Daily Roshni News

اسلام کا پرچم بلند ہوا۔۔۔انتخاب ۔۔۔  چوہدری اکرام الحق

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔اسلام کا پرچم بلند ہوا۔۔۔انتخاب ۔۔۔  چوہدری اکرام الحق)یہ آٹھ ہجری کی بات ہے کہ مکہ معظمہ پر پرجم  اسلام بلند ہوا اور پھر غزوہ حنین کے بعد سارے قبیلے عرب  پر اسلام کی قوت و شوکت کی دھاک بیٹھ گئی۔ اس وقت دور دراز علاقوں سے لوگ مکہ آنے لگے۔ قبیلے جوق  در جوق  مکہ آ کر اسلام قبول کرنے لگے۔ انہی قبیلوں میں قبیلہ نجران سے مکہ معظمہ آیا نجران یمن کی طرف سات منزل پر واقع ایک ضلع تھا جہاں عیسائی عرب آباد  تھے۔ انہوں نے نجران میں ایک عظیم الشان کلیسہ بنا رکھا تھا جسے عرب بھر میں عیسائیوں کا سب سے بڑا مذہبی مرکز سمجھا جاتا تھا۔ اس کلیسہ میں عیسائیوں کے دو بڑے مذہبی پیشوا رہتے تھے۔ ان میں ایک کا لقب آقا اور دوسرے کا سید تھا۔

نو حجری میں ساٹھ آدمیوں پر مشتمل اہل نجران کا ایک وفد ان دونوں حضرات عاقب اور سید  کی سربرگی میں مدینہ آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی عزت کی۔ ان کو بہت پرزور قسم کی اسلام کی دعوت دی۔ لیکن قبول اسلام کے بجائے انہوں نے بحث دربحث شروع کر دی۔ اس پر حکم نازل ہوا:

اے رسول جو شخص علم آنے کے بعد آپ سے جھگڑا کرتا ہے اس سے کہہ دیں کہ آؤ ہم اپنی اولاد کو بلا لاتے ہیں اور تم اپنی اولاد کو بلا لو۔ اس طرح ہماری عورتیں اور تمہاری عورتیں ہم خود بھی اور تم خود بھی جمع ہو جاؤ۔ پھر ہم مباہلہ کر لیتے ہیں اور خدا سے دعا کریں کہ ہم میں جو جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت ہو۔

یہ سورہ آل عمران میں آیا۔ اس حکم کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ ؓکو حضرت حسن ؓاور حسین ؓکو اکٹھا کیا اور نجران کے سرداروں سے مباہلہ کرنے کے لیے چل پڑے۔ دوسری طرف جب ان کو یہ بات پتا لگی تو اہل نجران نے آپس میں مشورہ کیا کہ اگر یہ اللہ کے سچے نبی ہوئے تو پھر ہم تو مارے گئے۔ اس لیے انہوں نے اسے بہتر سمجھا کہ وہ آ کے معذرت  کر لیں۔انہوں نے  حضور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی  خدمت میں اطاعت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے خراج لے لیں۔ ہم ہمیشہ دیتے رہیں گے۔ آپ کسی امین آدمی کو ہمارے ساتھ بھیج دیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میں تمہارے ساتھ ایسے امین کو بھیجوں گا جو انتہائی درجے کا حقیقی معنوں میں امانت دار ہے۔ حضورؐ کا یہ ارشاد سن کے وہاں پر موجود تمام صحابہ نہایت شوق سے دیکھنے لگے کہ یہ شرف کس خوش بخت کو نصیب ہوتا ہے۔ تب رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی طرف نظر کرم کی اور فرمایا:

کھڑے ہو جاؤ۔ کشادہ قدمت کے یہ نحیف و لاغر   صاحب رسول جن کے چہرے پر نور کی بارش ہو رہی تھی فوراً کھڑے ہو گئے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں اور یہ صاحب رسول جن کو لسان رسالت سے امین الامت کا خطاب ملا وہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح تھے۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح جلیل القدر صحابہ میں سے تھے اور اسابقون اولون میں ان کا شمار تھا۔ ان کا اصل نام عامر تھا انہوں نے اپنی کنیات ابو عبیدہ سے مشہور تھے۔ حضرت ابو عبیدہ کا خاندانی تعلق بنو فہر سے تھا جو بقول ابن سعد قریش کی آخری شاخ ہیں۔ یعنی کہ ان کا سلسلہ نسب آخر میں جا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا تھا اور ان کی والدہ نے بھی سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔

حضرت ابو عبیدہؓ نے نبوت کی ابتدائی سالوں میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دار الارقم میں بھی قیام نہیں کیا تھا۔ حضرت ابو عبیدہؓ  نے صدیق الامت حضرت ابو بکر ؓکی دعوت پر اسلام قبول کیا  اور یہ وہ زمانہ تھا جب دعوت قبول کرنا اسلام قبول کرنا اس پر لبیک کہنا مشرکین کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے کے مترادف تھا۔ قبول حق کے بعد حضرت ابو عبیدہ ؓاسلام کے  قافلے میں جب شامل ہوئے تو ان پر بھی اسی طرح کے ظلم و ستم ڈھائے گئے۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مظلوم  صحابہ کو حبشہ کی طرف ہجرت  کرنے کی اجازت دی تو اس وقت حضرت ابو عبیدہؓ بھی ان مہاجرین کے ساتھ شامل تھے۔ وہاں کئی سال تک آپ نے غریب الوطنی کی زندگی گزاری اور بالاخر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرت مدینہ کی تو اس وقت آپ مکہ تشریف لے آئے۔ غزوات کا اغاز ہوا تو حضرت ابو عبید ہ ؓہر  معرکہ  حق کے سرفروش سپاہی ثابت ہوے میں انہوں نے ہر معرکہ  میں جان بازی کا مظاہرہ کیا۔ سب سے پہلے وہ غزوہ بدر میں شامل ہوئے اور انہوں نے اپنے ہی والد عبداللہ بن جراح کو اپنے ہاتھوں سے قتل کیا۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورت مجادلہ میں   فرمایا:

تم کوئی قوم ایسی نہیں پاؤ گے جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لاتی ہو اور اللہ اور اس کے رسول کے مخالفین سے بھی محبت رکھتی ہو خواہ ایسے لوگ ان کے باپ ہوں یا بیٹے یا بھائی یا ان کے خاندان میں سے ہوں۔ یہی مومن ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش کر دیا ہے اور اپنے فیضان  غیب سے  بھی مدد بھی دی ہے۔

اسی طرح حضرت ابو عبیدہؓ تین ہجری میں غزوہ احد میں شریک ہوئے۔ جب ایک اتفاقی غلطی سے لڑائی کا پانسہ پلٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زخمی ہو گئے تو حضرت ابو عبیدہؓ بے تاب و بے قرار ہوئے اور عشق رسول کا حیرت انگیز ثبوت دیا۔ حضرت ابو بکر صدیق فرماتے ہیں:

“میں نے دیکھا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اکیلا پا کے مشرق کی جانب سے ایک پرندے کی طرح فضا میں پرواز کرتا ہوا تیزی سے حضور اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کے لیے تیزی سے بھاگا اور کہا کہ الہی خیر ہو۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ شخص مجھ سے بھی پہلے پہنچ چکا ہے۔ ابو عبیدہؓ بن جرا ح ہے۔”

اس موقع پر ایک کافر کے وار سے لوہے کی کڑیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخسار مبارک میں دھنس گئی تھیں۔ حضرت ابو عبیدہ ؓنے آگے بڑھ کر کڑیاں اپنے دانتوں سے پکڑیں اور کھینچی یہاں تک کہ وہ باہر آ گئی، لیکن اس کوشش میں ان کے دو دانت ٹوٹ گئے۔

غزوہ احد کے بعد حضرت ابو عبیدہ ؓغزوہ احزاب میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ 6 ربیع الاول کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ ؓکو قبیلہ ثعلبہ وانمار کی سرکوبی پر معمور فرمایا۔ یہ لوگ مدینہ میں غارت گری کرتے تھے۔ حضرت ابو عبیدہ چالیس مجاہدین کے ساتھ ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کا ایک آدمی اسیر ہو گیا۔ حضرت ابو عبیدہ ؓاس کو مدینہ لے آئے اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔ باقی سب لوگ مقابلے کی ہمت نہ کر کے بھاگ گئے۔

حضرت ابو عبیدہؓ کو حدیبیہ کے مقام پر بیعت رضوان میں  بھی شامل ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی طرح غزوہ خندق میں آپ نے بہادری کے جوہر دکھائے۔ غزوہ خندق کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ قبیلہ قضاعہ کے لوگ مدینہ منورہ پر حملہ آور ہونے کے لیے منصوبہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے حضرت عمر بن عاصؓ کو تین سو مجاہدین کے ساتھ اس طرف روانہ کیا۔ حضرت عمر بن عاصؓ بنو قضاعہ کے علاقے میں پہنچے تو سلاسل نامی ایک چشمے پر آپ نے قیام کیا اور وہاں سے آپ نے رسول اللہ کو پیغام بھیجا کہ یہاں پہ دشمن کی تعداد زیادہ ہے۔ رسول ؐاللہ نے حضرت ابو عبیدہ ؓکی قیادت میں دوسو مجاہدین کا لشکر بھیجا جن میں حضرت ابو بکر صدیق،ؓ حضرت عمر ؓ اور بھی بہت سارے جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔

جب یہ لوگ حضرت عمر بن عاصؓ کی فوج سے ملے تو یہاں پر امامت کا مسئلہ پیدا ہوا کیونکہ حضرت ابو عبیدہ ؓمرتبے اور شان کے لحاظ سے پوری طرح امامت  کے مستحق تھے، لیکن حضرت عمر بن عاصؓ چاہتے تھے کہ وہ فوج کی قیادت خود کرے۔ تو حضرت ابو عبیدہؓ نے خوش دلی سے ان کو قیادت کرنے دی۔ جب واپس آ کر رسول اللہ کو یہ واقعہ سنایا گیا تو انہوں نے فرمایا:

” ابو عبیدہؓ پر اللہ کی رحمت ہو، اپنا حق ہوتے ہوئے بھی حق چھوڑ دینا بہت بڑی قربانی ہے۔”

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہؓ کو تین سو سواروں  کے ساتھ ساحل بحر کی طرف بھیجا تاکہ وہ قریش کے لشکر کے بارے  میں پتا چلا سکیں۔ تاریخ میں اسے مہم سریہ سیف البحر کہا جاتا ہے یعنی کہ بحر سے مراد سمندر کا کنارہ۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری اس مہم کا حال اس طرح بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم ساحل کی طرف بھیجی

جاری ہے

Loading