( پردۂ نفس❤️‍🔥 ) اپنے باطن سے اپنے رب تک کا سفر قسط اوّل: اپنے اندر بیٹھے اُس شخص سے ملاقات

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔کبھی ایسا ہوا کہ کسی نے تمہاری بات رد کر دی ہو، اور تم بظاہر خاموش رہے ہو، مگر اندر کہیں ایک آگ سی سلگتی رہی ہو؟ تم بار بار اسی گفتگو کو یاد کرتے رہے ہو، دل ہی دل میں جواب تراشتے رہے ہو، اور ہر بار خود کو درست ثابت کرکے سکون محسوس کیا ہو۔ پھر کبھی اچانک خیال آیا ہو کہ شاید تمہاری بات میں بھی کچھ غلطی تھی، مگر اگلے ہی لمحے دل نے تمہارے حق میں کوئی نئی دلیل پیش کر دی ہو۔

یہ جو اپنے حق میں دلیلیں تراشنے والا، اپنی خواہش کو درست ثابت کرنے والا اور اپنی کمزوری کے سامنے پردہ تان دینے والا ایک خاموش سا وجود تمہارے اندر بیٹھا ہے، اسی کو پہچاننے کا نام نفس کی معرفت ہے۔

نفس محض کوئی بری خواہش نہیں؛ یہ انسان کی ذات اور باطن سے متعلق ایک وسیع تصور ہے۔ کبھی یہ انسان کو خواہش کے پیچھے دوڑاتا ہے، کبھی غصے میں بے قابو کرتا ہے، اور کبھی اسے اپنی ہی نظر میں بے عیب بنا کر پیش کرتا ہے۔ اس کی سب سے باریک چال یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ برائی، برائی کے نام سے دکھائی نہیں دیتی۔ کبھی ضد کو اصول، کبھی تکبر کو خودداری، اور کبھی اپنی تعریف کی خواہش کو حق کی خدمت سمجھ لیا جاتا ہے۔ یوں انسان دوسروں کی اصلاح میں عمر گزار دیتا ہے، مگر اپنے اندر جھانکنے کی نوبت ہی نہیں آنے دیتا۔

قرآنِ مجید حضرت یوسفؑ کے واقعے کے ضمن میں نفس کے اسی خطرے کی طرف متوجہ کرتا ہے

إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي

بے شک نفس برائی پر ابھارنے والا ہے، مگر جس پر میرا رب رحم فرمائے۔ (سورۃ یوسف، 12:53)

یہ آیت ہمیں اپنے باطن سے بے خوف ہو جانے کے بجائے اس کی نگرانی کرنا سکھاتی ہے۔ نفس کی ایک کیفیت ایسی ہوتی ہے جس میں خواہش انسان پر غالب آنے لگتی ہے؛ اہلِ علم اسے نفسِ امّارہ کہتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر غصہ، ہر خواہش یا ہر انسانی جذبہ بذاتِ خود گناہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب تمہارے اندر خواہش اور اللہ کی ہدایت کے درمیان کشمکش پیدا ہو، تو تم کس کی بات مانتے ہو؟

رسول اللہ ﷺ نے حقیقی طاقت کا معیار بھی انسان کے اندر ہی رکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ

طاقت ور وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقت ور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ (صحیح بخاری: 6114؛ صحیح مسلم: 2609)

ذرا اس منظر کو اپنے سامنے لاؤ۔ ایک شخص تمہیں سب کے سامنے سخت بات کہہ دیتا ہے۔ تمہارے پاس جواب موجود ہے، ایسے الفاظ بھی ہیں جو اسے خاموش کر سکتے ہیں۔ تمہارا دل چاہتا ہے کہ اسے اسی محفل میں اس کی حیثیت یاد دلا دو۔ اسی لمحے تمہارے اندر دو راستے کھلتے ہیں: ایک وہ جو تمہیں فوری تسکین دے، دوسرا وہ جس پر چلنے کے لیے ضبط اور شعور درکار ہے۔ اگر تم غصے کے ہاتھوں مجبور ہو کر کسی کی عزت پامال کر دیتے ہو، تو شاید تم نے بحث جیت لی ہو، مگر اپنے نفس کے سامنے ایک امتحان ہار گئے ہو۔ اور اگر تم اپنے غصے کو قابو میں رکھ کر حق بات مناسب انداز میں کہتے ہو، تو تم نے اپنے باطن کی تربیت کی طرف ایک قدم بڑھایا ہے۔

یہی نفسِ امّارہ کی پہلی پہچان ہے: جب اندر کی خواہش تمہارے فیصلے پر حکومت کرنے لگے، اور تم اس کی پیروی کو اپنی مرضی کا نام دے دو۔

مگر اس سفر میں ناامیدی کی کوئی جگہ نہیں۔ نفس کو پہچاننا اپنے آپ سے نفرت کرنا نہیں، بلکہ اپنے اندر کی اس کمزوری کو دیکھنا ہے جس کی اصلاح کی ابھی گنجائش باقی ہے۔ بندہ جب اپنی لغزش کو تسلیم کرکے اللہ کی طرف پلٹتا ہے، تو وہ شکست خوردہ نہیں ہوتا؛ وہ واپسی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔

آج اپنے دل سے ایک سوال کرنا: جب کوئی تمہاری بات نہیں مانتا، جب تمہیں تعریف نہیں ملتی، یا جب تمہاری غلطی سامنے آتی ہے، تو تمہارے اندر سب سے پہلے کیا جاگتا ہے حق کی تلاش، یا خود کو درست ثابت کرنے کی بے چینی؟

جواب دوسروں کو نہیں دینا۔ بس اپنے رب کے سامنے سچائی سے دیکھنا۔

کیونکہ پردۂ نفس کا یہ سفر دوسروں کے عیب کھولنے کے لیے نہیں، اپنے باطن کے بند دریچوں کو پہچاننے کے لیے ہے۔

[ اگلی قسط: وہ آواز جو تمہیں ہمیشہ درست ثابت کرتی ہے  جب نفس اپنی خواہش کو حق کا لباس پہنا دیتا ہے۔]

اگر آپ پردۂ نفس کے اس سفر میں نئے ہیں تو راہِ تصوف کی پروفائل وزٹ کیجیے اور اس سلسلے کی تمام اقساط کے ساتھ جڑیے۔ یہاں دشتِ دل، رازِ دل، سفرِ انبیاء اور دیگر روحانی تحریروں کے ذریعے ہم ظاہر سے باطن تک، اور اپنے آپ سے اپنے رب کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید ان لفظوں کے کسی موڑ پر آپ کو اپنے ہی دل کی کوئی ایسی صدا سنائی دے جسے آپ مدت سے خاموش کیے بیٹھے ہیں۔

      #ازقلم_عبد_ناداں

#پردۂ_نفس #نفسِ_امارہ #تزکیۂ_نفس #محاسبۂ_نفس #راہِ_تصوف #سفرِ_باطن