ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔*یہ نئی رت اب کے سب کچھ ساتھ ہی لے جائے گی۔۔۔ تحریر۔۔۔مشتاق شباب)بالا جی ٹیلی فلمز کی سربراہ، مشہور انڈین فلم سٹار جیتندر کپور کی صاحبزادی، ایکتا کپور، جنہوں نے بھارت ٹی وی انڈسٹری میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے اور جن کے کریڈٹ پر لا تعداد ایسی ٹی وی سیریلز، سیریز اور فلمیں ہیں جن کا مقابلہ دوسری کوئی کمپنی نہیں کر سکتی ۔
اس ادارے کی سربراہ سے ایک بار انٹرویو میں پوچھا گیا کہ ان سے اکثر ٹی وی سٹار اس بات پر شاکی رہتے ہیں کہ وہ فنکاروں کو معاوضہ کم دیتی ہیں۔ ایکتا کپور نے جواب میں بتایا کہ ہمارا اصل مسئلہ ڈرامہ نگاروں کی ڈیمانڈ ہے، ڈرامہ نگار ہم سے اتنا معاوضہ ایک قسط کا لے لیتے ہیں کہ جس سے بجٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ پھر ڈرامے میں کردار اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ مرکزی کرداروں کے بعد بھی کہانی کی ڈیمانڈ کے مطابق نئے نئے کردار سامنے آتے ہیں اور بقیہ بجٹ میں ان سب کو بہتر ادائیگی مشکل ہوتی ہے۔ کیونکہ چینلز بھی ایک خاص رقم سے زیادہ ادا کرنے کا رسک نہیں لے سکتے۔ انہیں بھی اشتہارات کی امدن کے مطابق بھی ہی ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر چیز ایک مخصوص دائرے میں گھومتی رہتی ہے۔ یوں گویا درمیانے اور چھوٹے درجے کے فنکاروں کی صورتحال کچھ ایسی ہی دکھائی دیتی ہے جو فریاد کناں ہوتے ہوئے پکار اٹھتے ہیں
*تو بی رہ گیا ادھورا، میں بھی رہ گئی ادھوری*
*تیری ہور مجبوری، میری ہور مجبوری*
*رہ گئی چھلے وچ چوری تقدیر بنڑ کے*
*کی کھٹیا میں تیری ہیر بنڑ کے*
اگرچہ بھارتی فلم اور ٹی وی انڈسٹری پاکستان تو کیا دنیا کے دیگر کئی ممالک کی شوبز انڈسٹریز کے مقابلے میں بھی بہت بڑی ہے اور ہالی وڈ کے بعد اس کی وسعت کو تسلیم کیا جاتا ہے جبکہ اب تو دنیا بھر میں ایک جانب نیٹ فلیکس کے ذریعے تفریحی فلمیں اور ڈرامے چھا رہے ہیں، خصوصا اے آئی کے استعمال نے بھی ایک انقلاب برپا کر دیا ہے مگر بھارت کے اندر ایک اور رجحان تیزی سے ابھر کر ریگولر شوبز انڈسٹری کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے اور وہ ہے یوٹیوب چینل انڈسٹری۔ اور جن لوگوں کی پہنچ بالی وڈ کے ساتھ ساتھ تیلگو، بھوجپوری، مراٹھی، بنگالی اور دیگر زبانوں کی فلم انڈسٹری تک اسانی کے ساتھ نہیں ہوتی، انہوں نے اپنے اپنے علاقائی گروپس تشکیل دے کر متبادل مقامی انڈسٹری کو فروغ دینا شروع کر دیا ہے۔ (انہی کی دیکھا دیکھی اب پاکستان میں بھی یہ رجحان زور پکڑتا جا رہا ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کے ڈرامے اور دیگر مختلف نوعیت کے پروگرام عالمی سطح پر بھی دیکھے جاتے ہیں اور دنیا بھر میں پذیرائی کی وجہ سے ان کو اچھی خاصی آمدن ہونا شروع ہو چکی ہے۔ جیسا کہ ہمارے ہاں خبروں اور تبصروں کے یوٹیوب چینلز سچی جھوٹی خبریں چلا کر لاکھوں ڈالر کما رہے ہیں۔ اور ان کی وجہ سے ملک کے اندر سیاست میں ایک طوفان مچا ہوا ہے۔ ان میں سے اکثر اس قدر جھوٹ پھیلا رہے ہیں اور ان کے فالورز کی تعداد (سیاسی وابستگیوں کی بدولت) اتنی ہو گئی ہے کہ ان کی آمدن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے بعد انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کے جھوٹے سچے دعوؤں سے ملکی سیاست کا کیا حشر ہو رہا ہے، بلکہ انہیں غرض ہے تو اپنی آمدن سے، جس میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے، چاہے ان کی وجہ سے ملک کے اندر سیاست زہر آلود ہو کر نفرتیں ہی کیوں نہ پھیلاۓ اور جس سے ملک کی سالمیت کی بنیادیں کتنی ہی کمزور نہ ہو رہی ہوں۔ اگرچہ سب یوٹیوبرز ایسا رویہ نہیں رکھتے اور منفی سوچ کے حامل نہیں ہیں کہ بقول شاعر
*یہ ڈراما دکھائے گا کیاسین*
*پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ*
بات کہیں سے کہیں نکل گئی واپس اپنے موضوع پر چلتے ہیں اور بھارت کے ان یوٹیوب فنکاروں کی بات کرتے ہیں جو بڑے مراکز سے دور ہونے کی وجہ سے ان تک رسائی نہ رکھنے کی بناء پر خود ہی چھوٹے چھوٹے گروپ بنا کر ڈرامے نشر کر رہے ہیں۔ مگر لگتا ہے کہ وہ جو اکتا کپور نے چھوٹے فنکاروں کی کم معاوضے والی شکایت پر وضاحت دیتے ہوئے سارا ملبہ ڈرامہ نگاروں پر ڈال دیا تھا، اس کا توڑ ان چھوٹے چھوٹے ہو ٹیوب شوبز والوں نے یوں ڈھونڈ لیا کہ ایک ہی کہانی لے کر اور اس میں معمولی ردوبدل کرکے اس پر ڈرامے ریکارڈ کرنا شروع کردیا ۔ یوں مختلف گروپس اپنے اپنے طور پر فنکاروں اور لوکیل یعنی مناظر کی تبدیلی کے ساتھ ڈرامے نشر کر رہے ہیں۔ چلیں یہ بھی کوئی زیادہ قابل اعتراض بات نہ سہی، مگر ان کہانیوں میں معاشرے میں منفی رجحانات کو جس طرح فروغ دیا جاتا ہے، اگر ان حالات کو درست مان لیا جائے تو بھارتی معاشرے کی مکروہ صورت کی نشان دہی ہو رہی ہے۔ مثلاً وہاں دیہات سے تعلق رکھنے والوں کو گنوار جیسے الفاظ کے استعمال سے قابل نفریں سمجھنا، بوڑھی ساس پر بہوؤں کے ناروا سلوک سے ایک اور عمومی منفی معاشرتی پہلو کی نشاندہی ہو رہی ہے، بوڑھے والد کو گھر سے بے دخل کر کے اسے کسی آشرم میں زندگی گزارنے پر مجبور کرنا، بزرگوں اور کم حیثیت لوگوں کو بلا وجہ تھپڑ مار کر ذلیل کرنا وغیرہ وغیرہ ۔ ایسے منفی معاشرتی رویئے ہیں جن کے اثرات تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اب اسی قسم کےمنفی رویوں کا اظہار پاکستانی ٹی وی ڈراموں میں بھی دیکھا جا رہا ہے ۔ اور کم از کم کراچی، حیدر آباد اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں بھی اس رویئے کی عملی تفسیر کہیں کہیں اولڈ ایج ہوم کے قیام سے دیکھنے کو مل جاتی ہے۔ حالانکہ ایک مسلم معاشرہ ہونے کے ناتے ہمارا معاشرہ جن مذہبی اقدار کا حامل ہے اس میں بزرگوں کا احترام، ان کی خدمت اور چھوٹوں سے شفقت جیسے رویئے شامل ہیں ۔ اس لئے جہاں تک پاکستانی ٹی وی ڈراموں کا تعلق ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلم سینسر بورڈ کی کی طرح ان ڈراموں کے پری سینسر شپ کے لئے مقامی سطح پر ماہرین کی کمیٹیاں بنا کر ڈراموں کو نشر کئے جانے سے پہلے ان کا جائزہ لینے کا اہتمام کرے تاکہ معاشرے میں منفی رویوں کے فروغ کو روکا جا سکے۔ بقول سجاد بابر مرحوم