سائنس دان اور نظام شمسی

سائنس دان اور نظام شمسی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سائنس دانوں کے مطابق زمین سورج کے آخری پھیلاؤ سے بچ سکتی ہے لیکن اس سے بہت پہلے ہی ناقابلِ رہائش ہو جائے گی، تقریباً 5 ارب سال بعد سورج اپنے مرکز میں موجود ہائیڈروجن ختم کر دے گا اور بالآخر پھیل کر سرخ دیو (Red Giant) اور اس کے بعد کی دیوہیکل مراحل میں داخل ہوگا- ایک نئی تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ زمین سورج کے اندر نگلنے سے بچ جائے کیونکہ سورج سے خارج ہونے والے مادے کی وجہ سے اس کی کم ہوتی ہوئی کمیت زمین کو نسبتاً وسیع مدار کی طرف دھکیل سکتی ہے جبکہ سورج کی کشندی قوتوں (Tidal Forces) کا اثر زمین کو اندر کی طرف کھینچتا ہے- محققین کے ماڈلز کے مطابق، عطارد اور زہرہ پھر بھی سورج کے اندر جذب ہو جائیں گے جبکہ زمین اور مریخ ممکنہ طور پر اپنے مدار برقرار رکھتے ہوئے بچ سکتے ہیں- اس نتیجے کا انحصار دو عملوں کے درمیان ایک نازک توازن پر ہے: سورج کے پھیلنے سے پیدا ہونے والی کشندی قوتیں سیاروں کو اندر کی طرف کھینچتی ہیں جبکہ سورج کی کم ہوتی ہوئی کمیت اس کی کششِ ثقل کو کمزور کرتی ہے، جس کے نتیجے میں سیاروں کے مدار مزید پھیل سکتے ہیں لیکن زمین کا بچ جانا یقینی نہیں- سب سے بڑی غیر یقینی بات یہ ہے کہ سورج اپنے آخری مراحل کے دوران کتنی کمیت کھوئے گا اور اگر زمین جسمانی طور پر سورج کے پھیلاؤ سے بچ بھی جائے اور بالآخر سورج کے سفید بونے (White Dwarf) باقی ماندہ حصے کے گرد مدار میں گردش کرے، تب بھی وہ سرخ دیو کے مرحلے سے بہت پہلے ناقابلِ رہائش ہو چکی ہو گی- اس کی وجہ یہ ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ سورج بتدریج زیادہ روشن اور زیادہ گرم ہوتا جائے گا، جس سے زمین کا ماحول اور سطح زندگی کے لیے ناموزوں ہو جائیں گے-