ہالینڈ(ڈٰلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ سلسلہ سہروردیہ کی انفرادیت۔۔۔ تحریر ۔ سید فصیح الدین سہروردی)سلاسل طریقت جن کا تعلق تصوف ہے ، میں الحمداللہ تصوف اور سلاسل طریقت کے مابین تعلق پر اس سے قبل بھی معروضات عرض کرچکا ہوں گزشتہ دنوں ایک ایسی شخصیت سے یہاں ملاقات ہوئی جو مسلمان نہیں تھے لیکن ہندوپاک کے مسلم صوفیوں سے بڑی عقیدت رکھتے تھے اور میرے ساتھ ان کی محبت کا تعلق حضرت سلطان باہو اور حضرت میاں محمد بخش کے کلام کی وجہ سے ہے ، ان کے ایک سوال پر غور کریں کہ یہ بزرگوں کے نام کی نسبت رکھنے والے کیوں انتہا پسند یا متشدد نظر آتے ہیں میں نے اس وقت یہی جواب دیا کہ یہ نام کی نسبت زبانی کلامی ہی رکھتے ہیں اور جو صوفیا کا ماننے والا ہو وہ کبھی انتہا پسند نہیں ہوسکتا کیونکہ میرے نزدیک صوفیائے کرام ہی دراصل رحمتہ اللعالمین خاتم النبین حضرت محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو حضور کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق لوگوں تک پہنچاتے ہیں ، ہمارے برصغیر پاک و ہند میں ایک طویل فہرست ان صوفیا کی ہے جن کے دست حق پرست پر کروڑوں انسانوں نے کلمہ توحیدورسالت پڑھا ، عمومی طور پر قادری چشتی سہروردی اور نقشبندی کی نسبت کو ہی طریقت کی نسبت کہا جاتا ہے اور دنیا بھر میں ان چاروں سلاسل سے وابستہ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد آپ کو نظر آئے گی میرا مشاہدہ ہے کہ پیر صاحب اگر معتدل مزاج رکھتے ہیں ان میں انسانوں کے لئے محبت برداشت کے جذبات ہیں خوش اخلاقی اور رواداری ان کی طبیعت کا حصہ ہے تو ان کے 95 فیصد مریدوں میں بھی یہ خصوصیات لازمی ہوں گی سلسلہ سھروردیہ کے ماضی کے بزرگوں میں بھی اور آج کے بزرگوں کی اکثریت میں بھی الحمداللہ یہ خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں، سلسلہ سھروردیہ سے وابستہ صوفیوں نے محبت پیار اور مخلوق خدا کی خدمت کو اسی طرح اختیار کیا جس طرح شیخ الشیوخ حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی اور غوث العالمین حضرت بہاؤالدین ذکریا سہروردی نے اختیار کیا تھا
سلسلہ سہروردیہ میں عبادات مجاہدہ ریاضت کے ساتھ جس بات کو سب سے ذیادہ اہمیت دی گئی ہے وہ بھوکے کو کھانا کھلانا ہے حضرت شہاب الدین عمر سہروردی کے دسترخوان پر ہزاروں انسانوں کو عمدہ کھانا کھلایا جاتا تھا یہ وہ بزرگ تھے جو صوفی بھی تھے عالم بھی تھے تجارت بھی کرتے تھے اور مخلوق خدا کی خدمت بھی ان کی زندگی کا نصب العین تھا کسی بھی روایت سے کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ کسی بھی صوفی نے خدا کی مخلوق کو دھتکارا ہو ان کو برے ناموں اور تضحیک آمیز القابوں سے پکارا ہو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان کی سرنش کی ہو یہ صوفیا کا طریقہ ہی نہیں ہے صوفیا نے تو جو ان کے عقیدہ پر نہیں تھے یعنی غیر مسلم ان سے بھی کمال محبت کا عملی نقشہ پیش کیا ہے
سلسلہ چشتیہ میں حضور خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اور حضرت نظام الدین اولیا سے سماع کو بطور وظیفہ اختیار کیا گیا سلسلہ سہروردیہ میں حضرت ابوالفیض سید قلندر علی شاہ سہروردی سے نعت خوانی کو بطوروظیفہ اپنایا گیا آپ کے مریدین میں نامی گرامی نعت خوان بہ کثرت شامل تھے 1952میں حضرت قبلہ اباجی علامہ سید ریاض الدین سہروردی نے جب لاہور میں جمعیت حسان کی بنیاد رکھی تو اعظم چشتی صاحب کو جمعیت حسان کا صدر بنایا گیا یہ اجلاس بھی حضرت قلندر علی شاہ کی صدارت میں ہوا تھا حضرت سید قلندر علی شاہ سہروردی کا نعتیہ فیض حضرت علامہ سید ریاض الدین سہروردی سے آج بحمداللہ پوری دنیا میں عام ہے قبلہ قلندر علی شاہ فرمایا کرتے تھے کہ نعت وہ وظیفہ ہے جو دلوں میں محبت رسول پیدا کرکے روحانی مدارج میں برکت پیدا کرتا ہے