ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جگر کی چربی اور سکڑن آج دنیا کی خاموش وبا بن چکی ہے۔ میش نامی یہ بیماری لاکھوں لوگوں کے جگر کو آہستہ آہستہ سخت کرتی جاتی ہے، اور ایک بار جگر سکڑ جائے تو ڈاکٹر کہتے تھے کہ یہ نقصان واپس نہیں ہو سکتا۔ مریض کے پاس صرف انتظار رہ جاتا تھا کہ بیماری سروسس اور پھر جگر کے کینسر میں بدلے گی یا نہیں۔ لیکن اب سائنس نے اس ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔
نیدرلینڈ کے ایمسٹرڈم یونیورسٹی میڈیکل سینٹر میں ہونے والے ایک تاریخی ٹرائل کے نتائج نیچر میٹابولزم جرنل میں شائع ہوئے ہیں۔ اس میں 31 ایسے مریض شامل تھے جن کے جگر میں درمیانے سے شدید درجے کی سکڑن تھی۔ ان مریضوں کو 21 ہفتوں تک دو عام دواؤں کا مرکب دیا گیا: ڈاساٹینیب جو خون کے کینسر کی دوا ہے، اور کوئرسیٹن جو پودوں میں پایا جانے والا قدرتی مرکب ہے۔ یہ دونوں مل کر جسم کے ان بوڑھے خلیوں کو مارتی ہیں جنہیں سائنسدان زومبی خلیے کہتے ہیں۔ یہ خلیے مرتے نہیں بلکہ جسم میں پڑے رہ کر سوزش پھیلاتے اور ارد گرد کے صحت مند خلیوں کو بھی بیمار کرتے ہیں۔
نتائج نے ماہرین کو حیران کر دیا۔ جن مریضوں کو اصل دوا ملی ان میں سے 47 فیصد کے جگر کی سکڑن کم از کم ایک درجہ بہتر ہو گئی، جبکہ نقلی دوا لینے والوں میں یہ شرح صرف 7 فیصد تھی۔ اس سے بھی بڑھ کر، 53 فیصد مریضوں کی میش بیماری مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ یہ انسانی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب کسی باقاعدہ ٹرائل میں ثابت ہوا کہ زومبی خلیے صاف کرنے سے بیمار عضو خود کو ٹھیک کر سکتا ہے۔
اس تحقیق کی سب سے بڑی امید یہ ہے کہ استعمال ہونے والی دونوں دوائیں پہلے سے مارکیٹ میں موجود ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اگر بڑے ٹرائلز میں نتائج دہرائے گئے تو علاج مریضوں تک جلد پہنچ سکتا ہے۔ تاہم سائنسدانوں نے خبردار بھی کیا ہے کہ یہ چھوٹا ٹرائل تھا اور دوا لینے والوں میں مضر اثرات بھی زیادہ دیکھے گئے، اس لیے ابھی بڑے اور طویل ٹرائلز کی ضرورت ہے۔
یہ خبر ان کروڑوں لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے جن کا جگر چربی کی وجہ سے سکڑ رہا ہے۔ بڑھاپے کے خلیے صاف کر کے عضو کو جوان کرنا اب سائنسی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ یاد رکھیں کہ یہ دوا ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے، اسے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ہرگز استعمال نہ کریں۔