سلسلہ عظیمیہ اس کی علمی و سماجی خدمات۔۔۔ تحریر۔۔۔ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی۔۔۔قسط نمبر2

سلسلہ عظیمیہ اس کی علمی و سماجی خدمات

تحریر۔۔۔ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ سلسلہ عظیمیہ اس کی علمی و سماجی خدمات۔۔۔ تحریر۔۔۔ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی)پاداش میں انسان کو جنت سے نکال کر ایک مقررہ وقت تک کے لئے زمین پر بھیج دیا گیا۔ ارشاد باری تعالی ٰہے

ترجمہ : پھر شیطان نے جنت سے انہیں لغزش دی اور جہاں وہ دونوں رہتے تھے

وہات سے انہیں الگ کر دیا اور ہم نے فرمایا۔

تم سب (زمین پر) اتر و آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک وقت

معین تک زمین میں ٹھہر نا اور فائدہ حاص کرتا ہے۔[سورة بقره (2): 36]

زمین پر زندگی بسر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہدایت ورہنمائی کا انتظام فرمایا گیا۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ ترجمہ : ہم نے فرمایا تم سب (یعنی آدم وحوا اور ان کی ذریت جو پیدا ہونے والی تھی) جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کریگا اسے نہ کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ کچھ غم۔[سورة بقره (2): 38]

نوع انسانی کو مختلف ادوار میں ہدایت ، رہنمائی عطا فرماتے رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور رسولوں کا سلسلہ قائم فرمایا۔ ان تمام آیات میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ

  • اللہ تعالیٰ نے مٹی کے جسم میں روح پھونکی تو وہ جیتا جاگتا وجود بن گیا۔ یعنی انسان روح اور جسم کا مجموعہ ہے۔ روح جب تک اس جسم میں موجود ہے اس میں حرکت واثر و نفوذ ہے۔اس پہلو میں تخلیق انسانی کے دو اجزاء روح و جسم کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے مل کر زندگی تشکیل پاتی ہے۔

  • اللہ تعالی نے انسانی وجود کو علم الاسماء سے بھی نوازا۔ اسی علم کی بدولت انسان کو فرشتوں اور دوسری مخلوقات پر برتری حاصل ہوئی۔

  • ان آیات میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ ابلیس انسان کا صریح دشمن ہے جو پہلے خود راندہ درگاہ ہوا اور پھر نوع انسانی کو اللہ کے رستے سے دور کرنا اس کا مقصد ہے۔ یعنی انسانوں کے دو گروہ وجود میں آئے ایک وہ لوگ جو اللہ کے پسندیدہ رہتے (صراط مستقیم پر گامزن ہیں اور دوسرے وہ جو شیطان یا ابلیس کے پیروکار ہیں۔تخلیق انسانی، شرف انسانی اور صراط مستقیم ، ان اہم امور پر قرآن پاک سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے۔ انسان کو تخلیق کرنے والی ہستی کون ہے…..؟ اللہ ، خالق وباری، اللہ وحدہ لا شریک شرف انسانی عطا کرنے والی ہستی کونسی ہے؟

اللہ علیم و حکیم

انسان کو صراط مستقیم کی تعلیم دینے والی مبارک ہستی کون ہے ؟

الله بادی و رشید

اس طرح یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تخلیق کائنات اور تخلیق انسانی دراصل توحید باری تعالی ہی کے مختلف مظاہر ہیں چنانچہ اللہ تعالی کو پانے، سمجھنے، اس کا عرفان حاصل کرنے ، کائنات اور انسان کو سمجھنے ، پوری انسانی تاریخ سے آگاہی حاصل کرنے، معاشرت و معیشت اخلاق و کردار کی بہترین تشکیل کرنے کا واحد اور جامع ترین ذریعہ توحید ہی ہے۔ توحید باری تعالیٰ نوع انسانی کو ایک روحانی ، فکری ، اخلاقی، معاشی اور تہذہبی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

زمین پر آدم کی اولاد پھیلتی رہی۔ انسانوں کی آبادی بڑھتی رہی۔ آدم کی اولاد نے زمین پر مختلف مخطوں میں رہائش اختیار کی۔ موسم اور ماحول کےفرق سے انسان کے مزاج اور عادات و اطوار میں تبدیلی آئی۔ خاندان قبیلوں اور قبیلے قوموں میں تبدیل ہوئے۔ باہمی رابطہ اور تبادلہ خیال کے لئے الفاظ، جملے اور پھر مختلف بولیاں وجود میں آتی رہیں۔ ان تمام امور میں بھی مصلحت خداوندی اور اللہ تعالی کی نشانیاں پنہاں ہیں۔

ترجمہ : اے انسانو! بے شک ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت سے پیدا کیا اور تمہارے جدا جدا خاندان اور قبیلے اس لئے بنائے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچان لو نہ کہ دوسروں پر فخر اور تکبر کرنے کے لئے بے شک تم میں سب سے زیادہ بزرگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی ہے جو تم میں سب سے زیادہ پر ہیز گار ہو بے شک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے۔[سوره حجرات (49): 13]

دنیا کے مختلف خطوں میں آباد لوگوں کو توحید باری تعالی پر قائم رکھنے، انہیں اس دنیا میں اعلیٰ اقدار پر مبنی بہتر زندگی بسر کرنے اور آخرت میں اللہ تعالی کے حضور جو ابدہی سے باخبر رکھنے کے لئے مختلف ادوار میں اس کے انبیاء اور رسول مبعوث ہوتے

رہے۔ ان مقدس ہستیوں نے انسان کو اپنے خالق و مالک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی تلقین و ترغیب دی، عبادت کے طریقے بتائے۔ ان محترم ہستیوں نے زمین پر بہتر طور پر زندگی بسر کرنے کے لئے ہدایت ورہنمائی کے ساتھ ساتھ انسان کو تزکیہ نفس عرفان ذات اور اللہ تعالی کے ساتھ تعلق کے قیام کے طریقے بتائے۔ اللہ تعالی نے اپنے رسولوں کے ذریعے الہامی کتب اور صحائف نازل فرمائے تاکہ اللہ کا پیغام جاری و ساری رہے۔ انبیائے کرام کی تعلیمات کا بنیادی نکتہ توحید رہا۔ توحید کی روشنی میں انبیائے کرام نے انسانوں کو دو طرز کے تعلقات کی بہتری پر گامزن کیا۔

اول۔ اللہ اور بندہ کے درمیان ربط و تعلق میں بہتری ( حقوق اللہ )

دوم۔ بندہ اور دوسرے بندوں کے درمیان ربطو تعلق میں بہتری ( حقوق العباد )

حقوق اللہ :تمام انبیائے کرام نے توحید باری تعالی کا پر چار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ اللہ نے ساری کائنات تخلیق کی ہے۔ اللہ تعالی نے انسانوں کو اس لئے تخلیق کیا کہ وہ اپنے خالق و مالک اللہ کو جانیں، مائیں اور اسکی قدرت و کبریائی کا زبان و قلب سے اقرار کریں۔ انبیائے کرام نے تمام نبیوں، الہامی کتابوں ، ملائکہ اور آخرت پر ایمان کو بھی لازمی قرار دیا کیونکہ یہ سب اللہ کی جانب سے ہیں۔ اللہ سے ذہنی و قلبی طور پر منسلک رہنے ، روحانی طور پر اللہ سے تعلق خاطر استوار رکھنے کے

۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جنوری 2017