280 نوری سال دور ایک پگھلی ہوئی دنیا اپنے ستارے کی 74 فیصد روشنی خلا میں کیوں لوٹا رہی ہے؟
تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی )دوستو! ذرا ایک ایسے سیارے کا تصور کریں جس کا ایک سال ہماری زمین کے محض دس ساڑھے دس گھنٹوں کے برابر ہو۔ ایک ایسی دنیا جو اپنے ستارے کے اتنے قریب ہے کہ اس کے دن والے حصے کی چٹانیں پگھل کر ابلتے ہوئے لاوے کے سمندروں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
لیکن اس جہنم جیسی دنیا کے ساتھ ایک حیرت انگیز سائنسی راز بھی جڑا ہے: یہ سیارہ اپنے ستارے سے آنے والی زبردست روشنی کا ایک بہت بڑا حصہ واپس خلا میں منعکس کرتا دکھائی دیتا ہے۔
اس سیارے کا نام TOI-561 b ہے اور یہ ہم سے تقریباً 280 نوری سال کی دوری پر واقع ہے۔ حال ہی میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کی مدد سے اس کے مسلسل چار مداری چکروں کا مشاہدہ کیا گیا، اور 2026 میں شائع ہونے والی تحقیق نے اس انتہائی گرم دنیا کے عجیب و غریب ماحول کے بارے میں ایک حیران کن امکان دنیا کے سامنے رکھا ہے۔
یہ سیارہ اتنا غیر معمولی کیوں ہے؟
TOI-561 b ایک چٹانی سیارہ (Rocky planet) ہے جو اپنے ستارے کے گرد محض 10.6 گھنٹے میں اپنا ایک چکر (سال) مکمل کر لیتا ہے۔ اتنے مختصر فاصلے پر ہونے کی وجہ سے اس پر ستارے کی شدید ترین توانائی اور تابکاری برستی ہے۔
عام فلکیاتی ماڈلز کے مطابق، اتنی شدید تابکاری کسی بھی سیارے کی فضا (Atmosphere) کو اڑا کر خلا میں بکھیرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ اس لیے سائنس دانوں کی توقع یہی تھی کہ یہ سیارہ محض ایک اندھیری، بے فضا اور جھلسی ہوئی سیاہ چٹان ہوگا۔ لیکن جب پرانے مشاہدات کا ڈیٹا سامنے آیا، تو پتا چلا کہ اس کے دن والے گرم حصے سے نکلنے والی حرارتی روشنی سائنس دانوں کی توقعات سے بالکل مختلف ہے۔
جیمز ویب دوربین نے کیا دیکھا؟
اس گتھی کو سلجھانے کے لیے محققین نے جیمز ویب خلائی دوربین کے انتہائی حساس آلے ‘NIRSpec’ کی مدد سے مسلسل 37 گھنٹے تک اس سیارے پر نظر رکھی۔ اس دوران سیارے نے اپنے ستارے کے گرد چار چکر مکمل کیے۔
فلکیات کی زبان میں اس طریقے کو ‘فیز کرو آبزرویشن’ (Phase-curve observation) کہا جاتا ہے۔ جب سیارہ گردش کرتا ہے تو اس کے دن اور رات والے حصوں سے آنے والی روشنی کے انداز میں تبدیلی آتی ہے۔ اس کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ اس سیارے کے دن والے حصے کا درجہ حرارت ایک بے فضا سیاہ چٹان کے متوقع درجہ حرارت سے کافی کم ہے۔ ساتھ ہی، اس کا رات والا حصہ بھی اتنا گرم نہیں تھا جو اس غائب ہونے والی حرارت کا حساب دے سکے۔
اس سے سائنس دانوں پر ایک نیا اور چونکا دینے والا امکان ظاہر ہوا: یہ سیارہ ستارے کی روشنی کو جذب کرنے کے بجائے ایک آئینے کی طرح منعکس کر رہا ہے۔
تقریباً 74 فیصد روشنی کی واپسی؟
تحقیقی تجزیے کے بعد اس سیارے کا ‘بانڈ البیڈو’ (Bond Albedo) تقریباً 0.74 نکالا گیا۔ فلکیات میں البیڈو کسی بھی جسم کی روشنی کو منعکس کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اس تخمینے کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ TOI-561 b اپنے ستارے سے ٹکرانے والی زبردست توانائی کا تقریباً تین چوتھائی (74 فیصد) حصہ واپس خلا میں موڑ دیتا ہے۔ ایک لاوے میں پگھلی ہوئی انتہائی گرم دنیا کے لیے یہ ایک غیر معمولی اور حیران کن نتیجہ ہے۔ البتہ یاد رہے کہ یہ عدد دوربین سے لی گئی کسی تصویر سے براہِ راست نہیں گنا گیا، بلکہ روشنی کے طیف اور توانائی کے جدید حسابی ماڈلز سے اخذ کیا گیا ہے۔
کیا وہاں پتھروں کے بادل موجود ہیں؟
اب سوال یہ تھا کہ آخر روشنی کو کون سی چیز واپس دھکیل رہی ہے؟ محققین نے اس کا جواب جاننے کے لیے سپر کمپیوٹرز پر ماڈلز بنائے۔
سب سے مضبوط سائنسی وضاحت یہ سامنے آئی ہے کہ سیارے کی انتہائی گرم سطح سے چٹانیں اور پتھر پگھل کر بخارات (Vapor) کی صورت میں فضا میں اڑتے ہیں۔ جب یہ چٹانی بخارات فضا کے اوپری اور قدرے ٹھنڈے حصوں میں پہنچتے ہیں، تو وہ جم کر معدنی ذرات یا ‘پتھروں کے بادل’ بنا دیتے ہیں۔ ان بادلوں میں سلیکون ڈائی آکسائیڈ اور میگنیشیم سلیکیٹ جیسی دھاتیں اور چٹانی ذرات شامل ہو سکتے ہیں۔
یہی وہ چمکدار اور دھاتی بادل ہیں جو ستارے کی شدید روشنی کا بڑا حصہ منعکس کر کے سیارے کو مزید گرم ہونے سے بچا رہے ہیں۔
کیا یہ سیارہ زندگی کے لیے موزوں ہے؟
نہیں، بالکل نہیں۔ اس کے دن والے حصے کا درجہ حرارت تقریباً 2,000 کیلون کے آس پاس ہے جو کسی بھٹی سے بھی زیادہ گرم ہے۔ اس کی شدید تابکاری اور ابلتے ہوئے لاوے کی وجہ سے اسے قابلِ رہائش دنیا سمجھنا محال ہے۔
تاہم، اس تحقیق کی اصل اہمیت خلائی مخلوق تلاش کرنے میں نہیں، بلکہ اس حقیقت کو سمجھنے میں ہے کہ کائنات میں انتہائی گرم اور جھلسے ہوئے سیارے بھی اپنی فضا کو ایک حیرت انگیز اور غیر متوقع شکل (جیسے پتھروں کے بادلوں) میں برقرار رکھ سکتے ہیں۔
قرآنی تدبر:
اللہ تبارک و تعالی سورۃ آل عمران کی آیت 190 میں کائنات کی تخلیق پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ: ”بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔“
ہم یہ وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم اس قرآنی آیت کو TOI-561 b سیارے، فیز کرو آبزرویشن، یا سلیکیٹ کے بادلوں کی کسی مخصوص سائنسی پیش گوئی کے طور پر پیش نہیں کر رہے۔ قرآنِ مجید فکری تدبر، ہدایت اور کائنات کے خالق کی پہچان کی کتاب ہے۔
اس آیت کی روشنی میں میرے نزدیک اس تحقیق کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ کائنات کی وسعت اور اس میں موجود دنیائیں ہماری محدود سوچ سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور متنوع ہیں۔ ہم 280 نوری سال دور موجود ایک سیارے کی روشنی میں آنے والی معمولی سی تبدیلیوں کو ناپ کر اندازہ لگا رہے ہیں کہ وہاں پتھروں کے بادل اڑ رہے ہیں۔ یہ جدید انسان کی علمی پرواز ہے، لیکن ساتھ ہی یہ اس عظیم کائنات کی ان گنت نشانیوں میں سے محض ایک نشانی کا مشاہدہ ہے جو ربِ ذوالجلال کی قدرت اور لامحدود صناعی کا پتا دیتی ہے۔
مستند حوالہ جات:
۱۔ باؤچر اور ساتھی (Boucher et al.)، A Highly Reflective Atmosphere on the Lava World TOI-561 b Revealed by JWST/NIRSpec Phase Curve، دی ایسٹرونومیکل جرنل (The Astronomical Journal)، 2026۔
۲۔ ناسا (NASA Exoplanet Catalog)، Super-Earth Exoplanet TOI-561 b اور جیمز ویب کے سائنسی مشاہدات۔