ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )برازیل میں انوکھا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک 49 سالہ شخص اپنی آن لائن محبت سے ملنے کے لیے سب کچھ بیچ کر 1,900 کلومیٹر دور پہنچا، لیکن وہاں جا کر معلوم ہوا کہ جس لڑکی سے وہ محبت کرتا تھا، وہ حقیقت میں کوئی انسان نہیں بلکہ ایک ‘آرٹیفیشل انٹیلیجنس’ (AI) کی بنائی گئی فرضی شخصیت تھی۔
رپورٹس کے مطابق مارٹنز نامی شخص نے ٹک ٹاک پر جیسیکا اولیویرا کے نام سے موجود اکاؤنٹ پر تصاویر اور ویڈیوز دیکھیں، جس کے 3 لاکھ سے زائد فالوورز تھے۔ اکاؤنٹ پر موجود پیغامات میں اس خاتون کی جانب سے رفاقت، مالی تحفظ اور ایک فارم پر رہنے کی جگہ فراہم کرنے جیسے وعدے کیے گئے تھے۔
مارٹنز ان وعدوں پر یقین کر بیٹھا اور خاتون سے ملنے کے لیے اپنے کچھ ذاتی سامان بھی فروخت کر دیے۔ اس نے 9 اکتوبر کو سفر شروع کیا اور 11 اکتوبر کو بیلو ہوریزونتے پہنچ گیا، لیکن وہاں اسے وہ خاتون نہیں ملی جس سے ملاقات کی امید لے کر وہ اتنا طویل سفر کرکے آیا تھا۔
بعدازاں ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن کے ذریعے اسے معلوم ہوا کہ جیسیکا اولیویرا کا کردار مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا تھا۔ اکاؤنٹ چلانے والے شخص نے بھی اس بات کا اعتراف کیا، تاہم اس کا کہنا تھا کہ اس نے مارٹنز سے براہِ راست رابطہ نہیں کیا تھا۔ اس کے مطابق اکاؤنٹ بنانے کا مقصد فالوورز اور لوگوں کی دلچسپی بڑھا کر اسے فروخت کرنا تھا۔
طویل سفر کے دوران مارٹنز کے پیسے بھی ختم ہوگئے، جس کے باعث اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق بلدیاتی اداروں کی جانب سے مہاجرین کی مدد کے لیے فراہم کی جانے والی خدمات کے ذریعے اس کی مدد کی گئی اور آگے کے سفر کے لیے ٹکٹ بھی دیا گیا۔ بعدازاں وہ امپراتریز کے قریب اپنے ایک رشتہ دار کے ہاں جا کر ٹھہرا۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر موجود جعلی شناختوں اور اے آئی سے تیار کردہ کرداروں کے بارے میں احتیاط برتنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
#DiscoverPakistan
Disclaimer: This content is shared strictly for informational and awareness purposes.