ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ترکی ادب سے انتخاب۔۔۔ عزیز نے سن )ترکی زبان کے ادیب، شاعر ، طنز نگار اور مزاح نگار.عزیز نے سن 1915ء:1995ء
ترکی کے دور جدید کے مشہور ادیب، شاعر، ڈراما نگار، مزاح و طنز نگار اور 100 سے زائد کتابوں کے مصنف عزیز نے سن Aziz Nesin ، کا اصل نام محمد نصرت تھا۔ عزیز نے سن 20 دسمبر 1915ء کو سلطنت عثمانیہ کے جزائر پرنس کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ لڑکپن میں استنبول آگئے ۔ ان کی 100 سے زیادہ کتا بیں منظر عام پر آئیں۔ عزیز نمین نے متعدد طنزیہ رسائل کی ادارت کی۔ طنز و مزاح پر انہیں متعدد عالمی ایوارڈ مل چکے ہیں۔ ان کی طنز و مزاح سے بھر پور کہانیاں دنیا کی کم از کم تیس زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ انہیں ترکی ، اطالیہ ، بلغاریہ اور سابق سوویت یونین میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ عزیز نمین نے 1972ء میں نمین فاؤنڈیشن ” قائم کی۔ فاؤنڈیشن کا مقصد ہر سال چار بچوں کو فاؤنڈیشن کے قائم کردہ گھر میں لاکر ان کی تمام ضروریات کی کفالت کرنا ہے۔ ان ضرور ریات میں روٹی، کپڑے اور مکان کے ساتھ ساتھ ابتدائی اسکول سے اعلیٰ تعلیمی اداروں تک بچوں کی تعلیم و تربیت بھی شامل ہے۔ اس مقصد کےحصول کے لیے عزیز نمین نے تمام تخلیقات کے تمام حقوق دائمی طور پر فاؤنڈیشن کے نام کر دیے۔ عزیز نمین کی وفات حرکت قلب بند ہونے سے 6 جولائی 1995ء کو چشمے ، ترکی میں ہوئی۔
کہ تم لوگوں کے پاؤں کی زنجیریں اور تمہارے سروں کا یہ پر اسرار بوجھ کیا ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ آتے ہی تم سب معمول کے مطابق دوبارہ وزن اٹھانے اور زنجیریں کھینچنے کے قابل ہو جاؤ گے۔“ عوام کے چہروں پر رونق آگئی ۔ سب لوگ خوشی خوشی پاؤں گھسیٹتے اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہو گئے۔
ادھر حاکم وقت نے اسی روز چالیس منتخب سرکاری ماہر اکٹھے کیے اور ان سے کہا۔ ” ہماری رعا یا جس مشکل سے دو چار ہے اس کا یقینا آپ کو بھی احساس ہو گا۔ اسی قسم کے غیر معمولی حالات کا مقابلہ کرنے کی خاطر ہی ما بدولت نے تم جیسے ماہرین کی سالہا سال سے پرورش کا بوجھ اُٹھا رکھا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ تم ہمارے احسانوں کا پورانہ سہی، تھوڑا سا بدلہ چکادو۔ ہم چاہتے ہیں کہ تم لوگ یہ معلوم کرو کہ وہ کون سا پر اسرار بوجھ ہے جسے اُٹھانے سے میری رعایا عاجز آچکی ہے ، اس بوجھ کو ہلکا کرنے کا کوئی حل تجویز کرو، لیکن خبر دار ! ایسا کوئی حل تجویز نہ کیا جائے جس سے مابدولت کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو ۔ آخر تمہارا اولین فرض بھی تو مابدولت کے حقوق کی نگرانی کرنا ہے۔
چلو …. ! اب فوراً اپنا کام شروع کرو اور اپنے علم و دانش کی طاقت سے ہماری خواہشوں کے عین مطابق کوئی ایسا حل ڈھونڈ نکالو جس سے ہماری رعایا کا شور و غوغا بند ہو جائے۔“
ماہرین نے جواب دیا۔ ” آپ کا سر آنکھوں پر سرکار ! ہماری بس ایک درخواست ہے اور وہ یہ کہ آپ ہمیں چالیس دنوں کی مہلت ریں ۔ ان چالیس دونوں میں ہمیں چالیس بوریاں کشمش اور بادام کی کھلائی جائیں تاکہ ہمارے دماغ روشن ہو جائیں۔ اکتالیسویں روز ہم حضور کی پسند کے عین مطابق رعایا کے بوجھ کی نوعیت اور اُسے کم کرنے کا مناسب حل بتادیں گے۔“ حاکم وقت نے یہ شرط منظور کرتے ہوئے
ماہرین کو خبر دار کیا۔
یاد رکھو! اگر تمہاری تجویز میری مرضی کے خلاف نکلی تو تم سب کے دو دو ٹکڑے کر کے چالیس ماہروں کے اتنی ماہر بنادوں گا۔“
اس خیال سے کہ ماہرین اپنا قیمتی وقت خوش گپیوں میں ضائع نہ کر دیں۔ حاکم وقت نے انہیں محل کے بہت بڑے کمرے میں بند کرکے باہر تالا لگوا دیا۔ ہر روز کشمش اور بادام کی ایک بوری کمرے میں دھکیل کر کمرے کو دوبارہ تالا لگادیا جاتا۔
ادھر ماہرین ، کشمش اور بادام کھا کھا کر بند کمرے میں جنسی خوشی وقت گزار رہے تھے ، ادھر رعایا کی چیخ و پکار دوبارہ حاکم وقت کے کانوں تک پہنچنے لگی۔ وہ بے چین ہو کر بند کمرے کی ایک دیوار کے چھوٹے سے سوراخ سے اندر جھانکتا تو سب ماہرین کشمش اور بادام کھانے میں مصروف نظر آتے۔ اس شغل سے فارغ ہوتے ہی وہ قلابازیاں کھاتے اور مختلف کھیلیں کھیلتے نظر آتے۔حاکم وقت دانت پیس کر دل ہی دل میں کہتا۔
بچو! چالیس روز تم ہونے دو، اگر تم نے ایک لفظ میری مرضی کے خلاف کہا تو دیکھنا، تمہارے ٹکڑے کر کے کتوں کو نہ کھلاؤں تو مجھے باد شاہ نہ کہنا“ ۔
آخر اکتالیسویں دن بادشاہ نے ماہرین کو کمرے سے نکالا ۔ سب سے بڑا ماہر ، حاکم وقت سے یوں مخاطب ہوا۔
” جناب عالی ! ہم نے چالیس دن اور چالیس رات کی انتھک محنت اور دماغ سوزی کے بعد رعایا کی تکلیف اور نوعیت کا پتہ چلالیا ہے۔
ہماری تحقیق یہ بتاتی ہے کہ اس ملک کے ہر فرد کو جو پر اسرار بوجھ تنگ کر رہا ہے ، وہ دراصل اُس کے اپنے سائے کا بوجھ ہے۔ لوگوں کا سایہ کسی صورت میں ان کا پیچھا نہیں چھوڑ تاہر وقت ان کے پاؤں سے چمٹا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ آسانی سے قدم نہیں اٹھا سکتے ۔ سایہ ، لوگوں کو جتنا زمین کی طرف کھینچتا ہے انہیں اتنا ہی اپنی کمر کا بوجھ بھاری محسوس ہوتا ہے ۔ یہی وہ نا قابل برداشت بوجھ ہے جس کے تلے آپ کی رعایا اپنے آپ کو پستا ہوا محسوس کر رہی ہے۔“
حاکم وقت اپنے ماہرین کی تشخیص سن کر بہت خوش ہوا اور ان کے علم و دانش کی بے حد تعریف کی۔ اس نے حکم دیا ماہرین کی یہ رائے فورآساری رعایا تک پہنچا دی جائے اور لوگوں کو مشورہ دیا جائے کہ اگر وہ اس پر اسرار بوجھ سے نجات چاہتے ہیں تو اپنے سائے سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ترکیب کریں۔ جوں توں کر کے سائے کے بغیر۔۔جاری ہے۔