اللہ کی  ہر حد میں ہمارے لیے کوئی نہ کوئی بڑی مصلحت چھپی ہے۔

اللہ کی  ہر حد میں ہمارے لیے کوئی نہ کوئی بڑی مصلحت چھپی ہے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسان صرف 20Hz سے 20,000Hz کے درمیان کی فریکوئنسی (آوازیں) سن سکتے ہیں کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر اللہ ہمیں سننے کی ‘لامحدود’ طاقت دے دیتا، تو ہمارا کیا حال ہوتا؟

  بیس ہرٹز سے بیس ہرٹز ہماری سماعت کی وہ حد ہے جسے سائنس "Audible Range” کہتی ہے۔ اس رینج سے باہر، ہمارے اردگرد آوازوں کا ایک ایسا سمندر ہے جسے ہم چاہ کر بھی نہیں سن سکتے۔

بظاہر یہ ہماری ایک حیاتیاتی حد اور معذوری (Biological Limitation) لگتی ہے، لیکن جدید سائنس اور قرآنی حکمت کو ملا کر دیکھیں، تو یہ ہماری کمزوری نہیں بلکہ قدرت کا ایک عظیم ترین تحفہ اور رحمت ہے!

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ہر چیز کو ایک خاص مقدار اور توازن میں پیدا کرنے کا ذکر فرمایا ہے:

"اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ”

"بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک مقررہ اندازے (اور توازن) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔” (سورہ القمر: 49)

ہماری سماعت کی یہ محدود رینج اسی "قدر” اور الٰہی توازن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر یہ توازن نہ ہوتا، تو انسانی زندگی ناممکن ہو جاتی۔

 اگر یہ حد نہ ہوتی… تو سائنس کیا کہتی ہے؟

سوچیں، اگر اللہ ہمارے کانوں کے پردوں کو ہر فریکوئنسی سننے کے قابل بنا دیتا، تو ہمارے ساتھ کیا ہوتا؟

  زمین کے اندر کا شور آپ کو پاگل کر دیتا (Infrasound):

زمین کی ٹیکٹونک پلیٹس کی حرکت، زلزلوں کی دھیمی گونج، اور آتش فشاں کی زیرِ زمین ہچل مچانے والی آوازیں 20Hz سے نیچے ہوتی ہیں۔ اگر ہم انہیں سن پاتے، تو ہمیں زمین پر ایک سیکنڈ کے لیے بھی سکون نہ ملتا۔

  مائیکرو اسکوپک دنیا کا طوفان (Ultrasound):

چمگادڑ، ڈولفن اور بے شمار حشرات الارض 20,000Hz سے اوپر کی آوازیں نکالتے ہیں۔ یہی نہیں، جب مٹی میں موجود کیڑے مکوڑے چلتے ہیں یا پودے پانی جذب کرتے ہیں، تو ایک خاص فریکوئنسی پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہماری سماعت وہاں تک پہنچ جاتی، تو پودوں کے پاس بیٹھنا بھی محال ہو جاتا۔

  ہوا کے مالیکیولز کا ٹکراؤ:

ہمارے اردگرد ہوا کے اربوں مالیکیولز ہر وقت ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ اگر ہمارے کان اس حد سے زیادہ حساس ہوتے، تو ہوا کا چلنا بھی ہمارے کانوں میں بم دھماکوں کی طرح گونجتا۔

  حیاتیاتی حدود یا حیرت انگیز حکمت؟

یہ کوئی "Biological Flaw” نہیں ہے، بلکہ یہ "Biological Filter” ہے! اللہ تعالیٰ نے ہمارے دماغ اور کانوں کو اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ وہ صرف وہی آوازیں سنیں جو ہماری بقا اور ذہنی سکون کے لیے ضروری ہیں۔

اگر یہ فلٹر نہ ہوتا، تو کائنات کا شور ہمیں ذہنی مریض بنا دیتا۔ کائنات کا بنانے والا خوب جانتا تھا کہ اس کے بندے کو زمین پر جینے کے لیے کتنی سماعت کی ضرورت ہے۔ یہ اللہ کی وہ پوشیدہ رحمت ہے جس کا ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں لیکن کبھی شکر ادا نہیں کرتے۔

  سبحان اللہ! اللہ کی ہر تخلیق میں، اس کی دی ہوئی ہر حد میں ہمارے لیے کوئی نہ کوئی بڑی مصلحت چھپی ہے۔

 آپ کا کیا خیال ہے؟ کمنٹ میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اس ایمان افروز معلومات کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر (Share) کر کے صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔

#science #nature #amazing #facts #lifestyle

Loading