ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دیکھو بھائی دنیا میں دو طرح کے بوجھ ہوتے ہیں ایک بوجھ جو کندھے پر ہوتا ہے جیسے بوری اینٹ پتھر یہ بوجھ انسان اتار دیتا ہے اور تھکاوٹ ختم ہو جاتی ہے اور دوسرا بوجھ جو دل اور دماغ پر ہوتا ہے یہ نظر نہیں آتا لیکن انسان کو اندر سے کھا جاتا ہے اسی کو آج کی زبان میں ڈپریشن کہتے ہیں پرانی زبان میں کچھ اور بولتے تھے آج کا نوجوان باہر سے ہنستا ہے کپڑے اچھے پہنتا ہے موبائل اچھا رکھتا ہے لیکن اندر سے ٹوٹا ہوا ہے یہ ہر کسی کی بات نہیں کرتا بلکہ سو میں سے ساٹھ ستر نوجوان ایسے ہی ہوتی ہے اس کی پہلی وجہ اللہ سے دوری ہے جب دل میں اللہ کی یاد نہیں ہوتی تو دل خالی ہو جاتا ہے اور خالی دل میں شیطان اپنا گھر بنا لیتا ہے قرآن کہتا ہے خبردار دلوں کا سکون صرف اللہ کی یاد میں ہے جب ہم نے نماز چھوڑ دی ذکر چھوڑ دیا تو سکون خود بخود چلا گیا
دوسری بڑی وجہ سوشل میڈیا کا دھوکہ ہے میں نے ایک نہیں ہزار بار کہا ہے یہ دھوکہ ہے حقیقی دنیا بہت بدل ہے بہت نوجوان دن رات موبائل پر دوسروں کی زندگی دیکھتا ہے کسی کی گاڑی کسی کا بنگلہ کسی کی شادی اور پھر اپنی زندگی کو کمتر سمجھتا ہے اس کو یہ نہیں پتہ کہ موبائل پر سب کچھ سچ نہیں ہوتا لوگ اپنا دکھ نہیں دکھاتے صرف خوشی دکھاتے ہیں اس مقابلے نے نوجوان کو احساس کمتری میں ڈال دیا ہے نفسیاتی مریض بنایا کہ فلا تو گاڑی میں کاٹن کی ساتھ گھومتا ہے چکریں لگاتا ہے پیسہ ہے میں کیسے کروں گا میں تو کمزور ہو یہ ڈیپریشن کی وجہ بن سکتی ہے
تیسری وجہ حد سے زیادہ توقعات ہیں ہر نوجوان چاہتا ہے کہ راتوں رات امیر بن جاؤں راتوں رات مشہور ہو جاؤں جب جلدی کامیابی نہیں ملتی تو وہ سمجھتا ہے کہ میں ناکام ہو گیا ہوں حالانکہ کامیابی صبر سے آتی ہے وقت سے آتی ہے
اور محنت سے اتی ہے چوتھی وجہ تنہائی ہے پہلے گھر میں دادا دادی ماں باپ بہن بھائی سب مل کر بیٹھتے تھے قصے کہانیاں سناتے تھے دل کی بات ہو جاتی تھی اب ہر کوئی اپنے کمرے میں اپنے موبائل میں قید ہے کوئی کسی کا دکھ نہیں سنتا جب دل کی بات دل میں رہ جائے تو وہی بات ڈپریشن بن جاتی ہے اب بچے ماں باپ سے بات چھپاتے ہیں تو اور لوگوں سے کیسے کرے گا
پانچویں وجہ ناجائز تعلقات ہیں آج کے نوجوان نے محبت کو کھیل سمجھ لیا ہے جب دل ٹوٹتا ہے تو وہ سمجھتا ہے دنیا ختم ہو گئی حالانکہ یہ محبت نہیں تھی یہ صرف وقت کا ضیاع تھا سچی محبت نکاح کے بعد ہی سکون دیتی ہے یہ فالتو چیزیں ہے ٹھیک ہے تو نماز کو اپنی زندگی میں لازمی کرو اللہ سے بات کرنا شروع کرو موبائل کا وقت کم کرو کتابوں سے دوستی کرو محنت کو اپنا ہتھیار بناؤ محنت محنت اور محنت لیکن محنت کی ساتھ دعا اور ڈسپلن یہ تین کامیں شروع کرو تو اپ کو میرے طرف سے کامیابی مبارک ہو اور سب سے بڑھ کر اپنے ماں باپ کے پاس بیٹھو ان سے دل کی بات کرو دل پر بوجھ نہیں اٹھاؤ
یاد رکھو ڈپریشن کوئی بیماری نہیں ہے یہ صرف اس بات کی علامت ہے کہ آپ غلط راستے پر چل کر تھک گئے ہو راستہ بدلو گے تو سکون خود آ جائے گا