چینی پاکستانی شادی۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم

چینی پاکستانی شادی

تحریر۔۔۔حمیراعلیم

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ چینی پاکستانی شادی۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم )فیس بک پر ایک چائنیز پیج پر ایک عام مزدور کی شادی کی کہانی پڑھ کر یہ سمجھ آیا کہ چین ایک نشئی قوم سے اس اسٹیج تک کیسے پہنچا کہ سپر پاورز کو پچھاڑ سکے۔ہمارے ہاں کسی یوٹیوبر،  ٹک ٹاکر، یا نو دولتیوں کی شادیوں پر اپنی دولت دکھانے کے لیے قیمتی تحائف، ڈالرز، موبائلز یا بائیکس کی برسات کی جاتی ہے۔ہیلی کاپٹر میں بارات لے جائی جاتی ہے۔لمبا چوڑا جہیز دیا جاتا ہے۔اور لوگ ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہزاروں میل دور سے لاکھوں روپیہ خرچ کر کے وینیو پر پہنچتے ہیں ۔جہاں ان کے لالچ کے بدلے ان کے موبائلز اور والٹس چوری ہو جاتے ہیں۔اور چند ایک جان کی بازی ہی ہار جاتے ہیں۔اگر وہی لاکھوں ہزاروں بچا کر یہ لوگ کوئی کام دھندا کر لیتے تو شاید خود بائیک، ڈالرز خریدنے کے قابل ہو جاتے، جو وہ خرچ کر کے مفت کا مال لوٹنے پہنچے تھے اور اپنامال بھی گنوا بیٹھے۔

چلیے دیکھتے ہیں کہ چائنیز قوم میں اور پاکستانیوں میں کیا فرق ہے۔شو چینگ ہونگ (Xu Chenghong) بچپن ہی سے تقریباً تنہا زندگی گزار رہا تھا۔ جب وہ تقریباً تین سال کا تھا تو اس کے والد کا انتقال ہو گیا۔ دو سال بعد اس کی والدہ نے دوسری شادی کر لی اور اسے چھوڑ کر چلی گئیں۔ جب وہ سات سال کا ہوا تو اس کی پرورش کرنے والی دادی بھی وفات پا گئیں۔ جو اس کے بڑے بھائی کے ساتھ اس کی دیکھ بھال کر رہی تھیں۔

اس نے مڈل اسکول کی تعلیم ادھوری چھوڑ دی اور تعمیراتی کاموں اور سامان کی ترسیل جیسے کام کرنے لگا۔ وہ اپنی کمائی میں سے پیسے بچاتا رہا تاکہ ایک دن اپنی محبوبہ سے شادی کر سکے۔جب بالآخر اس کی شادی کا وقت قریب آیا تو 24 سالہ نوجوان کو ایک دل توڑ دینے والی حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے پاس شادی میں مدعو کرنے کے لیے کوئی رشتہ دار ہی نہیں تھا۔ شادی کی تیاریوں کے دوران اسے اور اس کی ہونے والی بیوی کو احساس ہوا کہ وہ بمشکل تین میزیں بھرنے جتنے مہمان بلا سکتے ہیں۔

چنانچہ اس نے انٹرنیٹ پر ایک پوسٹ شیئر کی اور اجنبی لوگوں کو اپنی شادی میں شرکت کی دعوت دے دی۔ اسے امید تھی کہ شاید 10 یا 20 لوگ آ جائیں گے تاکہ اس کی شادی کی تقریب بالکل تنہا اور اداس محسوس نہ ہو۔

لیکن انٹرنیٹ نے اس کی امیدوں سے کہیں بڑھ کر جواب دیا۔اطلاعات کے مطابق ملک بھر سے ہزاروں لوگ اس کی شادی میں شرکت کے لیے سفر کر کے پہنچ گئے۔ اور وہ خالی ہاتھ بھی نہیں آئے۔ مہمان اپنے ساتھ خنزیر، زندہ بطخیں، گائیں، ایک فریج، کھانا پکانے کا سامان ، 6۔6 میٹر کا کیک ، 1.2 ٹن سیب بھی شامل تھے، جبکہ ایک پورا خنزیر راتوں رات وہاں پہنچایا گیا۔ ایک شخص اپنی Mercedes-Maybach 62S گاڑی لے کر شادی میں پہنچا۔

گاڑی چینگدو (Chengdu) سے تقریباً 600 سے 700 کلومیٹر کا سفر طے کرکے آئی۔

گاڑی پر 9,999 گلاب سجائے گئے تھے۔

گاڑی کو دلہا دلہن کی شادی کی سواری کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

گاڑی کا نمبر پلیٹ بھی غیر معمولی تھا: 川M99999۔ باخ کا مالک شادی میں صرف گاڑی لے کر نہیں آیا بلکہ دو گھنٹے سے زیادہ برتن دھونے میں بھی مدد کرتا رہا۔

ملک بھر سے آنے والے اتنے سارے مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا۔ شنگھائی ڈیلی کے مطابق تقریباً 150 باورچی کھانا پکانے کے لیے وہاں پہنچے۔ منتظمین کو بیٹھ کر کھانا کھلانے کا منصوبہ منسوخ کرنا پڑا اور اس کی جگہ بوفے کا انتظام کرنا پڑا۔

صوبہ ہونان سے ایک ویڈنگ پلانر بھی خصوصی طور پر تقریب کے انتظامات میں مدد کے لیے وہاں پہنچا۔ گاؤں والوں نے سڑکوں پر نئی اسٹریٹ لائٹس نصب کیں، چائنا موبائل نے اضافی 5G آلات فراہم کیے، جبکہ مقامی حکام نے پارکنگ، ٹریفک اور مہمانوں کی قطاروں کو منظم کرنے کی ذمہ داری سنبھال لی۔یہ شاندار تقریب ہفتے کے روز، 31 اکتوبر کو منعقد ہوئی۔

یہ صرف ایک شادی نہیں تھی بلکہ اس بات کا ثبوت تھی کہ کبھی کبھی اجنبی لوگ بھی اپنے خلوص اور محبت سے کسی ایسے انسان کا خاندان بن جاتے ہیں، جس نے ساری زندگی اپنوں کی کمی محسوس کی ہو۔

اس شادی کا موازنہ اپنے ہاں کے مسٹر پتلو کی شادی سے کیا جائے تو فرق جاننے کے لیے راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں پڑتی۔