ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )برف کے نیچے گھپ اندھیرے میں روشنی کے بغیر لوہا کیسے بن سکتا ہے؟ جنوبی قطب کے جراثیم نے زمین کے لوہے کے ذخائر کی ہزاروں سال پرانی پہیلی حل کر دی ہے۔
زمین پر لوہے کے اتنے بڑے بڑے ذخائر کہاں سے آئے، یہ سائنس کا ایک بہت پرانا سوال تھا۔ اب جنوبی قطب کی برف کے نیچے چھپے ہوئے ننھے جراثیم نے اس پہیلی کا جواب دے دیا ہے۔ مائیکروبایوم جریدے کے مطابق کوریا کے سائنسدانوں نے انٹارکٹیکا کے لارسن سی آئس شیلف کے نیچے، سمندر کی تہہ میں ایسے جراثیم دریافت کیے ہیں جو بغیر روشنی اور بغیر آکسیجن کے لوہا بناتے ہیں۔ یہ جگہ زمین کی سب سے سخت جگہوں میں سے ایک ہے۔ اوپر برف کی موٹی چھت، نیچے گہرا اندھیرا اور آکسیجن نہ ہونے کے برابر۔ پرانا نظریہ یہ تھا کہ لوہے کے ذخائر صرف روشنی میں کام کرنے والے بیکٹیریا نے بنائے ہوں گے۔ لیکن اس نئی تحقیق نے یہ نظریہ بدل دیا۔ سائنسدانوں نے سمندری تہہ کے نمونوں کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا تو انہیں جراثیم کا ایک نیا گروہ ملا جو کیمیائی توانائی سے زندہ رہتا ہے۔ یہ جراثیم سورج کی روشنی پر انحصار نہیں کرتے بلکہ کیمیائی عمل سے اپنی توانائی حاصل کرتے ہیں۔ ان جراثیم کے پاس سائیک 2 نامی ایک خاص پروٹین ہے جو لوہے کو ایک حالت سے دوسری حالت میں بدل دیتا ہے، جس سے لوہا جم کر ذخائر بن جاتا ہے۔ یہ پروٹین لوہے کے ذرات کو اس طرح بدلتا ہے کہ وہ پانی میں گھلنے کے بجائے جم کر ٹھوس شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ سائنسدانوں نے اس پروٹین کو لیبارٹری میں عام بیکٹیریا میں ڈال کر بھی آزمایا اور وہاں بھی اس نے لوہے کو آکسائیڈ کر کے دکھا دیا۔ اس سے ثابت ہو گیا کہ یہ جراثیم واقعی لوہا بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ دریافت اس لیے بھی اہم ہے کہ لاکھوں سال پہلے زمین ایک برف کے گولے جیسی بن گئی تھی، جسے سائنسدان سنو بال ارتھ کہتے ہیں۔ اس دور میں بھی لوہے کے بڑے ذخائر بنے تھے، اور اب سمجھ میں آیا ہے کہ وہ اندھیرے میں کام کرنے والے انہی جیسے جراثیم نے بنائے ہوں گے۔ جب زمین برف سے ڈھکی تھی تب بھی زندگی کے یہ ننھے کارندے خاموشی سے اپنا کام کر رہے تھے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہی طریقہ مریخ یا برفیلے چاندوں پر لوہے کے نشانات سمجھنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ چھوٹے سے جراثیم نے زمین کی سب سے بڑی کہانیوں میں سے ایک کہانی سنا دی ہے۔ یہ دریافت بتاتی ہے کہ زندگی بہت سخت جگہوں پر بھی اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔