ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اکثر لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ہم انسان مرنے کے بعد بالکل اسی ”’حالت اور کیفیت”‘ میں چلے جائیں گے، جس میں پیدا ہونے سے پہلے تھے یعنی کہ عدم (Nothingness)۔۔۔۔
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کو کیسے پتہ کہ آپ پیدا ہونے سے پہلے عدم یا Nothingness میں تھے؟؟؟
اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ کو یاد نہیں، تو یاد تو آپ کو ماں کا پیٹ بھی نہیں ہے، یاد تو آپ کو اپنی پیدائش بھی نہیں ہے، یاد تو آپ کو اپنا بچپن بھی نہیں ہے۔۔۔ سو محض یاد نہ ہونا بالکل نہ ہونے کی دلیل تھوڑی ہے؟ اوپر جو مثالیں دی ہے، تو ان سب کو آپ 100 فیصد یقین سے مانتے ہیں اگرچہ آپ کو ان میں سے کوئی ایک بھی یاد نہیں ہے۔
اچھا پھر کہتے ہیں کہ شعور یا Subject کیلئے مادہ ضروری ہے اور چونکہ پیدائش سے پہلے ہمارا مادہ نہیں تھا تو اسلیے اس وقت ہمارے شعور کا موجود ہونا بھی ناممکن تھا۔۔ لیکن یہ بات بھی صحیح بات نہیں ہے۔
دیکھیں برادران
جب ہم اپنے دنیا اردگرد چیزوں کو دیکھتے ہیں تو وہ سارے کے سارے Objects ہے۔۔ اسی طرح جب ہم دوسرے انسانوں کو دیکھتے ہیں، تو وہ بھی ہمیں Objects کی طرح نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ جب ہم اپنے بدن بلکہ اپنے دماغ کو بھی دیکھتے ہیں تو وہ بھی Object ہی ہے۔۔۔۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سب کچھ ہی Object ہے تو پھر Subjects کدھر ہے؟
کوئی کہ سکتا ہے کہ ان سب Objects کا نتیجہ Subjects کی صورت میں نکلتا ہے، مطلب جب مختلف Objects ایک خاص انداز میں ملتے ہیں، تو انکے نتیجہ اور function کی صورت میں Subject پیدا ہوتا ہے، مطلب کہ سبجیکٹس ان objects سے جدا نہیں ہے بلکہ ان کا نتیجہ ہے۔۔۔۔ جیسے الہ دین کا lamp…. مطلب جب اس lamp کے ساتھ تعامل ہوتا ہے، تو اس میں سے جن نکلتا ہے۔ اسی طرح کائنات کی مثال ہے۔ یہ Objects دراصل وہ lamps ہے جن کے تعامل سے یہ جن یعنی Subject پیدا ہوتا ہے۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن میں Subject کا انکار تھوڑی کر رہا ہوں بلکہ میں تو محض یہ پوچھ رہا ہوں کہ یہ Subjects کدھر ہے؟ ہماری اس کائنات میں تو ہر سو Lamps یعنی مادہ اور فزیکل فئلڈز ہے جو اپنے "تعاملات” کے بعد بطور فنکشن بھی کوئی دوسرا lamp (مادہ اور فیلڈ) ہی پیدا کرتے ہیں.. مثال کے طور پر ہائیڈروجن (lamp) اور آکسیجن (lamp) مل کر ایک دوسرا (lamp) یعنی پانی پیدا کر دیتے ہیں. اسی طرح پروٹان (lamp) اپنے ٹوٹنے کے بعد دو دوسرے lamps یعنی الیکٹران اور نیوٹرینو پیدا کرتا ہے٫، مطلب lamps کے تعامل یعنی رگڑ کے بعد بھی کوئی lamp (فزیکل) ہی آتا ہے۔۔ نہ کہ کچھ اور۔۔۔۔
اس پوری بیرونی کائنات کے اندر Lamps (مادہ اور فزیکل) کے سوا کچھ نہیں ہے مطلب "کائنات” میں ہر سو ہی الہ دین کے lamps (مادہ و فزکل) موجود ہے اور یہ پوری کائنات ان lamps سے بھری ہوئی ہے مطلب ہر جگہ Lamps ہے۔۔۔۔ اب سوال یہی ہے کہ آپ کے مطابق جو ان lamps کے باہمی رگڑ سے جن نمودار ہوتا ہے تو وہ جن کہاں نمودار ہوتا ہے کیونکہ کائنات میں تو lamps کے سوا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
ہر ایک چیز کو "مادہ اور فزیکل” میں Contain کرنے کے لیے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کوئی جن یا (Subject) نہیں ہے اور کائنات بس lamps ہی lamps ہے. یہ "جن” یعنی Subject محض ایک فریب، دھوکہ، الوژن ہے… یہ بات صریحاً غلط ہے کیونکہ "جن” یعنی Subject کو اگر "الوژن” بھی کہنا ہے، تو بھی اس سے یہ سوال حل نہیں ہوتا کہ یہ "الوژن” آخر کدھر ہے اور کس کو ہے؟ یہ Performative Contradiction ہے مطلب آپ جن یعنی Subject کا استعمال کر کے اسی جن یا Subject کا انکار کر رہے ہیں۔۔ الوژن کا ہونا تو سبجیکٹ کو فرض بنا دیتا ہے، مطلب اب تو Subject لازمی ہوگا، کیونکہ Illusion تو سبجیکٹ کی خصوصیت ہے۔۔۔۔۔۔۔ ظاہر ہے کسی object کو الوژن تھوڑی ہوتا ہے، سو اگر الوژن موجود ہے تو پھر تو سبجکٹ تو لازماً موجود ہے. یہ "ملحد” جو Subject
کو الوژن کہتے ہیں، تو یہ محض جان چھڑانا چاہتے ہیں اور یہ کوئی سنجیدہ حل نہیں ہے۔
بھئی سیدھی سی بات ہے کہ یہ Subject یا جن (شعور) ان Objects یا لیمپس (مادہ و فزیکل) جیسا ہے ہی نہیں، بلکہ ان سے سراسر جدا ہے۔۔۔۔
ا) سبجیکٹ ڈائرئکٹ ہے. اس کے علم کیلئے کسی انفرنس کی ضرورت نہیں ہے، جبکہ اس کے برعکس اوبجیکٹ انڈائریکٹ ہے، جس کے علم کے لیے باقاعدہ انفرنس کی ضرورت ہے۔۔۔۔
ب) سبجیکٹ qualitative ہے جسکو محسوس کیا جا سکتا ہے، لیکن ماپا نہیں جا سکتا، جبکہ اوبجیکٹ quantitative ہے مطلب اس کو باقاعدہ ماپا تو جا سکتا ہے تاہم براہ راست محسوس نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔۔
ج) سبجیکٹ First Person ہے مطلب ایکسپیرینس "کرنے” والا ہے جبکہ اوبجیکٹس سارے کے سارے Third Persons ہے، مطلب ایکسپرینس "ہونے” والے ہیں…. سو ان دونوں میں بالکل "بنیاد” ہی مختلف ہے۔
د) اوبجیکٹس کو ہم مائکروسکوپ ٹیلیسکوپ اور دیگر آلات سے Analyze کر سکتے ہیں، لیکن اس کے برعکس سبجیکٹ کو ہم کسی بھی مائکروسکوپ یا ٹیلیسکوپ میں Analyze نہیں کر سکتے کیونکہ سبجیکٹ خود Analyzer ہے۔ اس کو Analyze کرنے کا مطلب تو یہ بنتا ہے کہ سبجیئکٹ کے اوپر کوئی "دوسرا سبجیکٹ” ہے اور اگر اس طرح چلتے جائیں تو infinite regress میں چلے جائیں گے۔ باقی جب Subject محدود ہی نہیں اور اس کی کوئی Composition ہی نہیں تو آپ analyze کس چیز کو کروگے اور کیسے کروگے؟؟؟ یہ ناممکن ہے۔
ہ) اوبجیکٹ بند یا Closed ہے۔۔ اسکا اندرون مکمل بھرا ہوا ہے، مطلب Dense ہے اور اس میں کوئی Openness نہیں ہے مطلب اس کا کوئی حقیقی اندرون نہیں ہے جبکہ اس کے برعکس سبجیکٹ کھلا یا Opened ہے، جسکا اندرون مکمل واضح ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ Objects کسی بھی حال میں Subject کی وضاحت نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ دونوں بنیادی سطح پر یعنی Fundamentally جدا ہے.. Subject ان Objects سے بننے والی شے نہیں بلکہ ان کو آبزرو کرنے والی شے ہیں۔
یار
خود سوچیں کہ کسی بھی مشاہدہ تجربہ یا ریزننگ میں آپ مادے سے شعور کیطرف جاتے ہیں یا پھر شعور سے مادہ کی طرف جاتے ہیں؟ ظاہر ہے شعور سے مادہ کی طرف جاتے ہیں کیونکہ آپ باشعور ہے، سوچتے ہیں، سمجھتے ہیں، محسوس کرتے ہیں، Aware ہے اور یہی سبھی چیزیں آپ کو مشاہدے تجربہ اور ریزننگ کے قابل بناتی ہے، مطلب آپکا شعور آپ کے مشاہدہ تجربہ اور ریزننگ کی Precondition ہے۔ آپ شعور میں رہ کر ہی یہ سب کام کرتے ہیں مطلب آپکا شعور given ہوتا ہے اور اس کے بعد جا کر آپ کسی بھی دوسری ایکٹوٹی کے قابل بنتے ہیں….. شعور کو Given مان کر شعور کو ثابت کرنا سرکولر ریزننگ ہے۔
بھئی
ا) شعور Given ہے۔
ب) مادہ و فزیکل Inferred ہے۔
ج) اب ہم مادہ اور فزیکل میں تو "اتھل پتھل” کر سکتے ہیں لیکن شعور کو ثابت کرنا تو کجا، اس کو ٹچ تک بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ وہ given ہے اور ہمیں اس کو given ثابت کرنے کے بجائے Given ماننا ہوتا ہے۔ جب تک ہم یہ نہ مان لیں، تو تب تک ایک سٹیپ بھی آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔
اچھا آخر میں۔۔۔۔
اب سب سے اہم بات……. اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر شعور یعنی Subject ان Objects (فزیکل اور مادے) سے جدا ہے، تو یہ شعور Objects پر اثرانداز کیسے ہوتے ہیں؟ مطلب کہ شراب یا نشہ آپ کے نروس سسٹم کو تبدیل کیوں کر دیتا ہے یا انستھیزیا کے زیراثر انسان بیہوش کیوں ہو جاتا ہے وغیرہ وغیرہ، مطلب کہ جب Objects خراب ہو جائیں، تو اس سے Subject خراب کیوں ہوتا ہے؟؟ اگر یہ جدا ہے، تو Subject پر کوئی اثر نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔
اس چیز کو ریڈیو کی مدد سے سمجھیں.. ریڈیو کے اندر سے ہمیں انسانی آواز آتی ہے۔۔۔۔۔ اب ظاہر ہے ریڈیو ان آوازوں کو پیدا تو نہیں کرتا ہے، بلکہ ہمیں صرف ان تک Access یعنی رسائی دیتا ہے……. باقی حقیقتاً تو وہ آواز جدا ہے اور ریڈیو جدا ہے۔۔۔ اگر یہ ریڈیو نہیں بھی ہوتا تو بھی وہ آواز موجود ہونی تھی، کیونکہ ان آوازوں کا وجود ریڈیو کا محتاج نہیں بلکہ یہ آواز ریڈیو سے جدا اپنی حقیقت رکھتا ہے، مطلب کہ ریڈیو کوئی Creating Tool نہیں بلکہ Accessing Tool ہے یعنی کہ یہ آواز "پیدا” نہیں کرتا بلکہ اس تک ہمیں صرف رسائی دیتا ہے….. اب اگر ریڈیو میں خرابی ہے یا ریڈیو ٹوٹ گیا تو اس طرح سے accessing میں بھی خرابی آ جائیگی یا Access "بند” ہو جائیگا لیکن اس کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ آواز ختم ہو گئی ہے۔ آواز تو اب بھی موجود ہے، لیکن اب وہ اس ٹوٹے ہوئے خراب ریڈیو میں سنائی نہیں دیتی ہے۔
اسیطرح کائنات کے اندر موجود Objects بھی محض ریڈیو کیطرح کے ٹولز ہے جو Subject کو اس کائنات کا Access دیتے ہیں۔ ان Objects کی تبدیلی خرابی یا ٹوٹ پھوٹ سے سبجئکٹ کی accessibility تو متاثر ہو سکتی ہے تاہم اس سے سبجیکٹ ختم ہرگز نہیں ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ سبجیکٹ موجود رہتا ہے لیکن بس اس کی یہاں کی رسائی اور اس کا یہاں کا access بند ہو جاتا ہے۔ Near death experiences بھی یہ دکھلاتے ہیں گو اس کو باقاعدہ ثبوت کہنا مناسب نہیں۔۔۔
باقی دیکھیں میرا مدعا دو باتیں سمجھانا مقصود ہے۔
ا) آپکا شعور مادہ سے فنڈامینٹلی جدا اور real اور ڈائریکٹ و given ہے۔
ب) آپ کا شعور مادے سے پہلے آتا ہے اور یہ مادہ انڈائریکٹ و Inferred ہے اور اسی وجہ سے اسکا وجود کنفرم حقیقت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ یہ real ہو بھی سکتا ہے اور real نہیں بھی ہو سکتا۔۔۔
جب یہ دو باتیں طے ہو گئی تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ موت کے بعد شعور ختم نہیں ہوتا، بلکہ موت کے بعد شعور محض مادہ کیلیے Inaccessible (ناقابلِ رسائی) ہو جاتا ہے۔ باقی
اس ماڈل سے آزادانہ اختیار، یعنی Free Will کا مسئلہ بھی کچھ حد تک حل ہو جاتا ہے
ا) مادے یا Objects میں کوئی فری ول نہیں ہے، سو ہمارے اوپر جو بھی حالات آنے ہیں تو وہ طے ہیں۔
ب) شعور یا Subject میں فری ول موجود ہے سو ہم حالات کو کیسے respond کرتے ہیں تو یہ ہمارا آزادانہ اختیار ہے۔
اب بنیادی سوال کہ شعور آخر ہے کیا تو جناب ہم شعور میں ہے، سو اس شعور کو Contain کر کے Analyze کر ہی نہیں سکتے ہیں اور اس لئے یہ ہمیشہ ہمارے لیے ایک معمہ رہے گا۔ شاید اسیوجہ سے خدا نے قرآن میں کہا ہے کہ تم کو روح کے بارے میں بہت کم علم دیا گیا ہے۔