دجال — فتنۂ آخرالزمان

دجال — فتنۂ آخرالزمان

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دجال کب اور کہاں ظاہر ہوگا؟ روایات میں کیا ثابت ہے اور کیا محض قیاس؟کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ دجال کے بارے میں گفتگو شروع ہوتے ہی لوگ اس کی آمد کی تاریخ، مقام اور زمانے کے حالات جاننے کے لیے بے چین ہو جاتے ہیں؟ کوئی کسی ملک کو اس کے ظہور کا مرکز قرار دیتا ہے، کوئی کسی جنگ کو اس کی آمد کی علامت سمجھتا ہے، اور کوئی موجودہ واقعات کو آخری زمانے کی پیش گوئیوں سے جوڑنے لگتا ہے۔

لیکن ایک مومن کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ غیب کے بارے میں جاننے کی کوشش کرے؛ اسے یہ بھی سیکھنا ہے کہ غیب کے بارے میں کہاں رک جانا چاہیے۔

کیونکہ دین ہمیں دجال سے خبردار کرتا ہے، مگر ہر غیر ثابت دعوے کو حقیقت ماننے کی اجازت نہیں دیتا۔

 1۔ کیا دجال کے ظہور کا وقت معلوم ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے دجال کے فتنے کے بارے میں تفصیلی خبریں دیں، لیکن اس کے ظہور کی کوئی متعین تاریخ، سال یا ایسا کیلنڈر نہیں بتایا جس کی بنیاد پر ہم اس کی آمد کا وقت مقرر کر سکیں۔

قیامت کے وقت کے بارے میں بھی قرآن واضح کرتا ہے:

قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي

ترجمہ: کہہ دیجیے، اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے۔

(سورۃ الاعراف 7:187 کے مفہوم کے مطابق)

یہ آیت بنیادی طور پر قیامت کے وقت کے بارے میں ہے۔ اس سے ہمیں غیب کے معاملے میں ایک اہم اصول ملتا ہے: جہاں وحی نے تفصیل نہیں بتائی، وہاں اپنی طرف سے تاریخیں اور قطعی دعوے گھڑنا درست نہیں۔

آج کوئی شخص پورے یقین سے کہے کہ دجال فلاں سال، فلاں مہینے یا کسی مخصوص موجودہ واقعے کے فوراً بعد ظاہر ہوگا، تو اس سے سوال ہونا چاہیے:اس دعوے کی مستند شرعی دلیل کیا ہے؟

صرف ویڈیو، جذباتی تقریر، خواب یا کسی شخص کی ذاتی تشریح غیب کی خبر کا معتبر ثبوت نہیں بن جاتی۔

2۔ دجال کہاں سے ظاہر ہوگا؟

صحیح مسلم کی روایت میں حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی طویل حدیث کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے دجال کے ظہور اور زمین میں اس کی تیز رفتار حرکت کا ذکر فرمایا۔

ایک دوسری روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دجال مشرق کی سمت خراسان سے ظاہر ہوگا، اور ایک روایت میں اس کے ساتھ اصبہان کے یہودیوں کا ذکر بھی آیا ہے۔

(جامع ترمذی، حدیث 2237؛ مسند احمد میں بھی اس مضمون کی روایات موجود ہیں۔ احادیث کے نمبر طبعات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔)

ان روایات کو پڑھتے ہوئے دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

پہلی بات: روایات میں بیان کردہ مقامات کو اپنی طرف سے بڑھا کر کسی جدید شہر، ریاست، سیاسی جماعت یا موجودہ شخصیت پر قطعی طور پر منطبق نہیں کرنا چاہیے۔

دوسری بات: کسی روایت کے الفاظ، اس کی سند اور محدثین کی تحقیق کو دیکھے بغیر اسے یقینی حقیقت بنا کر پھیلانا درست نہیں۔

ہمیں وہی کہنا چاہیے جو معتبر دلیل سے ثابت ہو، اور جہاں تحقیق کی ضرورت ہو وہاں صاف کہنا چاہیے کہ مزید تحقیق درکار ہے۔

3۔ کیا ہر جنگ دجال کے ظہور کی علامت ہے؟

یہ وہ مقام ہے جہاں آج کے انسان کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔

دنیا میں جنگیں ہوتی ہیں، حکومتیں بدلتی ہیں، ظلم بڑھتا ہے، نئے فتنے سامنے آتے ہیں اور معاشرے شدید آزمائشوں سے گزرتے ہیں۔ ان واقعات سے عبرت حاصل کرنا اور مظلوموں کی مدد کرنا ضروری ہے، لیکن ہر جنگ کو دجال کے ظہور سے جوڑ دینا ایک الگ دعویٰ ہے، جس کے لیے واضح دلیل چاہیے۔

اسلام ہمیں آنکھیں بند کرکے واقعات ماننے کا نہیں، بلکہ تحقیق کرنے کا حکم دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا

ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو۔

(سورۃ الحجرات 49:6)

غور کیجیے! اگر عام خبروں کے معاملے میں تحقیق ضروری ہے، تو غیب، قیامت اور دجال جیسے عظیم موضوعات میں احتیاط کتنی ضروری ہوگی؟

کسی سنسنی خیز دعوے کو آگے بھیجنے سے پہلے رکنا بھی دین داری ہے۔ ہر خبر شیئر کرنا خدمتِ دین نہیں، اور ہر پُرجوش مقرر مستند عالم نہیں ہوتا۔

4۔ اصل خطرہ یہ نہیں کہ ہمیں تاریخ معلوم نہیں

ممکن ہے کوئی شخص دجال کے بارے میں درجنوں روایات یاد رکھتا ہو، مگر اپنی زندگی میں جھوٹ، خیانت اور دھوکے سے نہ بچتا ہو۔

وہ آخری زمانے کی علامات پر گھنٹوں گفتگو کرے، لیکن اپنے معاملات میں حق کو نظر انداز کردے۔

وہ دجال کے فتنے سے بچنے کے لیے پریشان ہو، مگر اپنی روزمرہ زندگی میں سچ اور جھوٹ کا فرق پہچاننے کی کوشش ہی نہ کرے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنے دل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔

دجال کا فتنہ ایک حقیقی عظیم فتنہ ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے خبردار فرمایا۔ لیکن اس کے بارے میں جاننے کا مقصد محض تجسس، خوف یا سنسنی پیدا کرنا نہیں؛ مقصد یہ ہے کہ ہمارا ایمان مضبوط ہو، ہم صحیح اور غلط میں فرق کرنا سیکھیں اور اللہ کی ہدایت سے وابستہ رہیں۔

ہمیں اس کے ظہور کی تاریخ معلوم نہیں، لیکن ہمیں یہ ضرور معلوم ہے کہ نماز میں اللہ سے اس کے فتنے کی پناہ مانگنی ہے، سورۃ الکہف سے تعلق قائم کرنا ہے اور صحیح دینی علم حاصل کرنا ہے۔

5۔ ایک سوال جو ہمیں خود سے کرنا چاہیے

اگر کل کوئی ویڈیو لاکھوں لوگوں کو یہ یقین دلانے لگے کہ فلاں شخص دجال ہے، فلاں جنگ آخری جنگ ہے، یا فلاں تاریخ کو قیامت سے پہلے کا فیصلہ کن واقعہ پیش آنے والا ہے، تو کیا ہم تحقیق کریں گے یا جذبات کے بہاؤ میں بہہ جائیں گے؟

یاد رکھیے، دجال کے فتنے سے بچنے کی تیاری افواہوں کے پیچھے دوڑنے میں نہیں، بلکہ حق کے ساتھ ثابت قدم رہنے میں ہے۔

ہمیں غیب کے بارے میں اتنا ہی کہنا چاہیے جتنا مستند وحی نے بتایا ہے۔ باقی معاملات اللہ کے علم کے سپرد کرنا کم علمی نہیں، بلکہ اپنے علم کی حد پہچاننا ہے۔

اگلی قسط: دجال زمین پر کتنی مدت رہے گا؟ چالیس دن کی وہ حقیقت جس میں ایک دن سال کے برابر ہوگا۔

جاری ہے۔۔۔