ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔”ماں، نور اور نکتے کا راز”۔۔۔ تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم )مجھے معلوم ہے کہ وہ نور ہے…مگر وہ نور کیسا ہے؟یہ راز لفظوں میں نہیں سماتا۔ جب میں اُس کے حسن کی بات کرتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ بولنے والی میں نہیں ہوتی، کوئی اور میرے ہونٹوں پر اپنے معانی رکھ جاتا ہے۔سنو… غور سے سنو…
انسان کی حقیقت تب تک نامکمل رہتی ہے جب تک وہ خود کو نہ ہونے کی کیفیت سے نہ گزر لے۔
جب ہم کچھ نہیں ہوتے تو ہمارا وجود بھی نہیں ہوتا۔
اور جب ہمیں وجود دیا جاتا ہے تو نہ ہمارا اپنا کوئی نام ہوتا ہے، نہ ہمارا کوئی اختیار…
ہم بغیر مرضی کے دنیا میں آتے ہیں، یہ سب اُس کے حکم سے ہوتا ہے۔
اور چونکہ یہ وجود لینا بھی اُس کی طرف سے ہے،
اس لیے استقبال بھی وہی کرتا ہے۔
وہ نور ہے۔
اور نور کا پہلا حرف ن…
یہ حرف ماں کے جسم سے لگے ہمارے پہلے رزق میں جھلکتا ہے۔
ماں کی گرم گود میں، دل کی دھڑکن کے قریب، ایک نورانی غذا ہمیں خوش آمدید کہتی ہے
یہی وہ "ن” کا نکتہ ہے،
زندگی کی پہلی روشنی،
جسے دنیا دودھ کہتی ہے۔
لیکن یہ ملاقات پہلی نہیں ہوتی۔
اس سے قبل، جب ہم وجود اور عدم کے درمیانی وقفے میں ہوتے ہیں،
وہی ہمیں نو ماہ تک اپنے نظام کے اندر سنبھالے رکھتا ہے۔