ایک ایسا روح فرسا اور دل دہلا دینے والا واقعہ جو آپ کی زندگی بدل دے گا! پورا پڑھیں اور ثواب کی نیت سے پوسٹ کو لائک اور دوستوں کے ساتھ شیئر لازمی کریں!”
قیامت کے دن کی ہولناکی، اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی اور انسانوں کے پاس اپنے عذر پیش کرنے کا وہ انوکھا اور عبرت ناک منظر جب سامنے آتا ہے، تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے منقول یہ ایمان افروز واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا کی کوئی مجبوری یا عذر اللہ کی عبادت سے غفلت کا جواز نہیں بن سکتی۔
"قیامت کا دن اور تین آدمیوں کی پیشی: کیا مال، بیماری اور غلامی عبادت سے روک سکتے ہیں؟”
یہ تاریخِ اسلام، کتبِ آثار اور تصوف کی معتبر کتب کا وہ نہایت ایمانی، معتبر اور روح پرور واقعہ ہے جو غفلت کے عذر اور انبیاء کرام علیہم السلام کی عظیم مثالوں کے ذریعے انسان کو بیدار کرتا ہے۔
"قیامت کے دن تین اشخاص کی پیشی!”
تابعینِ عظام میں سے جلیل القدر مفسر مجاہد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تین آدمیوں کو پیش کیا جائے گا: ایک مال دار، دوسرا بیمار، اور تیسرا غلام۔
پہلا شخص (مال دار): اس سے پوچھا جائے گا: "تجھے میری عبادت سے کس چیز نے غافل رکھا؟” وہ عرض کرے گا: "اے میرے رب! مال و دولت کی کثرت نے مجھے غافل کر دیا تھا۔” تب سیدنا سلیمان علیہ السلام کو ان کی عظیم سلطنت اور شان و شوکت کے ساتھ پیش کیا جائے گا اور اس مال دار سے پوچھا جائے گا: "تم زیادہ مصروف تھے یا یہ؟” وہ کہے گا: "یہ مجھ سے زیادہ مصروف تھے۔” اس پر فرمایا جائے گا: "اتنی بڑی سلطنت اور مصروفیات کے باوجود انہیں میری عبادت سے غفلت نہیں ہوئی۔”
دوسرا شخص (بیمار): اس سے پوچھا جائے گا: "تجھے میری عبادت سے کس چیز نے روکے رکھا؟” وہ عرض کرے گا: "اے میرے رب! بیماری اور جسمانی تکلیف نے مجھے مشغول رکھا۔” تب سیدنا ایوب علیہ السلام کو ان کی شدید بیماری اور تکلیف کی حالت میں پیش کیا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا: "تم زیادہ تکلیف میں تھے یا یہ؟” وہ کہے گا: "بلکہ یہ مجھ سے زیادہ تکلیف میں مبتلا تھے۔” فرمایا جائے گا: "اتنی شدید بیماری کے باوجود انہیں میری عبادت سے غفلت نہیں ہوئی۔”
تیسرا شخص (غلام): اس سے پوچھا جائے گا: "تجھے میری عبادت سے کس نے روکا؟” وہ عرض کرے گا: "اے میرے رب! میں غلام تھا اور میرے آقا مجھ پر اختیار رکھتے تھے۔” تب سیدنا یوسف صدیق علیہ السلام کو ان کی غلامی اور قید و بند کی حالت میں پیش کیا جائے گا اور پوچھا جائے گا: "تمہاری غلامی زیادہ سخت تھی یا ان کی؟” وہ کہے گا: "ان کی غلامی مجھ سے زیادہ سخت تھی۔” اس پر فرمایا جائے گا: "ان کی مشکلات بھی انہیں میری عبادت سے غافل نہ کر سکیں۔”
(حوالہ: حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء، امام ابو نعیم اصفہانی رحمہ اللہ)
"شیطان کا چیلنج اور ربِ کائنات کی رحمت!”
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
شیطان نے کہا: "اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسموں میں رہیں گی، میں انہیں گمراہ کرتا رہوں گا۔”
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” اپنی عزت و جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔” (مسند احمد، مستدرک حاکم)
اللہ تعالیٰ نے ہمیں اور جنات کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
”اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔” (سورۃ الذاریات: 56)
یہ واقعہ اور فرمانِ نبوی رہتی دنیا تک کے تمام انسانوں کے لیے ایک ابدی درس ہے کہ مال، صحت، یا حالات کی مجبوری کا بہانہ اللہ کی بارگاہ میں نہیں چل سکتا، اور توبہ و استغفار کا دروازہ تادمِ مرگ کھلا ہے۔
مستند حوالہ
کتاب کا نام: حلية الأولياء وطبقات الأصفياء (امام ابو نعیم اصفہانیؒ)
کتاب کا نام: مسند أحمد (حدیث نمبر 11237) و مستدرک حاکم (حدیث نمبر 7672)
موضوع: احتسابِ اعمال، غفلت کے عذر اور مغفرتِ الٰہی
#قیامت_کی_پیشی #حساب_کتاب #فکر_آخرت #توبہ_و_استغفار #کنیرا_اسلامک_پوسٹ #IslamicPost #ViralPost #IslamicHistory #MoralStory