ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ترکی ادب سے انتخاب۔۔۔عز یز نے سن ) حاکم وقت یہ تجویز سن کر بھنا اٹھا ، بولا ۔ لیکن کم بختو ! دن کی روشنی میں رات کا اندھیراکیونکر پیدا کرو گے ….؟
جناب ! ہم دن کی روشنی کو رات کے اندھیرے میں رنگ دیں گے ۔ اس مقصد کے لیے آپ صرف ایک کام کیجیے، ایک ایسی کال کو ٹھڑی تعمیر کر واد بیجے جس میں سورج کی ایک کرن بھی داخل نہ ہو سکے ۔ رعایا میں سے جو شخص منہ سے فریاد نکال کر حضور کے چین میں مخل ہو ، اسے اُٹھوا کر اس کال کوٹھری میں ڈال دیا جائے گا۔ کو ٹھڑی میں داخل ہوتے ہی اسے اپنے سائے سے نجات مل جائے گی اور وہ اس بوجھ سے آزاد ہو کر چیخنا چلانابند کر دے گا۔
حاکم وقت نے ماہرین کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ایک کال کوٹھڑی بنوائی ، جس میں سوئی کے سوراخ کے برابر سوراخ بھی نہ چھوڑا ۔ کہ جس سے سورج کی روشنی اندر جاسکے۔ جو شخص آه فریاد کرتا سنائی دیتا اسے پکڑ کر کال کوٹھڑی میں ڈال دیا جاتا۔ سائے سے چھٹکارا ملتے ہی ان لوگوں کی چیخ و پکار تو در کنار ، آواز تک نکلنا بند ہو جاتی۔ اس طرح کو ٹھڑی کے اندر والوں کو تو اپنے سائے سے نجات مل گئی، مگر جو لوگ باہر تھے وہ صبح ہوتے ہی حسب معمول کر اہنا شروع کر دیتے ۔ آخر کتنے لوگوں کو کال کو ٹھڑی میں ٹھونسا جا سکتا تھا ….؟ تھوڑے ہی عرصہ میں کو ٹھڑی کھچا کھچ بھر گئی۔ حاکم وقت کے حکم پر اسے اور بڑا کر دیا گیا۔ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ کو ٹھری میں تل دھرنے
کی جگہ باقی نہ بچی۔ حاکم وقت نے دوبارہ اس کی توسیع کر وادی ۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا، یہاںتک کہ ملک ایک وسیع و عریض کال کوٹھڑی میں تبدیل ہو گیا۔
سورج کی روشنی اب صرف گنی چنی جگہوں تک پہنچتی تھی جہاں خود حاکم وقت، شاہی محل کےکارندے، درباری اور خاص ماہرین کے علاوہ کال کوٹھری میں ٹھونسے جانے والے لاکھوں انسانوں کے سائے رہائش پذیر تھے۔ یہ سائے راتوں کو کہیں نظر نہ آتے ، مگر صبح ہوتے ہی زمین ر رینگنے لگتے۔
سالہا سال انسان کے سائے کا کر دار ادا کرتے کرتے ، انسان کے ہمراہ زندگی بستر کرتے کرتے اب یہ سائے بھی انسانوں کی مانند دکھائی دینے لگے تھے، مگر ان میں انسانوں کی طرح اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی اہلیت پیدا نہ ہو سکی تھی ۔ ان کے علاوہ رعایا کے چند گنے چنے لوگ بھی ابھی تک کال کو ٹھڑی سے باہر تھے ، مگر انہوں نے کو ٹھڑی کے ڈر کے مارے اپنی زبانوں کو تالے لگارکھے تھے ۔ کسی کو یہ کہنے کی جرات نہ ہوتی کہ ” اب ہم نہیں کھینچ سکتے ! یا اب ہم نہیں اٹھا سکتے ۔ “ کئی موقعوں پر تو بچارے پو چھ کچھ کے بغیر ہی خود بخود اکثر یہ کہتے سنے گئے۔ ” اب ہم عادی ہو گئے ہیں۔ اب تو ہم کھینچ بھی سکتے ہیں، اٹھا بھی سکتے ہیں۔“ اس کے بعد اس ملک میں کبھی رعایا کی چیخ و پیکار ، آہ و فغاں حاکم وقت کے کانوں تک نہ پہنچی اور نہ بھی اس کی نیند میں خلل آیا۔