ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل): سورۃ المرسلات، آیات ۴۸–۴۹کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ انسان اللہ کے سامنے جھکنے سے کیوں کتراتا ہے، حالانکہ وہ اپنی زندگی میں کتنی ہی بار دوسروں کے سامنے جھکتا ہے؟
اپنے فائدے کے لیے کسی بااثر شخص کے سامنے نرم پڑ جاتا ہے، اپنی ملازمت بچانے کے لیے اپنے اصول بدل لیتا ہے، دنیاوی عزت کے لیے لوگوں کی خوشنودی حاصل کرتا ہے، اور اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے بار بار سمجھوتے کرتا ہے۔ لیکن جب اسی انسان کو اپنے خالق کے سامنے جھکنے کی دعوت دی جاتی ہے تو کبھی اس کے پاس وقت نہیں ہوتا، کبھی دل آمادہ نہیں ہوتا اور کبھی وہ اپنے اندر ایسی بے نیازی محسوس کرتا ہے جیسے اسے کسی کے سامنے جواب دہ ہی نہیں ہونا۔
یہ انسان کی عجیب نفسیات ہے کہ وہ مخلوق کی رضا کے لیے خود کو بدلنے پر تیار ہو جاتا ہے، مگر خالق کی رضا کے لیے اپنے نفس کو بدلنا مشکل محسوس کرتا ہے۔
سورۃ المرسلات کی یہ دو آیات اسی حقیقت پر ایک گہری روشنی ڈالتی ہیں۔ یہ صرف نماز کے لیے جھکنے کا معاملہ نہیں، بلکہ انسان کے پورے رویّے، اس کی انا، اس کی ضد اور حق کے سامنے اس کے ردِعمل کا معاملہ ہے۔
ترجمہ: ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رکوع کرو تو وہ رکوع نہیں کرتے۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔“
(سورۃ المرسلات: ۴۸–۴۹)
مسئلہ صرف جھکنے کا نہیں، جھکنے سے انکار کا ہے
ان آیات میں ایک منظر سامنے آتا ہے: لوگوں کو رکوع کرنے کے لیے کہا جاتا ہے، مگر وہ رکوع نہیں کرتے۔
ذرا اس منظر پر غور کیجیے۔ دعوت دی جا رہی ہے، راستہ بتایا جا رہا ہے، حق سامنے آ رہا ہے، لیکن انسان قبول کرنے کے بجائے انکار کرتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: کسی انسان سے کمزوری کی وجہ سے عبادت میں کوتاہی ہو جانا ایک بات ہے، اور حق کو جاننے کے باوجود تکبر، ضد یا انکار کے ساتھ اس سے منہ موڑنا دوسری بات ہے۔ قرآن کی یہ آیات انکار اور سرکشی پر سخت تنبیہ کرتی ہیں؛ ان کا مقصد کسی کمزور یا غفلت کے شکار انسان کو مایوس کرنا نہیں، بلکہ اسے اپنی حالت درست کرنے کی طرف بلانا ہے۔
کبھی انسان جانتا ہے کہ نماز فرض ہے، مگر دنیاوی مصروفیات کو اس پر ترجیح دیتا رہتا ہے۔ کبھی اسے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ غلط ہے، مگر اپنے فائدے کے لیے اسے جائز سمجھنے لگتا ہے۔ کبھی وہ جانتا ہے کہ کسی کا حق مارنا ظلم ہے، مگر اپنی انا یا مفاد کی خاطر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوتا۔
یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ انسان کیا جانتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے علم کے سامنے جھکتا کتنا ہے؟
کیونکہ علم اگر انسان کے رویّے کو نہ بدلے، حق اگر اس کے فیصلوں میں جگہ نہ بنائے اور نصیحت اگر اس کی انا سے ٹکرا کر واپس لوٹ جائے، تو اسے اپنی حالت کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔
انا انسان کو حق سے دور کیسے کرتی ہے؟
انسان کے اندر ایک ایسی خواہش ہوتی ہے کہ وہ خود کو درست ثابت کرے۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کی بات مانیں، اس کے فیصلوں کی تعریف کریں اور اس کی غلطیوں کو بھی کسی نہ کسی دلیل سے درست سمجھیں۔
یہ خواہش جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو انسان کے لیے اپنی غلطی تسلیم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کسی کے ساتھ زیادتی کی ہے، لیکن معافی مانگنے میں اپنی توہین محسوس کرتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کا فیصلہ غلط تھا، مگر وہ اپنی بات واپس لینے کے بجائے مزید دلائل پیش کرتا ہے۔ اسے نصیحت کی ضرورت ہوتی ہے، مگر وہ نصیحت کرنے والے کی کمزوریاں تلاش کرنے لگتا ہے تاکہ اصل بات سے بچ سکے۔
یہی انا کی چال ہے: وہ انسان کو اپنی اصلاح کے بجائے اپنی صفائی پیش کرنے میں مصروف رکھتی ہے۔
اور جب یہی رویّہ اللہ کے حکم کے سامنے آ جائے تو معاملہ اور زیادہ سنگین ہو جاتا ہے۔ انسان اپنی خواہش کو معیار بنا لیتا ہے اور پھر حق کو بھی اسی معیار پر پرکھنے لگتا ہے۔
وہ یہ نہیں پوچھتا کہ اللہ نے کیا حکم دیا ہے، بلکہ یہ سوچتا ہے کہ مجھے کیا پسند ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ میرا عمل درست ہے یا نہیں، بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ میری خواہش پوری ہو رہی ہے یا نہیں۔
جب انسان اپنی خواہش کو حق سے بڑا سمجھنے لگے تو وہ صرف ایک غلط فیصلہ نہیں کرتا، بلکہ اپنے اندر حق کو قبول کرنے کی صلاحیت کو بھی کمزور کرتا جاتا ہے۔
جھکنا کمزوری نہیں، اصل طاقت ہے
ہماری دنیا میں جھکنے کو اکثر کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ جو شخص اپنی غلطی تسلیم کر لے، اسے کمزور کہا جاتا ہے۔ جو معافی مانگ لے، اسے کمتر سمجھا جاتا ہے۔ جو اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اپنے نفس کو قابو میں رکھے، اس کی خاموشی کو کبھی بے بسی سمجھ لیا جاتا ہے۔
لیکن اللہ کے سامنے جھکنے کا مفہوم بالکل مختلف ہے۔
رکوع اور سجدہ انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ اس کی عقل محدود ہے، اس کی طاقت عارضی ہے اور اس کی زندگی خود اس کے اختیار میں مکمل طور پر نہیں۔ وہ جتنا بھی کامیاب ہو جائے، اسے اپنے خالق کی محتاجی سے نجات نہیں مل سکتی۔
اللہ کے سامنے جھکنا انسان کی عزت ختم نہیں کرتا، بلکہ اسے تکبر کی غلامی سے آزاد کرتا ہے۔
جو شخص اللہ کے سامنے جھکنا سیکھ لیتا ہے، وہ لوگوں کے سامنے اپنی انا کی حفاظت کے لیے جھوٹ بولنے، ظلم کرنے یا دوسروں کو حقیر سمجھنے کا محتاج نہیں رہتا۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی عزت اللہ کے اختیار میں ہے، لوگوں کی عارضی تعریف میں نہیں۔
ایسا انسان اپنی غلطی تسلیم کرنے سے نہیں ڈرتا، کیونکہ اس کی نظر اپنی ظاہری شان سے زیادہ اپنے کردار پر ہوتی ہے۔
اللہ کے سامنے جھکنے والا انسان اپنی عزت کھوتا نہیں؛ وہ اپنی انا کے اس بوجھ سے آزاد ہوتا ہے جو اسے سچائی قبول کرنے نہیں دیتا۔
کیا ہماری نماز ہمارے کردار کو بھی جھکا رہی ہے؟
یہاں ایک سوال ہمارے لیے نہایت ضروری ہے۔
ہم نماز پڑھتے ہیں، رکوع کرتے ہیں، سجدہ کرتے ہیں، لیکن کیا ہمارا دل بھی اللہ کے حکم کے سامنے جھکتا ہے؟
کیا نماز کے بعد ہماری زبان پہلے سے زیادہ محتاط ہوتی ہے؟ کیا ہم لوگوں کے حقوق کے بارے میں زیادہ حساس ہو جاتے ہیں؟ کیا ہم اپنی غلطیوں پر غور کرتے ہیں؟ کیا ہم غصے کے وقت اپنے نفس کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کے ساتھ انصاف کرتے ہیں، خصوصاً اس وقت جب ہمیں معلوم ہو کہ کوئی ہمیں روکنے والا نہیں؟
یہ سوال نماز کی اہمیت کم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ نماز کے اثرات کو اپنی زندگی میں تلاش کرنے کے لیے ہیں۔
نماز اسلام کا بنیادی رکن ہے، اور اس کی ادائیگی اپنی جگہ لازم ہے۔ لیکن نماز کی روح ہمیں اللہ کی بندگی، عاجزی اور اطاعت کی طرف بلاتی ہے۔ اگر ہم اپنی عبادت کے ساتھ اپنے اخلاق کی اصلاح کی فکر بھی کریں تو ہمارا تعلق باللہ زندگی کے دوسرے معاملات میں بھی ظاہر ہونے لگتا ہے۔
مثلاً ایک شخص نماز پڑھتا ہے اور پھر کاروبار میں جھوٹ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسرا نماز پڑھتا ہے اور اپنے گھر والوں کے ساتھ نرم رویّہ اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تیسرا نماز پڑھتا ہے اور اپنی غلطی پر معافی مانگنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔
یہ چھوٹے دکھائی دینے والے قدم دراصل بندگی کے وسیع مفہوم کی یاد دہانی ہیں۔
ہمیں اپنی نماز چھوڑنے کا جواز نہیں تلاش کرنا، بلکہ نماز کو مضبوط کرتے ہوئے اپنے کردار کو بھی بہتر بنانا ہے۔
عبادت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے جھکنے کے ساتھ اپنی زندگی کو بھی اس کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔
جب نصیحت بری لگنے لگے
انسان کی اصلاح کا ایک اہم لمحہ وہ ہوتا ہے جب کوئی اسے اس کی غلطی بتاتا ہے۔
اگر ہم ہر نصیحت کو اپنی توہین سمجھیں گے تو ہم اپنی اصلاح کے بہت سے مواقع خود ہی بند کر دیں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر نصیحت کرنے والا درست ہوتا ہے یا ہر بات بلا سوچے سمجھے قبول کر لینی چاہیے۔ بات کو دلیل، حکمت اور انصاف کے ساتھ پرکھنا ضروری ہے۔
لیکن اگر بات درست ہو، دلیل واضح ہو اور غلطی واقعی ہماری ہو، تو صرف اپنی انا کی خاطر اسے رد کر دینا نقصان دہ ہے۔
کبھی ایک بچے کی بات میں سچائی ہوتی ہے، کبھی کسی ماتحت کی شکایت ہمیں اپنی کوتاہی دکھا دیتی ہے، کبھی کسی دوست کی تنبیہ ہمیں ایک غلط راستے سے بچا سکتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم سچائی کو قبول کرتے ہیں یا اسے بولنے والے کی حیثیت کے مطابق اہمیت دیتے ہیں؟
اگر ایک ہی بات کوئی بڑا آدمی کہے تو ہمیں قابلِ قبول لگتی ہے، لیکن کوئی کم حیثیت شخص کہے تو ہم اسے رد کر دیتے ہیں، تو ممکن ہے ہمارا مسئلہ بات کی حقیقت نہیں بلکہ ہماری انا ہو۔
اسی لیے مومن کو اپنے دل میں ایسی گنجائش پیدا کرنی چاہیے کہ وہ حق کو پہچان کر قبول کر سکے، چاہے وہ اس کی توقع کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
ان آیات کا پیغام: آج ہی اپنا رخ درست کریں
سورۃ المرسلات کی یہ آیات قیامت کی جواب دہی یاد دلاتی ہیں۔ ان کا مقصد ہمیں صرف خوف زدہ کرنا نہیں، بلکہ غفلت سے بیدار کرنا ہے۔
اگر ہم نماز میں کوتاہی کر رہے ہیں تو اس کی اصلاح کی طرف قدم بڑھائیں۔ اگر کسی کا حق ہمارے ذمے ہے تو اسے ادا کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ہماری انا ہمیں معافی مانگنے سے روکتی ہے تو اپنے نفس کے خلاف فیصلہ کریں۔ اگر ہم کسی نصیحت کو صرف اس لیے رد کر رہے ہیں کہ وہ ہمیں پسند نہیں آئی، تو رک کر اس کی سچائی پر غور کریں۔
اور اگر ہم پہلے ہی عبادت کی پابندی کرتے ہیں تو اپنے اندر عاجزی، انصاف اور حسنِ اخلاق کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔
اللہ کی طرف واپسی کے لیے کامل انسان ہونا شرط نہیں؛ اپنی کمزوری کو پہچاننا، سچی توبہ کرنا اور اصلاح کی کوشش شروع کرنا ضروری ہے۔
ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جسے اپنی اصلاح کی ضرورت نہ ہو۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی غلطی کے سامنے جھک جاتے ہیں، اور کچھ اپنی غلطی کو بچانے کے لیے حق سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
آج اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کر لینا، کل کی ندامت سے بچنے کا راستہ بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے، اسے قبول کرنے، نماز کی پابندی کرنے اور اپنی انا کے بجائے اپنی رضا کو ترجیح دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تدبر کا سوال
اگر آج اللہ کے حکم اور میری خواہش میں ٹکراؤ ہو جائے، تو کیا میں اپنی خواہش کو بدلنے کے لیے تیار ہوں؟
اور کیا میری انا کبھی مجھے اس حق کو قبول کرنے سے روکتی ہے جسے میں دل ہی دل میں درست بھی سمجھتا ہوں؟
اگر یہ تحریر آپ کو اپنی زندگی پر غور کرنے کی دعوت دے تو اسے پسند کریں، دوسروں تک پہنچانے کے لیے شیئر کریں، اپنے خیالات تبصرے میں لکھیں اور مزید قرآنی تدبر کے لیے ہمارا صفحہ فالو کریں۔
اگلی قسط: سورۃ المرسلات کی آخری آیت — قرآن کے بعد اب کس بات پر ایمان لاؤ گے؟