حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا — پہلی قسط

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا — پہلی قسط

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )’’یا رسول اللہ ﷺ! میں آپ کی رسالت کی تصدیق کرنے والی ایک مسلمان عورت ہوں۔ مجھ پر جو مصیبت آن پڑی ہے، اس سے آپ واقف ہیں۔ حالات نے مجھے عزت و وقار کی بلندی سے گرا کر غلامی اور اسیری کی ذلت و خواری میں مبتلا کر دیا ہے۔ میں ایک معزز باپ کی بیٹی ہوں، جو اپنی قوم کا سردار ہے۔ کنیز بن کر رہنا میرے خاندانی وقار اور شرافت کے خلاف ہے، اس لیے میں نے اپنے مالک سے معاہدہ کر لیا ہے کہ وہ انیس اوقیہ سونے کے بدلے مجھے غلامی سے رہائی دے دیں۔ لیکن میں اس وقت بے سہارا اور تہی دست ہوں، اس لیے یہ رقم ادا کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔‘‘

 آپ کی پُرشفقت ذات کی امید پر ہی میں نے یہ معاہدہ کیا ہے۔ اب سوالی بن کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں۔ خدارا، میری آزادی کے لیے میری مدد فرمائیے۔‘‘

رحمتِ عالم ﷺ کی بارگاہ میں اپنی آزادی کی درخواست پیش کرنے والی یہ خاتون کون تھیں؟ وہ کون سے حالات تھے، جنہوں نے ایک سردار کی باعزت بیٹی کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا تھا؟ ان کی درخواست نے اللہ کے پیارے نبی ﷺ کے دریائے رحمت کو کس طرح موجزن کیا؟ اور پھر اس خاتون کی قسمت کا ستارہ کس طرح بلندی اور ارجمندی کی ایسی منزل تک پہنچا کہ ان کی زندگی عالمِ انسانیت کے لیے ایک مثال بن گئی؟

اس کی تفصیل جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس دور کے حالات پر نظر ڈالیں۔

مدینہ سے نو منزل کے فاصلے پر، بحیرۂ احمر کے ساحل کے قریب، رابغ اور جدہ کے درمیان، قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ بنو مصطلق آباد تھی۔ ان کے چشمے کا نام مریسیع تھا، جس کے گرد قبیلے کی آبادی واقع تھی۔

اس وقت مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں ایک اسلامی ریاست قائم ہو چکی تھی۔ اردگرد کے بہت سے قبائل کے ساتھ اس کے حلیفانہ تعلقات بھی استوار ہو چکے تھے، لیکن قریشِ مکہ اس نئی اسلامی ریاست کے زبردست مخالف اور دشمن تھے۔ اسی لیے وہ مختلف قبائل کو اس کے خلاف کارروائیوں پر ابھارتے رہتے تھے۔

قریش نے اپنی اسی پالیسی کے تحت بنو مصطلق کو بھی مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا۔ نتیجتاً اس قبیلے نے مدینہ پر یلغار کی نیت سے فوجی تیاریاں شروع کر دیں اور اپنے حلیفوں کو بھی اس مہم میں شامل کر لیا، تاکہ مل کر فتنہ و فساد اور قتل و غارت کا بازار گرم کیا جا سکے۔

اسلامی ریاست کے سربراہ، محمد مصطفیٰ ﷺ، ایک بیدار مغز، مستعد اور مدبر فرمانروا تھے۔ آپ ﷺ نے اس امر کا انتظام کر رکھا تھا کہ عرب میں اگر کوئی ایسا واقعہ پیش آئے، جو اسلامی ریاست پر اثر انداز ہو سکتا ہو، تو اس کی اطلاع فوراً آپ ﷺ تک پہنچے، تاکہ حالات کے مطابق حکمتِ عملی ترتیب دے کر اس کے اثرات زائل کرنے کی کوشش فرمائیں۔

رسول اللہ ﷺ کو بنو مصطلق کے ان ارادوں کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے اپنے ایک ساتھی، زید بن خصیب۔، کو اس علاقے کی طرف روانہ فرمایا، تاکہ وہ حالات کا جائزہ لیں اور ان کی اطلاع کی روشنی میں دشمن کے خلاف مناسب اقدام کیا جا سکے۔ انہوں نے واپس آ کر ان اطلاعات کی تصدیق کر دی۔

رسولِ اکرم ﷺ رحمۃ للعالمین تھے۔ آپ ﷺ کی دعوت اور تعلیم کا پیغام تمام انسانیت کے لیے موجبِ رحمت اور باعثِ امن و سلامتی تھا۔ اسی لیے آپ ﷺ ایک ماہر سپہ سالار کی حیثیت سے اپنی فوجی مہمات اور نقل و حرکت کا پروگرام اس انداز سے ترتیب دیتے کہ کم سے کم نقصان کے ساتھ مطلوبہ نتائج حاصل ہو جائیں۔ کوشش یہی ہوتی کہ فتنہ و شر کی قوتوں کو انسانی خون بہانے سے پہلے ہی اس طرح قابو کر لیا جائے کہ وہ بے بس ہو کر سرنگوں ہونے پر مجبور ہو جائیں۔

۲ شعبان، ۲ ہجری کو اسلام کے سپہ سالارِ اعظم ﷺ ایک ہزار مجاہدین کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے۔ اس لشکر کے ساتھ تیس گھوڑے تھے۔ مہاجرین کے دستے کی سالاری حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور انصار کے دستے کی سربراہی حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی۔

مدینہ سے علاقۂ قدید تک نو منزل کا فاصلہ اسلامی لشکر نے ایسی رازداری سے طے کیا کہ دشمن کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق، غازیانِ اسلام نے صبح کے وقت دشمن کو اس حالت میں اپنے نرغے میں لے لیا، جب وہ معمول کے مطابق اپنے مویشیوں کو چشمے پر پانی پلا رہے تھے۔

اسلامی لشکر نے بنو مصطلق کے پورے علاقے کو اپنے محاصرے میں لے لیا۔ اس اچانک کارروائی سے بدحواس ہو کر مختلف قبائل کے وہ لوگ، جو اسلام دشمنی کے جذبے سے یہاں جمع ہوئے تھے، راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔

ان بھاگنے والوں میں بنو مصطلق کا سردار، حارث بن ابی ضرار، بھی شامل تھا۔ یہی وہ شخص تھا، جس نے شرک و جاہلیت کے موروثی نظام کے تحفظ اور حق و صداقت کی نئی تحریک کا راستہ روکنے کے لیے قبائلی تعصبات بھڑکا کر فوجی طاقت جمع کی تھی۔ اس طاقت کے ذریعے وہ مدینہ کی اسلامی ریاست کو تہ و بالا کرنے کے منصوبے بنا رہا تھا۔

بنو مصطلق کے لوگوں نے محاصرہ توڑنے کے لیے تیر برسانے شروع کیے۔ جواب میں مسلمانوں نے محاصرہ مزید تنگ کر دیا اور دست بدست لڑائی شروع ہو گئی۔ اس لڑائی میں قبیلے کے دس افراد مارے گئے۔

جلد ہی انہیں یقین ہو گیا کہ ان کا مقابلہ کسی ایسے گروہ سے نہیں، جس کا مقصد صرف لوٹ مار ہو۔ ان کے سامنے ایک ایسی جماعت تھی، جو نظم و ضبط، سمع و اطاعت، جرأت و بہادری اور جنگی مہارت کا غیرمعمولی مظاہرہ کر رہی تھی۔ ایسا مظاہرہ نہ انہوں نے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کا تصور کیا تھا۔

بنو مصطلق کے جنگجو نہ مجاہدینِ اسلام کے کاری اور تابڑتوڑ حملوں کا مقابلہ کر پا رہے تھے اور نہ انہیں فرار کی کوئی راہ نظر آ رہی تھی۔ ان کی حیثیت ایک ایسے جتھے کی رہ گئی تھی، جس کا نہ کوئی سالار باقی تھا اور نہ قائد۔ آخرکار انہوں نے بے بس ہو کر اسلام کے سپہ سالارِ اعظم ﷺ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

اس دور میں جنگ کے مروجہ اور مسلمہ قانون کے مطابق، خونریزی اور فتنہ انگیزی کا منصوبہ بنانے والے اس قبیلے کے مال و اسباب پر اسلامی لشکر نے قبضہ کر لیا۔ اس میں دو ہزار اونٹ اور پانچ ہزار بکریاں شامل تھیں۔

قبیلے کے افراد کو قیدی بنا لیا گیا۔ مختلف روایات کے مطابق، ان کی تعداد چھ سو یا آٹھ سو تک تھی۔ ان میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔ اس معرکے میں ایک صحابی، حضرت ہشام بن صبابہ رضی اللہ عنہ، نے شہادت پائی۔

رسول اللہ ﷺ نے حکمِ خداوندی کے تحت مالِ غنیمت مجاہدین میں تقسیم فرمایا۔ گرفتار ہونے والے قیدی بھی اس دور کے طریقۂ کار کے مطابق غلاموں اور باندیوں کی حیثیت سے مجاہدین کی ملکیت میں دے دیے گئے۔

ان قیدیوں میں بنو مصطلق کے سردار، حارث بن ابی ضرار، کی ایک بیٹی بھی تھیں، جن کا نام بَرّہ تھا۔ اس وقت ان کی عمر بیس سال تھی۔ حسن و جمال میں وہ اپنی مثال آپ تھیں۔ ان کی شادی مسافح بن صفوان سے ہوئی تھی۔تقسیم کے مطابق یہ خاتون حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں۔

یہی وہ خاتون تھیں، جنہیں آگے چل کر حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے نام سے پہچانا گیا۔ حالات انہیں ایک سردار کے گھر سے اسیری تک لے آئے تھے، اور اب ان کی زندگی ایک نئے موڑ کی طرف بڑھ رہی تھی۔

**جاری ہے…