخاطب کر کے کہا:

"تو نے جس طرح مجھے گمراہ کیا ہے (یعنی میری گمراہی کا سبب یہ انسان بنا ہے)، میں بھی تیری سیدھی راہ پر ان (انسانوں) کی گھات میں بیٹھوں گا۔ پھر میں ان کے پاس ان کے آگے سے، ان کے پیچھے سے، ان کی دائیں جانب سے اور ان کی بائیں جانب سے آؤں گا، اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔” (سورۃ الاعراف، آیات 16-17)

یہ کوئی جذباتی دھمکی نہیں تھی، یہ ایک باقاعدہ نفسیاتی جنگ کا اعلان تھا۔

ابلیس نے انسان پر حملے کی جو جہتیں بیان کیں، وہ درحقیقت انسانی نفسیات کے دروازے ہیں۔

‘آگے سے آنے’ کا مطلب تھا آخرت کے بارے میں شکوک پیدا کرنا۔

‘پیچھے سے آنے’ کا مطلب تھا دنیا کی محبت اور لالچ میں مبتلا کرنا۔

‘دائیں جانب سے آنے’ کا مطلب تھا نیکی کے کاموں میں ریاکاری، کٹر پن اور غلو پیدا کرنا۔

‘بائیں جانب سے آنے’ کا مطلب تھا کھلے گناہوں، شہوت اور برائیوں کی طرف کھینچنا۔

اور سب سے بڑی بات جو ابلیس نے کہی، وہ یہ تھی کہ

"تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔”

ابلیس جانتا تھا کہ جب انسانوں کو دنیا کی نعمتیں، طاقت اور وسائل ملیں گے تو وہ ناشکرے ہو جائیں گے۔

وہ اسی "الْحَمْدُ لِلَّهِ” کو بھول جائیں گے جو ان کے باپ آدم علیہ السلام کی زندگی کا سب سے پہلا کلمہ تھا۔

ابلیس کا مقصد انسان کو یہ ثابت کرنا تھا کہ یہ مخلوق اس قابل نہیں تھی کہ اسے زمین کا خلیفہ بنایا جاتا۔

وہ اپنے کفر کو انسانوں کے کفر کے ذریعے درست ثابت کرنا چاہتا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے اس کھلے اعلانِ جنگ کا جواب انتہائی بے نیازی اور جلال کے ساتھ دیا:

"یہاں سے ذلیل و خوار ہو کر نکل جا! ان (انسانوں) میں سے جو بھی تیری پیروی کرے گا، میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔” (سورۃ الاعراف، آیت 18)

اور سورۃ الحجر (آیت 42) میں اللہ نے اپنے بندوں کو ایک ابدی ضمانت بھی دے دی:

"بے شک میرے (مخلص) بندوں پر تیرا کوئی زور (تسلط) نہیں چل سکے گا، سوائے ان گمراہوں کے جو تیرے پیچھے چل پڑیں۔”

اس طرح عالمِ بالا کی وہ عظیم الشان محفل برخاست ہوئی۔

ابلیس، جو کچھ دیر پہلے تک فرشتوں کے ساتھ کھڑا تھا، اب لعنت کا طوق پہنے، ذلیل اور مردود ہو کر آسمانوں سے نکال دیا گیا۔

اس کے پاس اب کوئی طاقت نہیں تھی سوائے "وسوسے” اور "دھوکے” کے۔

اس سارے منظر کے دوران، آدم علیہ السلام خاموشی سے کھڑے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔

انہوں نے اپنی زندگی کے پہلے ہی دن کائنات کا سب سے بڑا سبق سیکھ لیا تھا۔

انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ علم کی طاقت کیا ہوتی ہے، اور تکبر کا انجام کیا ہوتا ہے۔

انہوں نے اپنے اس ابدی دشمن کو پہچان لیا تھا جس نے ان کے مٹی کے وجود کو حقیر سمجھا تھا اور ان کی خلافت کو چیلنج کیا تھا۔

فرشتوں کی سلامی، علم کا مظاہرہ اور شیطان کے اخراج کے بعد، آدم علیہ السلام اب باضابطہ طور پر "خلیفۃ اللہ” تسلیم کیے جا چکے تھے۔

لیکن خلیفہ کا اصل کام تو زمین پر تھا۔

مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں فوراً زمین پر نہیں بھیجا۔

ابھی آدم علیہ السلام کی ایک اور تربیت باقی تھی۔

ابھی انہیں تنہائی کا احساس ہونا تھا۔

ابھی انہیں ایک ساتھی کی ضرورت پڑنی تھی۔

اور پھر ایک ایسا مقام آنے والا تھا جہاں انہیں آزادیِ ارادہ (Free Will) کے استعمال کا پہلا عملی امتحان دینا تھا۔

آدم علیہ السلام اب اکیلے تھے۔

ان کے لیے ایک ایسی رہائش گاہ کا انتخاب کیا جا رہا تھا جس میں کائنات کی تمام نعمتیں موجود تھیں، لیکن اس میں ایک "شجرِ ممنوعہ” (Forbidden Tree) بھی ان کا منتظر تھا۔

کائنات کا یہ خلیفہ اب اس منزل کی طرف قدم بڑھانے والا تھا جسے تاریخ "جنت” کہتی ہے۔

لیکن وہ جنت کہاں تھی؟

کیا وہ یہی زمین کا کوئی باغ تھا، یا عالمِ بالا کا کوئی مقام؟

اور وہاں آدم کے وجود سے وہ کون سی ہستی تخلیق ہونے والی تھی جس نے تاریخِ انسانی کے اگلے باب کی بنیاد رکھنی تھی؟

یہ وہ سوالات ہیں جو ہمیں آدم علیہ السلام کے اس سفر کے اگلے مرحلے کی طرف لے جاتے ہیں۔

 کائنات کی تاریخ اب ایک نئی کروٹ لے رہی تھی۔

جاری ہے!

#سنجیدہ_بات

#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد