اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے بنی آدم کی اولاد کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا اور انہیں خود ان پر گواہ بنایا (اور فرمایا): کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! ہم گواہی دیتے ہیں۔ (یہ اس لیے کہا) تاکہ قیامت کے دن تم یہ نہ کہو کہ ہم تو اس بات سے بے خبر تھے۔ (سورۃ الأعراف 7:172)
اب آپ نے اپنی پہچان کرنی ہے:
وفی انفسکم افلا تبصرون
من عرف نفسه فقد عرف ربه
جس نے خود کو پہچانا اس نے رب کو پہچانا۔
انسان کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے وجود کو پہچانے۔ جب انسان اپنے اندر جھانکتا ہے، اپنی حقیقت پر غور کرتا ہے تو اسے اپنے رب کی معرفت نصیب ہوتی ہے۔ ہم سب نے ازل میں اپنے رب کے سامنے اقرار کیا تھا کہ "ہاں! تو ہی ہمارا رب ہے”، اور یہی عہد آج بھی ہمارے دلوں میں پوشیدہ ہے۔ لیکن دنیا کی مصروفیات، غفلت اور نفس کی خواہشات ہمیں اس عہد سے دور کر دیتی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنے اندر جھانکے، اپنی روح کی آواز سنے، اور یاد رکھے کہ ہماری اصل منزل اللہ کی معرفت ہے۔ جو اپنے آپ کو پہچان لیتا ہے، وہ دراصل اس وعدے کو یاد کر لیتا ہے جو اس نے اپنے رب سے کیا تھا، اور یہی معرفت کی پہلی سیڑھی ہے۔