سورج کے مرنے کے بعد نظامِ شمسی کیوں بکھر سکتا ہے؟ — ایک نئی تحقیق نے سیاروں کے مستقبل کا حیرت انگیز راز کھول دیا۔۔تحقیق و ترتیب طارق اقبال سوہدروی

سورج کے مرنے کے بعد نظامِ شمسی کیوں بکھر سکتا ہے؟ — ایک نئی تحقیق نے سیاروں کے مستقبل کا حیرت انگیز راز کھول دیا

تحقیق و ترتیب طارق اقبال سوہدروی

​تصور کیجیے کہ آپ اربوں سال بعد کے نظامِ شمسی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

​آج کا چمکتا ہوا گرم سورج اپنی موجودہ توانائی کھو چکا ہے۔ زمین اور اندرونی سیاروں کا جغرافیہ مکمل طور پر بدل چکا ہے، جبکہ نظامِ شمسی کے چار بڑے دیو ہیکل سیارے یعنی مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون دور دراز کے وسیع مداروں میں آہستہ آہستہ گردش کر رہے ہیں۔

​لیکن پھر خلا کی وسعتوں میں ایک خوفناک اور غیر متوقع ہلچل شروع ہوتی ہے۔

​کسی سیارے کا گول مدار کھنچ کر غیر معمولی طور پر انڈے کی طرح بیضوی ہو جاتا ہے۔ دو بڑے سیارے اپنے مقررہ راستے چھوڑ کر خطرناک حد تک ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔ ان کی باہمی کششِ ثقل ایک دوسرے کے مداروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے، یہاں تک کہ کوئی سیارہ اتنی شدید کشش کا جھٹکا کھاتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے نظامِ شمسی کی سرحدوں سے بے دخل ہو کر تاریک خلا کی اتھاہ گہرائیوں میں لاوارث بھٹکنے لگتا ہے۔

​یہ منظر کسی تخیلاتی فلم کی کہانی نہیں بلکہ ستمبر اور اکتوبر 2026 میں ممتاز ماہرینِ فلکیات کی پیش کردہ ایک سائنسی تحقیق کا حاصل ہے۔

​کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Caltech) کے معروف سائنس دان کونسٹنٹین باتیگن (Konstantin Batygin)، جم فلر (Jim Fuller) اور فریڈ ایڈمز (Fred Adams) کی اس تحقیق کا عنوان ہے، سورج کے بے ترتیب مادّے کے اخراج سے پیدا ہونے والا نظامِ شمسی کا آخری عدم استحکام یعنی ٹرمینل ان اسٹیبلٹی آف دی سولر سسٹم (Terminal Instability of the Solar System Triggered by Stochastic Solar Mass Loss)۔

​اس تحقیق نے فلکیات کی دنیا میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ مرتا ہوا سورج اپنے سیاروں کو صرف دور ہی نہیں دھکیلے گا، بلکہ اپنی آخری ہچکیوں کے دوران ان کے مضبوط مداروں کو ہمیشہ کے لیے توڑ پھوڑ کر رکھ دے گا۔

​ہمارا سورج آخرکار کس طرح اپنی زندگی پوری کرے گا؟

​ہمارے سورج کی موجودہ عمر تقریباً 4.6 ارب سال ہو چکی ہے۔ اس وقت اس کے مرکز میں ہائیڈروجن گیس شدید دباؤ اور تپش کے تحت ہیلیم میں بدل رہی ہے، جسے ایٹمی انضمام یعنی نیوکلیئر فیوژن (Nuclear Fusion) کہتے ہیں۔ یہی جوہری بھٹی زمین پر روشنی اور حرارت کی ضامن ہے۔

​لیکن کائنات کے ہر ستارے کی طرح سورج کا ایندھن بھی ایک دن ختم ہونا ہے۔

​آج سے تقریباً پانچ ارب سال بعد جب سورج کے مرکز کی ہائیڈروجن ختم ہو جائے گی تو اس کا توازن بگڑ جائے گا۔ اس کی بیرونی تہیں غبارے کی طرح پھولنا شروع ہوں گی اور وہ ایک خوفناک سرخ دیو ستارہ یعنی ریڈ جائنٹ (Red Giant) بن جائے گا۔ اس پھیلاؤ کے دوران وہ اپنے قریب ترین سیاروں یعنی عطارد اور زہرہ کو نگل لے گا۔

​اس کے بعد سورج اپنی بیرونی گیسوں اور مادے کی بڑی تہیں خلا میں جھٹک کر اڑا دے گا، اور اس کا جو باقی ماندہ اندرونی حصہ بچے گا وہ سکڑ کر زمین کے برابر ایک انتہائی گھنا اور ٹھنڈا ہوتا ہوا انگارہ بن جائے گا جسے سفید بونا ستارہ یعنی وائٹ ڈوارف (White Dwarf) کہا جاتا ہے۔

​سورج کا وزن کم ہونے سے سیارے دور کیوں بھاگیں گے؟

​نظامِ شمسی کے تمام سیارے سورج کی زبردست کششِ ثقل یعنی گریویٹی کے طفیل اپنے اپنے مدار میں بندھے ہوئے ہیں۔

​جب سورج اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں اپنے وجود کا بہت بڑا حصہ خلا میں اڑا دے گا تو اس کا مجموعی وزن یعنی کمیت نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔ سائنسی حساب کے مطابق سورج اپنے موجودہ وزن کا تقریباً 46 فیصد حصہ کھو دے گا اور اس کے پاس اپنی اصل کمیت کا صرف 54 فیصد بچے گا۔

​جب مرکز کی کشش کمزور پڑے گی تو سیاروں کی گرفت ڈھیلی ہو جائے گی۔ قدرتی طور پر مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون جیسے بیرونی سیارے باہر کی طرف پھیل جائیں گے۔

​سائنسی ماڈلز بتاتے ہیں کہ سیاروں کے مدار پھیل کر موجودہ فاصلے کے مقابلے میں تقریباً 1.85 گنا دور چلے جائیں گے۔ مثال کے طور پر مشتری جو آج سورج سے تقریباً 78 کروڑ کلومیٹر دور ہے، وہ اور بھی پرے ہٹ جائے گا۔

​پرانے سائنسی ماڈلز کیا کہتے تھے؟

​اب سے پہلے تک ماہرینِ فلکیات کا یہی ماننا تھا کہ سورج اپنے مادے کو تمام سمتوں میں بالکل ہموار، یکساں اور پرسکون انداز میں خارج کرے گا۔

​اس پرانے مفروضے کی رو سے اگرچہ سیارے دور ہٹ جاتے، مگر ان کے باہمی مداروں کی ترتیب اور توازن بڑی حد تک قائم رہتا۔ پہلے کے حساب کتاب کے مطابق بیرونی سیاروں کے نظام کو اندرونی بے ترتیبی کی وجہ سے بکھرنے کے لیے کم از کم 30 سے 100 ارب سال کا طویل عرصہ درکار تھا، جو کائنات کی موجودہ عمر سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔

​لیکن ستمبر 2026 کی نئی تحقیق نے اسی پرانے مفروضے کی بنیادیں ہلا دیں۔

​مرتے ہوئے سورج کے ناہموار جھٹکے اور ستارے کی واپسی حرکت

​نئی تحقیق کا سب سے بڑا نکتہ یہ ہے کہ مرتا ہوا ستارہ کبھی بھی اپنا مادہ چاروں طرف بالکل یکساں پانی کے فوارے کی طرح نہیں اگلتا۔

​جب سورج اپنی آخری سانسیں لے رہا ہوگا تو اس کی سطح پر دیو ہیکل دھماکے ہوں گے۔ کہیں سے کھربوں ٹن گیس کا گولا ایک طرف نکلے گا تو کہیں سے دوسری طرف۔

​طبیعیات کے بنیادی قانون یعنی حرکت کے مقدارِ حرکت کے تحفظ (Conservation of Momentum) کے تحت جب مادہ کسی ایک رخ پر تیزی سے خارج ہوگا، تو خود سورج کو مخالف سمت میں ایک زوردار جھٹکا لگے گا، جسے ستارے کی واپسی حرکت یا اسٹیلر ریکوئل (Stellar Recoil) کہا جاتا ہے۔

​اسے ایک روزمرہ مثال سے سمجھیں۔ فرض کیجیے آپ پانی میں کھڑی ایک ہلکی کشتی پر کھڑے ہیں اور اچانک ایک بھاری پتھر پوری طاقت سے آگے کی طرف اچھالتے ہیں۔ پتھر تو آگے چلا جائے گا مگر ردِعمل کے طور پر کشتی پیچھے کی طرف جھٹکا کھائے گی۔ مرتے ہوئے سورج کے ساتھ بھی بالکل یہی بیتنے والی ہے۔

​4,600 جھٹکے اور بے ترتیب چال کا ریاضیاتی اثر

​سائنس دانوں نے کمپیوٹر کے سپر ماڈلز میں یہ دیکھا کہ اگر سورج کے مادہ خارج کرنے کے عمل کو باریک حصوں میں تقسیم کیا جائے تو سورج کو تقریباً 4,600 چھوٹے اور درمیانے جھٹکے لگیں گے۔

​اگرچہ انفرادی طور پر ہر جھٹکے سے سورج کی رفتار میں صرف چند میٹر فی سیکنڈ کی تبدیلی آئے گی، لیکن ریاضی میں اسے بے ترتیب چال یعنی رینڈم واک (Random Walk) کہا جاتا ہے۔

​ہزاروں جھٹکوں کا یہ غیر منظم سلسلہ سورج کو اس کے اصل مقام سے آگے پیچھے لرزاتا رہے گا۔ سورج کی یہ اندرونی ڈگمگاہٹ ان بیرونی سیاروں کے لیے زہرِ قاتل بن جائے گی جو پہلے ہی سورج کی کمزور پڑتی ہوئی گرفت کی وجہ سے ڈھیلے پڑ چکے ہوں گے۔

​کمپیوٹر سمولیشنز کے نتائج — چالیس فیصد نظام کیوں تباہ ہو گئے؟

​محققین نے مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون کے مداروں پر ان جھٹکوں کے اثرات جانچنے کے لیے 48 تفصیلی کمپیوٹر سمولیشنز چلائیں۔

​نتائج نے دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیات کو ششدر کر دیا:

​1۔ سفید بونا بننے سے پہلے کا انتشار

تقریباً 40 فیصد یعنی 48 میں سے 19 ماڈلز میں یہ دیکھا گیا کہ سورج کے مکمل سفید بونا بننے سے پہلے ہی سیاروں کے مدار آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔ مدار اتنے کھنچ گئے کہ زحل اور مشتری ایک دوسرے کے راستوں کو کاٹنے لگے اور ان کی باہمی کھینچ تان نے پورے نظام کو غیر مستحکم کر دیا۔

​2۔ بعد کے تین ارب سال میں نوے فیصد بکھراؤ

جب سفید بونا بننے کے بعد اگلے تین ارب سال کا تجزیہ کیا گیا تو 83 سے 96 فیصد ماڈلز میں بیرونی سیاروں کا توازن مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ سیارے ایک دوسرے کو اتنی شدت سے دھکیلتے ہیں کہ یورینس یا نیپچون جیسے سیارے نظامِ شمسی سے ہمیشہ کے لیے باہر خلا میں پھینک دیے جاتے ہیں اور لاوارث گھومنے والے آوارہ سیارے یعنی فری فلوٹنگ پلینٹس (Free-Floating Planets) بن جاتے ہیں۔

​زمین اور انسان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

​یہ تمام تر واقعات آج سے پانچ ارب سال بعد کے ہیں۔ اس دور تک پہنچنے سے بہت پہلے ہی سورج کی تپش اور بعد ازاں ریڈ جائنٹ بننے کا عمل زمین کے سمندروں کو سکھا کر اس کی فضا کو جلا چکا ہوگا۔ اس لیے اس تحقیق کا تعلق زمین کے کسی قریبی خطرے سے نہیں بلکہ کائنات کے ان سیاروی نظاموں کے انجام کو سمجھنے سے ہے جو اپنے ستاروں کے مرنے کے بعد باقی رہ جاتے ہیں۔

​قرآنی تدبر اور سورج کے بے نور ہونے اور سیاروں کے بکھرنے کا الٰہی اعلان

​ہم جب رات کو آسمان پر نظر اٹھاتے ہیں تو سیارے اور ستارے صدیوں سے ایک ہی حسابی راستے پر گامزن نظر آتے ہیں۔ لیکن جدید فلکیات آج جس حتمی انجام کا حساب لگا رہی ہے کہ سورج بے نور ہو کر سکڑے گا اور سیارے اپنے مدار چھوڑ کر کائنات میں تتر بتر ہو جائیں گے، قرآنِ حکیم نے چودہ سو سال قبل قیامت اور فنا کے اس کائناتی منظر کی ایسی ہو بہو تصویر کھینچ دی تھی کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

​اللہ تبارک و تعالی قرآنِ مجید کی سورۃ التکویر کی ابتدائی آیات میں سورج کے سمٹنے، بے نور ہونے اور ستاروں کے ماند پڑنے کا نقشہ کھینچتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے

​إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ ۝ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ

​ترجمہ جب سورج لپیٹ کر بے نور کر دیا جائے گا، اور جب ستارے اپنی چمک کھو کر بکھر جائیں گے

​اسی طرح سورۃ الانفطار کی پہلی دو آیات میں آسمانی مداروں کے پھٹنے اور سیاروں کے منتشر ہو کر بکھر جانے کا دو ٹوک اعلان فرمایا گیا ہے

​إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْ ۝ وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انتَثَرَتْ

​ترجمہ جب آسمان پھٹ پڑے گا، اور جب سیارے اور ستارے اپنے مداروں سے نکل کر بکھر جائیں گے

​اور سورۃ الرعد کی آیت 2 میں اس اٹل حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ سورج، چاند اور تمام فلکی اجسام ایک مقررہ میعاد تک ہی قائم رہ سکتے ہیں

​وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُم بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ

​ترجمہ اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے، ہر ایک اپنے ایک مقررہ وقت تک کے لیے چل رہا ہے، وہی سارے نظام کی تدبیر فرماتا ہے اور اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب سے ملنے کا پختہ یقین حاصل کر لو

​یہ قرآنی آیاتِ مبارکہ کتنے معجزانہ انداز میں اس سائنسی تحقیق کی روح سے ہم آہنگ ہیں۔ سورج کا لپیٹا جانا اور کواکب یعنی سیاروں کا مداروں کی قید سے چھوٹ کر فضا میں منتشر ہو جانا وہی حقیقت ہے جسے آج کیلیٹیک کے سائنس دان کمپیوٹر سمولیشنز میں ٹرمینل ان اسٹیبلٹی کا نام دے رہے ہیں۔ کائنات کا کوئی بھی ستارہ یا سیارہ ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں بنا بلکہ ہر ایک کی رفتار ایک مقررہ وقت یعنی اجل مسمیٰ تک محدود ہے، جس کے بعد اس پورے نظام کا بکھر جانا خدائی تقدیر کا اٹل فیصلہ ہے۔

​حاصل کلام

​ستمبر 2026 میں پیش کی جانے والی یہ تحقیق نظامِ شمسی کے اختتام کے بارے میں انسانی فہم کا ایک بڑا سائنسی موڑ ہے۔

​اس تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ مرتے ہوئے سورج کی آخری ہچکیاں اور غیر متوازن جھٹکے اس کے سیاروں کے توازن کو چکنا چور کر دیں گے، اور مشتری و زحل جیسے دیو ہیکل سیارے بھی اپنے مداروں سے بے دخل ہو کر خلا میں بکھر جائیں گے۔

​یہ دریافت انسان کو باور کراتی ہے کہ کائنات کا یہ پرشکوہ اور متوازن نظام ہمیشہ قائم رہنے والا نہیں بلکہ ایک علیم و خبیر پروردگار کی طے کردہ میعاد کا پابند ہے، اور جب وہ وقت آ پہنچے گا تو سورج کی بے نوری اور سیاروں کا انتشار خود اپنے خالق کی قدرت اور یکتائی کا اعلان کر رہا ہوگا۔

​واللہ اعلم بالصواب

​#نظام_شمسی #سورج #فلکیات #SolarSystem #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں

​حوالہ جات

باتیگن، فلر اور ایڈمز (Batygin, Fuller & Adams) سائنسی مقالہ ستمبر 2026، ٹرمینل ان اسٹیبلٹی آف دی سولر سسٹم ٹریگرڈ بائی اسٹوکاسٹک سولر ماس لاس، دی ایسٹروفزیکل جرنل لیٹرز

کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Caltech) پلانیٹری سائنس ریسرچ آرکائیو، فائنل ایولوشن آف دی اؤٹر سولر سسٹم

سائنسی جریدہ نیچر (Nature) فلکیاتی جائزہ اکتوبر 2026، وائے دی سولر سسٹم مائٹ ڈس انٹیگریٹ افٹر دی سن ڈائز

القرآن الکریم، سورۃ التکویر آیات 1 تا 2، سورۃ الانفطار آیات 1 تا 2، اور سورۃ الرعد آیت 2