اُمّ المؤمنین حضرت سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا

ازواجِ مطہرات — قسط ۲
اُمّ المؤمنین حضرت سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا

تقسیم کی رو سے وہ حضرت ثابتؓ بن قیس انصاری کے حصے میں آیی حالات کے اس انقلاب نے عرب کے ایک مشہور و معروف سردار کی بیٹی کو ایک عام مدنی گھرانے کی کنیز بنا دیا تھا۔ بڑے باپ کی اس بڑی بیٹی کے لئے یہ حالات نہایت جگر سوز تھے لیکن اس نے ہوش مندی سے اپنے مالک ثابت سے کہا کہ میں آپ کی مکاتبہ بننے کے لئے تیار ہوں یعنی آپ ایک رقم مقرر فرما دیں میں وہ ادا کروں گی

آپ اس کے بدلے مجھے آزاد کر دیں۔ حضرت ثابتؓ اس پر آمادہ ہو گئے لیکن ساتھ ہی یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ ایک سردار کی بیٹی ہے انہوں نے اپنے خیال میں زیادہ سے زیادہ زرفدیہ مقرر کیا، یعنی ۹ ۱ دقیہ سونا جس کی قیمت اس زمانے میں چار ہزار درہم تھی۔ ان کے سامنے یہ مثال موجود تھی کہ اسیران بدر میں جو مالدار اور صاحب استطاعت تھے بارگاہ نبوت سے ان کا زرآزادی چار ہزار درہم ہی مقرر ہوا تھا۔
برہ نے یہ شرط خوشدلی سے منظور کر لی لیکن تھی وہ خالی ہاتھ معاہدے کی رقم ادا کرنے کے لئے ان کے پاس اس وقت کوئی وسیلہ تھا نہ ذریعہ مگر اس بلند ہمت خاتون نے اپنی اس مشکل سے نکلنے کی راہ نکال ہی لی
اس عالی حوصلہ خاتون نے اس وقت جو حکمت عملی اختیار کی وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسے اپنے علاقے اور اپنے ملک میں رونما ہونے والی انقلابی تبدیلیوں کا پوری طرح علم تھا
محمد ﷺ کی پر عزم دعوت توحید کے نتیجے میں حق و باطل کی جو کش مکش عرصہ اٹھارہ سال سے بپا تھی اس نشیب و فراز کی تاریخ سے شعوری طور پر واقف تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے ایک ایسے قبیلے میں آنکھ کھولی تھی جو بحر احمر کے ساحل پر ایک ایسی شاہراہ پر آباد تھا جہاں سے مکہ اور مدینہ سے آنے والے تجارتی قافلے گزرتے تھے۔ نیز اس کا گھر ایک ایسے سردار کا گھرانا تھا جسے قبائل عرب میں ایک نمایاں نام حاصل تھا اس لئے اس گھر کے لئے مختلف سرداروں اور رئیسوں کی میزبانی کا شرف حاصل کرنے کے مواقع عام تھے
اس کے قبیلہ بنوخزاعہ کے قریش مکہ کے ساتھ تعلقات خیر خواہی و تعاون کی بنیاد پر استوار تھے۔ باہمی میل جول اور باہمی ربط و ضبط عام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی دعوت کی بدولت قریش میں جو ہلچل پیدا ہوئی اس سے بنو خزاعہ بھی متاثر ہوئے۔ اس دعوت ایمان کو قبول کرنے والوں پر مکہ کی سرزمین میں ظلم کے ناقابل بیان پہاڑ توڑے گئے تھے۔ جن کی وجہ سے وہ اپنا وطن چھوڑ کر حبشہ میں جلا وطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوئے ۔
اس کے باوجود نظام شرک کے علمبرداروں کا سلسلہ ستم جاری رہا۔ آخر کار اس دین حق کے پیرو کار ایک ایک کرکے مکّہ کی وادی سے امن کی تلاش میں یثرب کی طرف نکل گئے

۔ کفار مکہ کی ضد ہٹ دھرمی اور قساوت قلبی یہاں تک پہنچ گئی کہ جس ہستی کو وہ صادق اور امین کہہ کر پکارتے تھے اس کے خون کے پیاسے ہو گئے ۔ صرف اس لئے کہ وہ انہیں ایسے ضابطہ حیات اور ایسی اعلی اخلاقی اقدار کی طرف بلا رہے تھے جن میں ان کے لئے دنیا کی کامیابی بھی تھی اور آخرت کی فلاح بھی۔

دائی حق ﷺ کو مدینہ میں ٹھکانہ مل گیا لیکن قریش نے انہیں وہاں بھی چین نہ لینے دیا۔ طاقت کے زور انہیں ان کے ساتھیوں اور ان کے مرکز کو تباہ برباد کرنے کے منصوبے بنائے گئے ۔ بدر میں ناکامی کے باوجود نئے دین کے ماننے والوں کے آہنی عزم کی چٹانوں سے ٹکرا کر شکست و ذلت کے ساتھ احد اور احزاب کے معرکے ہوئے
لیکن قریش اور ان کے حلیف اپنے فوجیوں کی کثرت اور سامان حرب کی فراوانی کے باوجود واپس جانے پر مجبور ہو گئے
ان تمام حالات کی تفصیلات سے سردار حارث کی بیٹی کسے بے خبر رہ سکتی تھی ان واقعات نے اس کے قلب و ذہن کی دنیا میں تجسس اور تحقیق کا جذبہ ابھار دیا تھا کہ آخر اس دین کے اصول و قواعد بھی کیا خوب ہیں اور آپ ﷺ کی شخصیت میں ایسی کون سی جاذبیت ہے کہ ایک دفعہ جو ان سے تعلق قائم کر لیتا ہے اس میں اس درجہ استقامت و عزیمت اور بلا کی جانثاری اور فدائیت پیدا ہو جاتی ہے کہ اس کے پائے استقلال میں ذرہ بھر بھی لغزش پیدا نہیں ہوئی ۔ برہ یہ بھی دیکھ رہی تھی کہ اس کی تحریک کا ساتھ دینے والوں کی تعداد ملک کی کل آبادی کا ایک فی ہزار سے بھی کم ہے
مگر پورا ملک ان کے نعرہ حق ہائے سے گونج رہا ہے۔
قرآنی آیات کے نغموں کی روح پرور صدائیں ہر قبیلے اور ہر بستی کے باشندوں کے کانوں تک پہنچ رہی ہیں ۔ ان آیات میں ذہنوں اور دلوں کو مسخر کرنے اور اعمال وکردار میں انقلاب برپا کر دینے کی قوت بھی ہے۔ برّہ جسے قدرت نے صالح فطرت اور عقل سلیم کی نعمت سے نوازا تھا اپنے ملک کے حالات تجزیے سے اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ اب قدیم جاہلی نظام دم تو ڑ رہا ہے۔ اب اس ملک اور عرب قوم
کی قسمت دین اسلام سے وابستہ ہے۔
اور یہی دین حق و صداقت اور فوز و فلاح کا سر چشمہ ہے۔ وہ ایک مغلوب قوم کی بیٹی تھی اور فاتح قوم کے ہاتھوں اس کا خاوند اور اس کے قبیلے کے دس آدمی مارے جاچکے تھے۔ اس حالت میں اس کے دل میں مسلمانوں اور ان کے قائد کے خلاف نفرت اور عداوت و دشمنی کے جذبات بھی بھڑک سکتے تھے لیکن وہ حقیقت کو پا چکی تھی۔ اس نے اسے تسلیم کیا اور پورے شرح صدر کے ساتھ اس کی شہادت بھی دی۔
اس نے اپنی قسمت کو اسلام کی نعمت اور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے پایاں رحمت کے دامن سے وابستہ کر لیا۔ وہ نیاز مندانہ انداز میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئی۔ ان کی اس حاضری کا منظر علامه ابن سعد نے سیدہ عائشہؓ کی زبانی اس طرح بیان کیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں رونق افروز تھے اور میں اپنے حجرے کے دروازے کے قریب موجود تھی کہ ایک نوجوان عورت آئی۔وہ
حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتی تھی۔ میں اس کے حسن و جمال سے بے حد متاثر ہوئی۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ آپ ﷺ کے سامنے جائے کیونکہ میرا خیال تھا کہ جس طرح اس کے حسن و جمال نے میرے دل پر گہرا اثر کیا ہے اسی طرح آپ ﷺ بھی اس سے اثر لیں گے آنے والی خاتون جرات کر کے حجرے میں داخل ہو گئی اور آپ ﷺ کو مخاطب کر کے عرض گزار ہوئی میں قبیلہ بنو مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی ہوں۔ میرا نام برہ ہے۔ میں جس مصیبت میں مبتلا ہوں اس کا آپ ﷺ کو بخوبی علم ہے۔ میں باندی کی حیثیت سے ثابتؓ بن قیس انصاری کے حصے میں آئی ہوں لیکن باندی بن کر رہنا میرے شایان شان نہیں۔ میں نے ثابتؓ کو اس بات پر راضی کر لیا ہے کہ مجھ سے زیر آزادی وصول کر کے آزاد کر دیں۔ میرے پاس اس وقت کچھ بھی نہیں ۔ آپ ﷺ کی خدمت میں مدد کی درخواست لے کر حاضر ہوئی ہوں ۔ آپ ﷺ رقم کی ادائیگی کے سلسلے میں تعاون فرما کر مجھ پراحسان فرمائیں۔ یارسول اللہ ﷺ میں آپ پر ایمان لا چکی ہوں اب آپ ﷺ کی رحمت و شفقت کے سوا میرا کوئی سہارا نہیں۔“
دل کی گہرائی سے نکلے ہوئے یہ الفاظ سرور کائنات ﷺکی رحمت کو جوش میں لانے کا وسیلہ بن گئے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: "کیا تم اس بات کو پسند کرو گی کہ تمہارے ساتھ اس سے بہتر سلوک کیا جائے؟“

وہ کیا ؟ یارسول الله برہ نے چونک کر پوچھا۔

آپ ﷺ نے فرمایا ” میں تمہاری طرف سے فدیہ کی رقم ادا کردوں اور تم آزادی حاصل
کرنے کے بعد مجھ سے شادی کر لو ۔“

برہ نے بے ساختہ جواب دیا: "یا رسول اللہ ﷺ ! میں راضی ہوں۔

سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت ؓکو اپنے پاس بلایا اور برہ کی طرف سے مقررہ رقم ان کے حوالے کر کے اس کی آزادی کا اہتمام فرما دیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے چار سو درہم مہر کے عوض برہ کو اپنے عقد نکاح میں لے کر حرم نبوی ﷺ میں شامل کر لیا اور ساتھ ہی ان کا نام بدل کر جویریہ ؓ رکھا۔
اس شادی کی اطلاع جب مدینہ منورہ کے انصار و مہاجرین کو ملی تو انہوں نے بنو مصطلق کے تمام قیدی مرد اور عورتوں کو جو ان کے پاس غلام اور باندی کی حیثیت سے موجود تھے کسی قسم کا معاوضہ لیے بغیر ازاد کر دیا
۔ُ اس پر سیدہ عائشہ ؓ نے رشک کے انداز میں فرمایا میری نظر میں کوئی ایسی عورت نہیں جو اپنی قوم کے لیے اتنی باعث برکت ثابت ہوئی جتنی جویریہ ؓ
جاری ہے