ایک بلیک ہول اپنی کہکشاں سے نکل کر بھاگ رہا ہے — اور پیچھے نئے ستاروں کی لکیر چھوڑ رہا ہے۔۔تحقیق و ترتیب طارق اقبال سوہدروی

ایک بلیک ہول اپنی کہکشاں سے نکل کر بھاگ رہا ہے — اور پیچھے نئے ستاروں کی لکیر چھوڑ رہا ہے

تحقیق و ترتیب طارق اقبال سوہدروی

​ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ تحقیق و ترتیب طارق اقبال سوہدروی)تصور کیجیے کہ کائنات کی اتھاہ گہرائیوں میں ایک ایسا دیو ہیکل بلیک ہول موجود ہے جس کا وزن کم از کم ایک کروڑ سورجوں کے برابر ہے۔

​لیکن یہ بلیک ہول کسی کہکشاں کے پرسکون مرکز میں براجمان نہیں ہے، بلکہ یہ تقریباً 954 کلومیٹر فی سیکنڈ یعنی تقریباً 34 لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی ناقابلِ یقین رفتار سے اپنی ہی کہکشاں کو چھوڑ کر کائناتی خلا میں بھاگا جا رہا ہے۔

​سب سے زیادہ مسحور کن بات یہ ہے کہ اس مفرور بلیک ہول کے پیچھے خلا میں دو لاکھ نوری سال لمبی ایک روشن لکیر جگمگا رہی ہے۔ یہ کسی راکٹ کا دھواں نہیں ہے بلکہ نوزائیدہ چمکتے ہوئے نیلے ستاروں اور گیس کی ایک شاندار شاہراہ ہے۔

​عام طور پر بلیک ہول کو ہر شے نگلنے والی ایک تباہ کن قوت سمجھا جاتا ہے، مگر یہاں اس کی تیز رفتار حرکت اپنے پیچھے نئے ستاروں کی پیدائش کا سبب بن رہی ہے۔

​سال 2023 میں ہبل خلائی دوربین (Hubble Space Telescope) نے پہلی بار اس پراسرار لکیر کا سراغ لگایا تھا، لیکن اب سال 2026 میں ناسا کی طاقتور جیمز ویب خلائی دوربین (James Webb Space Telescope) کے نئے سائنسی مشاہدات نے اس بات کی ٹھوس تصدیق کر دی ہے کہ یہ کائنات کا پہلا بھاگتا ہوا عظیم الجثہ بلیک ہول ہے جو خلا میں ستاروں کے بیج بوتا چلا جا رہا ہے۔

​بلیک ہول اپنی ہی کہکشاں سے باہر کیسے پھینک دیا گیا؟

​ہر بڑی کہکشاں کے عین قلب میں ایک سپر میسیو بلیک ہول (Supermassive Black Hole) ہوتا ہے، جیسے ہماری ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں سیجیٹیریئس اے اسٹار (Sagittarius A*) موجود ہے جس کی کمیت چالیس لاکھ سورجوں کے برابر ہے۔

​یہ بلیک ہول کبھی اپنی مرضی سے اپنا گھر نہیں چھوڑتے، لیکن جب دو کہکشائیں آپس میں ٹکراتی ہیں تو ان کے بلیک ہول ایک دوسرے کے گرد چکر کاٹنے لگتے ہیں۔

​اب فرض کیجیے کہ اسی دوران ایک تیسری کہکشاں بھی اس تصادم میں کود پڑتی ہے اور اس کا بلیک ہول بھی اس کشمکش میں شامل ہو جاتا ہے۔ طبیعیات میں تین بھاری اجسام کا یہ ملاپ ایک انتہائی غیر مستحکم رقص بن جاتا ہے۔

​دو بلیک ہول آپس میں مل کر گھومتے ہیں اور اپنی زبردست کشش سے تیسرے بلیک ہول کو ایک ثقلی غلیل یعنی گریویٹیشنل سلنگ شاٹ (Gravitational Slingshot) کی طرح کھینچ کر اتنی تیز رفتاری سے باہر اچھال دیتے ہیں کہ وہ کہکشاں کی گرفت توڑ کر ہمیشہ کے لیے فرار ہو جاتا ہے۔

​دوسرا امکان یہ بھی ہے کہ جب دو بلیک ہول آپس میں ٹکرائے تو ان سے نکلنے والی ثقلی لہروں یعنی گریویٹیشنل ویوز (Gravitational Waves) کا رخ ایک طرف زیادہ تھا، جس نے نئے بننے والے بڑے بلیک ہول کو راکٹ کے دھکے یعنی گریویٹیشنل ریکوئل (Gravitational-Wave Recoil) کی طرح کہکشاں سے باہر دھکیل دیا۔

​دو لاکھ نوری سال لمبی لکیر کا اتفاقی سراغ

​ماہرِ فلکیات پیٹر فان ڈوکم (Pieter van Dokkum) اور ان کے ساتھی ہبل دوربین کی تصویروں میں کہکشاؤں کے جھرمٹ تلاش کر رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک سیدھی باریک لکیر پر پڑی۔

​پہلے لگا کہ شاید کیمرے کے لینز پر کوئی کائناتی ذرہ لگ گیا ہے، مگر فلکیاتی جانچ نے ہوش اڑا دیئے کہ یہ خلا میں دو لاکھ نوری سال لمبی ایک حقیقی ساخت تھی۔

​روشنی تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ اس رفتار سے بھی اس لکیر کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جانے میں دو لاکھ سال کا وقت درکار ہوتا ہے۔ ہماری پوری ملکی وے کہکشاں کا پھیلاؤ ایک لاکھ نوری سال ہے، یعنی یہ لکیر ہماری کہکشاں سے بھی دو گنا لمبی تھی۔

​اس لکیر کے پیچھے پرانی کہکشاں موجود تھی اور اس کے بالکل اگلے سرے پر ایک غیر معمولی سفید چمکدار نقطہ تھا جہاں یہ بلیک ہول موجود تھا۔

​بلیک ہول ستاروں کی لکیر کیسے بنا رہا ہے؟

​بلیک ہول اپنے اندر سے ستارے نہیں اگل رہا، بلکہ اس کی زبردست رفتار یہ کرشمہ دکھا رہی ہے۔

​کہکشاؤں کے درمیان کی خلا بالکل خالی نہیں ہوتی بلکہ وہاں ہائیڈروجن گیس کے انتہائی ہلکے اور سرد بادل پھیلے ہوتے ہیں۔

​جب ایک کروڑ سورجوں جتنا وزنی بلیک ہول آواز کی رفتار سے سینکڑوں گنا تیز رفتار سے اس گیس میں سے گزرتا ہے، تو اس کے آگے گیس کا ایک زبردست کمانی جھٹکا یعنی بو شاک (Bow Shock) پیدا ہوتا ہے۔

​اس بات کو ایک عام فہم مثال سے سمجھیں۔ جب سمندر میں کوئی تیز رفتار بحری جہاز گزرتا ہے تو اس کے آگے پانی کی ایک اونچی تکونی لہر بنتی ہے جو پانی کو کناروں کی طرف سمیٹ دیتی ہے۔

​بلیک ہول کے آگے بھی کائناتی گیس اتنی شدت سے دب جاتی ہے کہ اس کے مالیکیول آپس میں جڑ کر ٹھنڈے ہونے لگتے ہیں اور بلیک ہول کے گزر جانے کے بعد اس دبے ہوئے ملبے میں کششِ ثقل کے تحت نئے ستارے روشن ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس طرح بلیک ہول کے پیچھے نوجوان نیلے ستاروں کی ایک نہ ختم ہونے والی کہکشانی سڑک بنتی چلی جاتی ہے۔

​جیمز ویب خلائی دوربین نے کیا مہر لگائی؟

​ہبل دوربین صرف تصویر دکھا سکتی تھی، مگر سائنسی تصدیق کے لیے روشنی کا طیفی تجزیہ ضروری تھا۔

​سال 2026 میں سائنس دانوں نے جیمز ویب دوربین کے نیر اسپیک (NIRSpec) آلے سے اس لکیر کے اگلے سرے کی انٹیگرل فیلڈ اسپیکٹروسکوپی (Integral Field Spectroscopy) کی۔

​مشاہدات نے ثابت کیا کہ لکیر کے دہانے پر گیس کی رفتار میں اچانک 600 کلومیٹر فی سیکنڈ کا زبردست جھٹکا دیکھا گیا، اور گیس کے جلنے اور آئنائز ہونے کی شعاعیں بالکل وہی تھیں جو ایک سپرسونک بو شاک کے اندر پیدا ہوتی ہیں۔ اس حتمی ڈیٹا نے ثابت کر دیا کہ وہاں ایک حقیقی بلیک ہول تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

​سائنسی توازن اور اس مشاہدے کی نوعیت

​یہاں سائنسی دیانت کا تقاضا ہے کہ یہ حقیقت واضح رہے کہ سائنس دانوں نے بلیک ہول کو بذاتِ خود آنکھ سے نہیں دیکھا، کیونکہ بلیک ہول کے واقعاتی افق یعنی ایونٹ ہورائزن (Event Horizon) سے روشنی باہر نہیں آ سکتی۔

​سائنس دانوں نے اس بلیک ہول کے چھوڑے ہوئے گیس کے نشانات، گیس کی رفتار اور بننے والے ستاروں کا ریاضیاتی مطالعہ کر کے اس کی موجودگی کو دریافت کیا ہے۔

​یہ منظر ہم سے اربوں نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کا ریڈ شفٹ (Redshift) تقریباً 0.96 ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا تھا جب کائنات کی عمر اپنی موجودہ عمر کے تقریباً نصف حصے پر تھی۔

​قرآنی تدبر اور آسمانوں میں راستوں اور لکیروں کا الٰہی نظام

​کائنات کی اس بے پناہ وسعت میں ایک اندھے اور غائب بلیک ہول کا لاکھوں کلومیٹر کی رفتار سے دوڑنا، اور اپنے پیچھے آسمان کی چھاتی پر ستاروں کی دو لاکھ نوری سال لمبی شاہراہ بناتے چلے جانا خالقِ کائنات کی عظمت، طاقت اور قدرتِ کاملہ کا لرزہ خیز مظہر ہے۔

​اللہ تبارک و تعالی قرآنِ مجید کی سورۃ الذاریات کی آیت 7 میں آسمان کی اسی لکیر دار بناوٹ اور راستوں کی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے

​وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ

​ترجمہ اور قسم ہے راستوں، شکنوں اور لکیروں والے آسمان کی

​اسی طرح سورۃ التکویر کی آیات 15 اور 16 میں کائنات کے ان چھپے ہوئے اور تیزی سے دوڑنے والے اجرام کی طرف کیسا پرشکوہ اشارہ فرمایا گیا ہے

​فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ ۝ الْجَوَارِ الْكُنَّسِ

​ترجمہ پس میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے، خود چھپ جانے والے، اور خلا میں سیدھے دوڑ کر راستہ صاف کرنے والے ستاروں کی

​یہ کائناتی آیات کتنی حیرت انگیز گہرائی کے ساتھ اس فلکیاتی دریافت پر صادق آتی ہیں۔ عربی زبان میں حبک ان خوبصورت لکیروں، راستوں اور شکنوں کو کہا جاتا ہے جو ریت پر ہوا کے گزرنے یا پانی کی سطح پر لہروں سے بنتی ہیں۔ آسمان کے اندر ستاروں کی یہ دو لاکھ نوری سال لمبی سفید دھاری دراصل اسی ذاتِ حبک کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ اور وہ بلیک ہول جو خود بالکل مخفی اور غائب ہے مگر خلا میں دوڑتا ہوا گیس کے انبار کو سمیٹ کر ستاروں کا نیا جہان آباد کر رہا ہے، وہ اسی رب کی بنائی ہوئی تقدیر اور تسخیر کے اٹل قانون کا پابند ہے۔

​حاصل کلام

​سال 2026 میں جیمز ویب دوربین کے ذریعے تصدیق ہونے والی یہ دریافت فلکیاتی تاریخ کا ایک انوکھا باب ہے۔

​ایک کروڑ سورجوں جتنا وزنی بلیک ہول جب کہکشاں سے بے دخل ہوا تو اس نے خلا میں تباہی مچانے کے بجائے اپنے پیچھے دو لاکھ نوری سال لمبی ایک ایسی شاہراہ بنا دی جہاں اربوں نئے ستارے جنم لے رہے ہیں۔

​یہ سائنسی انکشاف انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ کائنات میں بظاہر فنا اور موت کا سبب بننے والی قوتیں بھی دراصل نئے وجود اور تخلیق کے الٰہی منصوبے کا ایک حصہ ہوتی ہیں، اور کائنات کے ہر نئے کھلے ہوئے راستے کے پیچھے اسی ایک پروردگار کی حکمت اور بے مثل کاریگری کارفرما ہے۔

​واللہ اعلم بالصواب

​#بلیک_ہول #جیمز_ویب #کہکشاں #BlackHole #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں

​حوالہ جات

دی ایسٹروفزیکل جرنل لیٹرز (The Astrophysical Journal Letters) سائنسی تحقیقی مقالہ 2026، جے ڈبلیو ایس ٹی کنفرمیشن آف اے رن اوے سپر میسیو بلیک ہول وایا اٹس سپرسونک بو شاک

امریکی خلائی ادارہ ناسا (NASA) ہبل خلائی دوربین مشاہداتی رپورٹ، ہبل سیز پوسیبل رن اوے بلیک ہول کریئیٹنگ اے ٹریل آف اسٹارز

ناسا سائنٹفک ویژولائزیشن اسٹوڈیو، رن اوے سپر میسیو بلیک ہول ماڈل ڈیٹا

القرآن الکریم، سورۃ الذاریات آیت 7 اور سورۃ التکویر آیات 15 تا 16