ماں کا دودھ: بچے کی صحت، بہترین نشوونما اور ماں کے لیے قدرت کا انمول تحفہ
تحریر: کنسلٹنٹ گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر کرن خالد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر۔۔۔ کنسلٹنٹ گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر کرن خالد)اسلامی تعلیمات اور طبی تحقیقات کی روشنی میں رضاعت کی اہمیت، بچے کی صحت اور ماں کے لیے فوائد
ماں کا دودھ قدرت کی جانب سے بچے کے لیے ایک بہترین نعمت ہے۔ یہ بچے کی عمر، جسمانی ضروریات اور نشوونما کے مطابق ضروری غذائی اجزاء فراہم کرتا ہے۔ طبی تحقیقات کے مطابق ماں کا دودھ بچے کی صحت، قوتِ مدافعت اور جسمانی و ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے فوائد صرف بچے تک محدود نہیں بلکہ ماں کی صحت اور مجموعی خاندانی زندگی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اسلام نے بھی بچوں کو دودھ پلانے (رضاعت) کو خصوصی اہمیت دی ہے اور اسے بچے کا بنیادی حق اور ماں کے لیے باعثِ اجر و ثواب قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید کی سورۃ البقرہ، آیت 233 میں ماؤں کو اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلانے کی ہدایت دی گئی ہے، بشرطیکہ وہ رضاعت کی مدت مکمل کرنا چاہیں۔
ماں کے دودھ میں پروٹین، چکنائی، وٹامنز اور دیگر ضروری غذائی اجزاء متوازن مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ پیدائش کے ابتدائی دنوں میں حاصل ہونے والا پہلا دودھ، جسے کولسٹرم (Colostrum) کہا جاتا ہے، اینٹی باڈیز سے بھرپور ہوتا ہے اور بچے کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔
تحقیقی شواہد کے مطابق ماں کا دودھ بچوں میں کان کے انفیکشن، سانس اور معدے کی بعض بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں میں مستقبل میں موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے امکانات میں کمی سے بھی اس کا تعلق سامنے آیا ہے۔
دودھ پلانے کے فوائد ماں کی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔ اس عمل کے دوران آکسیٹوسن ہارمون خارج ہوتا ہے، جو بچے کی پیدائش کے بعد رحم کو سکڑنے اور اپنی سابقہ حالت میں واپس آنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ دودھ پلانے سے توانائی استعمال ہوتی ہے اور حمل کے بعد وزن میں کمی میں بھی معاونت مل سکتی ہے۔
طبی تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ طویل عرصے تک دودھ پلانے والی خواتین میں چھاتی کے کینسر کے خطرات نسبتاً کم ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ماں اور بچے کے درمیان جذباتی تعلق اور قربت کو فروغ دینے میں بھی دودھ پلانے کا اہم کردار ہے۔
مشکل حالات، ہنگامی صورتحال اور خوراک کی قلت کے دوران بھی ماں کا دودھ بچے کے لیے ایک محفوظ اور فوری دستیاب غذا ثابت ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف غذائی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ بچے کو متعدد بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
نتیجہ: ماں کا دودھ بچے کے لیے قدرت کی عطا کردہ بہترین غذاؤں میں سے ایک ہے۔ اسلامی تعلیمات اور جدید طبی تحقیقات دونوں اس کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں دودھ پلانے کے حوالے سے شعور بیدار کیا جائے، ماؤں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں اس اہم فریضے کی ادائیگی کے لیے مناسب طبی اور خاندانی تعاون فراہم کیا جائے۔