یہ ذکرِ نیم شبی، یہ مراقبے، یہ سُرور
یہ ذکرِ نیم شبی، یہ مراقبے، یہ سُرور تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں علامہ اقبال اس شعر میں روحانی عبادات جیسے رات کے وقت ذکر، مراقبہ اور وجد کی کیفیات کو اُس وقت تک بےمعنی قرار دیتے ہیں جب تک یہ انسان کی خودی کو سنوارنے اور اس کی حفاظت کرنے […]
![]()
یہ ذکرِ نیم شبی، یہ مراقبے، یہ سُرور Read More »









