قرآن کی موجودہ ترتیب — نزول کی ترتیب سے مختلف کیوں؟

قرآن کی موجودہ ترتیب — نزول کی ترتیب سے مختلف کیوں؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جبرئیلؑ، آخری دورِ قرآن، جمعِ ابوبکرؓ اور مصاحفِ عثمانؓ کی مکمل داستان۔۔ایک سوال جو ہر صاحبِ فکر کے ذہن میں آ سکتا ہے قرآن مجید ہمارے ہاتھوں میں جس ترتیب سے موجود ہے، کیا یہی وہ ترتیب ہے جس ترتیب سے قرآن نازل ہوا تھا؟ اگر ایسا نہیں، تو پھر ایک سوال بہت فطری ہے: *سورۂ علق کی ابتدائی آیات، جو وحی کے آغاز میں نازل ہوئیں، آج قرآن میں چھیانوے نمبر پر کیوں ہیں؟* *سورۂ فاتحہ، جو نزول کے اعتبار سے علق سے پہلے نہیں تھی، قرآن کے آغاز میں کیوں ہے؟* *سورۂ بقرہ مدینہ کے دور کی سورت ہے، مگر قرآن میں دوسری سورت کیوں ہے؟* اور اگر سورۂ نصر کو پورے قرآن کی آخری مکمل نازل ہونے والی سورت قرار دیا گیا ہے، تو وہ قرآن کے آخر میں کیوں نہیں بلکہ ایک سو دس نمبر پر کیوں ہے؟ کیا صحابۂ کرامؓ نے قرآن کو اپنی طرف سے ترتیب دیا؟ کیا حضرت ابوبکرؓ نے قرآن کو پہلی مرتبہ ترتیب دیا؟ کیا حضرت عثمانؓ نے موجودہ ترتیب بنوائی؟

اور سب سے اہم سوال:

*جبرئیل علیہ السلام ہر سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قرآن کا دور کیوں کرتے تھے، اور آخری سال دو مرتبہ قرآن پیش کرنے کی کیا اہمیت تھی؟* یہ سوالات صرف تاریخی نہیں۔ ان کے جواب ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ *قرآن کا نزول، قرآن کا محفوظ ہونا، قرآن کی آیات کی ترتیب، سورتوں کی ترتیب اور مصحف کی تدوین—یہ سب ایک ہی مرحلے کے نام نہیں ہیں۔* اس پوری داستان کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایک ایک پردہ اٹھانا ہوگا۔

قرآن سب سے پہلے کیسے نازل ہوا؟

وحی کا آغاز غارِ حرا سے ہوا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مشہور روایت صحیح بخاری میں موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے خلوت محبوب کر دی گئی تھی۔ آپ ﷺ غارِ حرا میں عبادت کے لیے تشریف لے جاتے تھے، یہاں تک کہ ایک دن فرشتہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: *«اقْرَأْ»* آپ ﷺ نے فرمایا: *«مَا أَنَا بِقَارِئٍ»* پھر سورۂ علق کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ یہاں سے ایک اہم بات سمجھنی چاہیے: *قرآن ایک ہی دن مکمل کتاب کی صورت میں نہیں اتارا گیا تھا۔* وہ تقریباً تئیس برس کے عرصے میں نازل ہوا۔

کبھی کسی واقعے کے جواب میں آیت نازل ہوئی، کبھی کسی سوال کا جواب آیا، کبھی کسی غلطی کی اصلاح ہوئی، کبھی کسی جنگ کے حالات میں رہنمائی آئی، کبھی کسی خاندان کے مسئلے کا حکم آیا اور کبھی انسان کے دل کو اللہ کی طرف متوجہ کیا گیا۔ یعنی قرآن کا *نزولی سفر ایک جاری تربیتی سفر* تھا۔ لیکن جو قرآن آج ہمارے ہاتھ میں ہے، وہ اس نزولی زمانی ترتیب کی کتاب نہیں۔ یہاں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے: *اگر قرآن زمانی ترتیب کی کتاب نہیں تو پھر اس کی موجودہ ترتیب کیا ہے؟*

پہلی بات: ترتیبِ نزول اور ترتیبِ مصحف الگ ہیں

یہ فرق پورے موضوع کی بنیاد ہے۔

ترتیبِ نزول

اس سے مراد یہ ہے کہ کون سی آیت یا سورت پہلے نازل ہوئی اور کون سی بعد میں۔

ترتیبِ مصحف

اس سے مراد وہ ترتیب ہے جس میں قرآن آج پڑھا اور لکھا جاتا ہے: فاتحہ، بقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ۔۔۔ پھر آگے سورتیں۔

یہ دونوں ترتیبیں ایک جیسی نہیں ہیں۔ مثلاً پہلی وحی کے طور پر سورۂ علق کی ابتدائی آیات کا واقعہ صحیح بخاری میں موجود ہے۔ لیکن آج سورۂ علق قرآن میں چھیانوے نمبر پر ہے۔ اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سورۂ نصر کو *پورے قرآن میں مکمل طور پر نازل ہونے والی آخری سورت* بتایا۔ لیکن موجودہ مصحف میں سورۂ نصر نمبر ۱۱۰ ہے۔ پس یہ بات بالکل واضح ہے: *موجودہ مصحف تاریخِ نزول کی ترتیب پر مرتب نہیں۔*

تو پھر موجودہ ترتیب آئی کہاں سے؟

یہاں ہمیں قرآن کے تین مختلف مراحل کو الگ الگ سمجھنا ہوگا: *پہلا مرحلہ: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نزول، حفظ اور کتابت* *دوسرا مرحلہ: حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانے میں قرآن کو ایک مجموعے میں جمع کرنا* *تیسرا مرحلہ: حضرت عثمانؓ کے زمانے میں معیاری مصاحف تیار کرکے امت میں پھیلانا*

ان تینوں کو اگر ایک ہی چیز سمجھ لیا جائے تو تاریخِ قرآن کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قرآن صرف زبانی یاد نہیں کیا جاتا تھا

یہ سمجھنا بھی غلط ہوگا کہ قرآن صرف لوگوں کے سینوں میں محفوظ تھا اور بعد میں حضرت ابوبکرؓ نے اسے کتابی شکل دی۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قرآن:

* صحابۂ کرامؓ حفظ کرتے تھے،

* رسول اللہ ﷺ خود صحابہؓ کو سناتے تھے،

* کاتبینِ وحی اسے لکھتے تھے،

* آیات کی تلاوت نمازوں میں ہوتی تھی،

* اور قرآن مسلسل مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں موجود تھا۔

حضرت زید بن ثابتؓ خود کاتبینِ وحی میں شامل تھے۔ بعد میں حضرت ابوبکرؓ نے انہی کو قرآن جمع کرنے کی ذمہ داری دی۔

یہاں ایک نہایت اہم فرق پیدا ہوتا ہے: *حضرت ابوبکرؓ نے قرآن ایجاد نہیں کیا، نہ نیا قرآن لکھا، نہ آیات کا متن مرتب کیا۔* انہوں نے پہلے سے محفوظ قرآن کو ایک جامع مجموعے میں جمع کروایا۔

قرآن کی آیات اپنی سورتوں میں کہاں رکھی جاتی تھیں؟

یہ مسئلہ سورتوں کی مجموعی ترتیب سے الگ ہے۔ علومِ قرآن کے علماء نے ترتیبِ آیات کو توقیفی قرار دیا ہے، یعنی آیات کا اپنی اپنی سورتوں میں مقام رسول اللہ ﷺ کی ہدایت سے مقرر ہوا۔ اس سلسلے میں علومِ قرآن کی معروف کتابوں میں یہ اصول بیان ہوا ہے کہ جب کوئی آیت نازل ہوتی تو جبرئیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کو اس کے مقام کی رہنمائی کرتے اور رسول اللہ ﷺ کاتبینِ وحی کو اس کے مقام پر لکھنے کا حکم دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی موجودہ سورت کے اندر آیات کی ترتیب نزولی تاریخ کے مطابق نہیں۔ ایک آیت پہلے نازل ہوئی، دوسری بعد میں، لیکن دونوں ایک ہی سورت میں اپنے مقررہ مقام پر موجود ہیں۔ یہ ترتیب کسی بعد کے کاتب نے اپنی طرف سے نہیں بنائی۔

حضرت عثمانؓ کی ایک روایت اس مسئلے پر روشنی ڈالتی ہے

صحیح بخاری میں حضرت ابن زبیرؓ کا حضرت عثمانؓ سے سوال نقل ہوا ہے۔ انہوں نے سورۂ بقرہ کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا کہ یہ آیت ایک دوسرے حکم سے منسوخ ہو چکی ہے، پھر اسے قرآن میں کیوں رکھا جا رہا ہے؟ حضرت عثمانؓ نے جواب دیا: *«دَعْهَا … لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْهُ مِنْ مَكَانِهِ»* یعنی اسے اپنی جگہ رہنے دو، میں قرآن میں اس کی جگہ سے کوئی چیز نہیں ہٹاؤں گا۔ یہ روایت انتہائی اہم ہے۔ کیونکہ اس سے کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضرت عثمانؓ قرآن کی آیات کو اپنی پسند سے آگے پیچھے کرنے والے نہیں تھے۔ وہ اس ترتیب کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے تھے۔

پھر جبرئیل علیہ السلام ہر سال قرآن کا دور کیوں کرتے تھے؟

اب ہم اس موضوع کے سب سے اہم مرحلے میں داخل ہوتے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے: *«كَانَ يَعْرِضُ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ الْقُرْآنَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً، فَعَرَضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ»* یعنی جبرئیل علیہ السلام ہر سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قرآن کا ایک مرتبہ دور کرتے تھے، لیکن جس سال آپ ﷺ کا وصال ہوا، اس سال انہوں نے دو مرتبہ قرآن کا دور کیا۔ یہ محض ایک معمولی واقعہ نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے خود اس اضافی دور سے اپنی وفات کے قریب ہونے کو محسوس کیا۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھی آپ ﷺ نے بتایا کہ جبرئیل علیہ السلام ہر سال قرآن آپ ﷺ کے ساتھ ایک مرتبہ دہراتے تھے، لیکن اس سال دو مرتبہ دہرایا ہے، اور آپ ﷺ نے اس سے اپنے قریبِ اجل ہونے کا اندازہ کیا۔ یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے۔

آخری دورِ قرآن — ایک انتہائی اہم مرحلہ

یہاں ایک بات بڑی احتیاط سے سمجھنی چاہیے۔ ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ: *وفات والے سال جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قرآن کا دو مرتبہ دور کیا۔* یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ لیکن ہمیں اس سے آگے بڑھ کر ایسی بات نہیں کہنی چاہیے جس کے لیے صریح حدیث موجود نہ ہو۔ مثلاً یہ کہنا کہ: “صحیح حدیث میں واضح ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نے اسی موقع پر موجودہ ایک سو چودہ سورتوں کو موجودہ مصحفی ترتیب میں رکھ کر آخری مرتبہ منظور کیا” اس لفظی صورت میں صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

صحیح حدیث ہمیں *آخری سال دو مرتبہ دورِ قرآن* بتاتی ہے، مگر یہ صریح الفاظ نہیں بتاتی کہ اس دور میں ایک سو چودہ سورتوں کی آج والی ترتیب کو الگ سے “منظور شدہ ترتیب” قرار دیا گیا۔ یہ فرق علمی امانت کے لیے بہت ضروری ہے۔

تو کیا آخری دور کا موجودہ مصحف سے کوئی تعلق نہیں؟

ایسا کہنا بھی درست نہیں۔ بلکہ زیادہ محتاط بات یہ ہے کہ آخری دورِ قرآن *نبوی دور کے قرآن کے آخری مراجعتی مرحلے* کی حیثیت رکھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قرآن مکمل ہو چکا تھا۔ جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ سالانہ دور ہوتا تھا۔ اور وفات والے سال یہ دور دو مرتبہ ہوا۔ پھر رسول اللہ ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے۔ اس کے بعد صحابۂ کرامؓ نے قرآن کو جمع اور نقل کرنے کے کام کو آگے بڑھایا۔ یعنی ہمیں واقعات کی ترتیب یوں سمجھنی چاہیے:

*نزولِ وحی → رسول اللہ ﷺ کے ذریعے تعلیم و حفظ و کتابت → سالانہ دورِ جبرئیلؑ → آخری سال دو مرتبہ دور → رسول اللہ ﷺ کا وصال → حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں جمعِ صحف → حضرت عثمانؓ کے زمانے میں معیاری مصاحف*

حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں قرآن کیوں جمع کیا گیا؟

رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد خلافت حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ملی۔ پھر جنگِ یمامہ ہوئی۔ اس جنگ میں قرآن کے بہت سے حفاظ شہید ہوئے۔ حضرت عمرؓ کو یہ اندیشہ ہوا کہ اگر مختلف جنگوں میں حفاظ اسی طرح شہید ہوتے رہے تو قرآن کے محفوظ مواد کے حوالے سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کو قرآن جمع کرنے کا مشورہ دیا۔ صحیح بخاری میں یہ واقعہ تفصیل سے موجود ہے۔ ابتدا میں حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ ایسا کام رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا تھا، تو میں کیسے کروں؟ حضرت عمرؓ نے انہیں سمجھایا کہ یہ خیر کا کام ہے۔ آخرکار حضرت ابوبکرؓ کا دل اس کام کے لیے مطمئن ہوا۔ پھر انہوں نے حضرت زید بن ثابتؓ کو بلایا۔

حضرت زید بن ثابتؓ کی ذمہ داری

حضرت ابوبکرؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ سے فرمایا کہ وہ قرآن کو تلاش کرکے جمع کریں۔ حضرت زیدؓ نے خود فرمایا کہ یہ ذمہ داری ان کے لیے پہاڑ منتقل کرنے سے بھی زیادہ بھاری محسوس ہوئی۔ کیونکہ معاملہ عام کتاب جمع کرنے کا نہیں تھا۔ یہ *کلامِ الٰہی کو امت کے سامنے ایک جامع صحیفاتی مجموعے میں جمع کرنے* کا معاملہ تھا۔ حضرت زیدؓ نے قرآن کو مختلف تحریری مواد اور لوگوں کے سینوں میں محفوظ قرآن سے جمع کیا۔ صحیح بخاری میں ان ذرائع کا ذکر *کھجور کی شاخوں، پتلی سفید پتھریلی تختیوں اور لوگوں کے سینوں* کے ذریعے کیا گیا ہے۔ یہاں ایک بات بہت اہم ہے:

حضرت ابوبکرؓ کے جمعِ قرآن کا مطلب کیا تھا؟

اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ: “قرآن پہلے منتشر اور غیر محفوظ تھا، پھر پہلی بار قرآن معلوم ہوا۔” بلکہ مطلب یہ تھا کہ: *جو قرآن رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگوں کے سینوں اور مختلف تحریری مواد میں محفوظ تھا، اسے ایک جامع صحیفاتی مجموعے میں یکجا کیا گیا۔* یہ ایک *حفاظتی اور تدوینی مرحلہ* تھا۔

وہ صحیفے کہاں رہے؟

حضرت زیدؓ کے جمع کردہ صحیفے حضرت ابوبکرؓ کے پاس رہے۔ ان کے بعد حضرت عمرؓ کے پاس رہے۔ پھر حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہے۔ صحیح بخاری کی روایت اسی تسلسل کو بیان کرتی ہے۔ یہ نکتہ اگلے مرحلے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ حضرت عثمانؓ نے جب امت کے لیے معیاری مصاحف تیار کروائے تو انہوں نے انہی محفوظ صحیفوں سے کام لیا۔

پھر حضرت عثمانؓ کے زمانے میں مسئلہ کیا پیدا ہوا؟

اب ہم ایک نئے تاریخی مرحلے میں داخل ہوتے ہیں۔ اسلامی سلطنت وسیع ہو چکی تھی۔ مختلف علاقوں کے لوگ اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ مختلف صحابہؓ اور قراء مختلف علاقوں میں قرآن پڑھا رہے تھے۔ قرآن کی قراءت کے متعلق لوگوں میں اختلافات ظاہر ہونے لگے۔ حضرت حذیفہ بن یمانؓ نے اس صورتحال کو دیکھا اور حضرت عثمانؓ کے پاس تشریف لائے۔

انہوں نے عرض کیا کہ اس امت کو سنبھال لیجیے، اس سے پہلے کہ یہ کتاب کے بارے میں اسی طرح اختلاف کرنے لگے جیسے یہود و نصاریٰ نے اپنی کتابوں کے بارے میں اختلاف کیا۔ یہ واقعہ صحیح بخاری میں موجود ہے۔

حضرت عثمانؓ نے کیا کیا؟

حضرت عثمانؓ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے وہ صحیفے منگوائے جو حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں جمع کیے گئے تھے۔ پھر انہوں نے حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ، حضرت سعید بن العاصؓ اور حضرت عبدالرحمن بن حارث بن ہشامؓ کو ان سے مصاحف تیار کرنے کا حکم دیا۔ حضرت عثمانؓ نے قریشی صحابہؓ سے فرمایا کہ اگر کسی عربی لفظ کے بارے میں حضرت زیدؓ کے ساتھ اختلاف ہو تو اسے قریش کی زبان کے مطابق لکھیں، کیونکہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا تھا۔ پھر ان مصاحف کی نقول مختلف اسلامی علاقوں میں بھیجی گئیں۔

حضرت عثمانؓ نے قرآن کی نئی ترتیب نہیں بنائی

یہاں ایک بہت اہم غلط فہمی ختم ہوتی ہے۔ حضرت عثمانؓ کا کام یہ نہیں تھا کہ انہوں نے بیٹھ کر فیصلہ کیا: “فاتحہ پہلے ہوگی، بقرہ دوسرے نمبر پر ہوگی، آل عمران تیسرے نمبر پر ہوگی۔۔۔” صحیح بخاری کی روایت کا مرکزی موضوع *موجود محفوظ صحیفوں سے مصاحف تیار کرنا اور قراءت کے اختلاف کو ختم کرنا* ہے۔ اسی لیے حضرت عثمانؓ کو “قرآن ترتیب دینے والا” کہنا درست تعبیر نہیں۔

زیادہ صحیح تعبیر یہ ہے: *حضرت عثمانؓ نے موجود قرآن کے معیاری مصاحف تیار کروا کر امت کو ایک متفقہ مصحفی صورت پر جمع کیا۔*

تو موجودہ سورتوں کی ترتیب کس نے بنائی؟

اب ہم اس سوال کے سب سے نازک مقام پر پہنچتے ہیں۔ یہاں *آیات کی ترتیب* اور *سورتوں کی ترتیب* کو پھر الگ کرنا ہوگا۔

آیات کی ترتیب

علماءِ علومِ قرآن کے ہاں یہ مسئلہ بہت مضبوط ہے کہ آیات اپنی سورتوں میں توقیفی ترتیب سے ہیں۔

سورتوں کی ترتیب

یہاں قدیم علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ امام سیوطی نے *الاتقان فی علوم القرآن* میں واضح طور پر یہ اختلاف نقل کیا ہے کہ سورتوں کی ترتیب بھی توقیفی تھی یا صحابۂ کرامؓ کے اجتہاد سے مرتب ہوئی۔ ایک قول کے مطابق سورتوں کی ترتیب میں صحابہؓ کا کردار تھا، جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ پوری ترتیب بھی توقیفی تھی۔ لہٰذا علمی طور پر ہمیں دو باتوں کو الگ رکھنا چاہیے: *آیات کی ترتیب — نہایت مضبوط طور پر توقیفی۔* *تمام سورتوں کی موجودہ ترتیب — اس کے توقیفی ہونے میں علماء کا اختلاف۔*

کیا اس اختلاف کا مطلب ہے کہ قرآن کی موجودہ ترتیب مشکوک ہے؟

ہرگز نہیں۔ یہاں “ترتیبِ سورت” اور “قرآن کے محفوظ ہونے” کو ایک مسئلہ سمجھ لینا غلط ہوگا۔ اگر کوئی عالم سورتوں کی ترتیب کے بارے میں اجتہاد کا قول اختیار کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ قرآن کا متن انسانی اجتہاد سے بنا۔ قرآن کا متن اپنی جگہ محفوظ ہے۔ آیات اپنی سورتوں میں موجود ہیں۔ صحابہؓ نے قرآن کو رسول اللہ ﷺ سے حاصل کیا۔ پھر اسے نسل در نسل منتقل کیا گیا۔ اور حضرت عثمانؓ نے امت کے درمیان مصاحف کو معیاری شکل میں پھیلایا۔ لہٰذا *سورتوں کی ترتیب کے بارے میں علمی اختلاف، قرآن کے متن کی حفاظت کے دعوے کو منہدم نہیں کرتا۔*

پھر فاتحہ پہلے کیوں؟

اب ہم اس سوال کی طرف آتے ہیں جو ابتدا میں ہمارے سامنے تھا۔ *سورۂ فاتحہ نزول کی زمانی فہرست میں سب سے پہلے نہیں تھی، پھر قرآن کے آغاز میں کیوں ہے؟* سب سے پہلے یہ سمجھیں کہ فاتحہ قرآن کا دروازہ ہے۔ یہ محض ایک سورت نہیں جسے کتاب کے آغاز میں اتفاقاً رکھ دیا گیا ہو۔ اس میں: * اللہ کی حمد، * ربوبیت، * رحمت، * یومِ جزا، * عبادت، * استعانت، * اور سیدھے راستے کی دعا سب ایک مختصر مگر جامع صورت میں موجود ہیں۔ پوری کتاب کے طالبِ ہدایت کے لیے سب سے پہلی بنیادی دعا کیا ہے؟ *﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾* یعنی: اے اللہ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ اور پھر قرآن کا اگلا بڑا دروازہ کھلتا ہے: *﴿ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ﴾* یہ کتاب وہ ہے جس میں کوئی شک نہیں، پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔ یہ معنوی ربط واقعی نہایت خوبصورت ہے: *فاتحہ میں بندہ ہدایت مانگتا ہے۔* *بقرہ میں ہدایت کی کتاب سامنے آ جاتی ہے۔*

لیکن یہاں بھی ایک احتیاط ضروری ہے:

ہم اس معنوی مناسبت کو *حکمت اور تدبر* کے طور پر بیان کریں، اسے ایسی صریح حدیث نہ بنائیں کہ “اللہ نے حدیث میں فرمایا کہ فاتحہ اس لیے پہلے رکھی گئی کیونکہ بقرہ اس کی دعا کا جواب ہے۔” یہ تفسیری تدبر ہے، صریح حدیث نہیں۔

پھر بقرہ دوسری کیوں؟

یہ سوال بھی بڑا دلچسپ ہے۔ اگر نزول کی ترتیب دیکھی جائے تو بقرہ قرآن کی دوسری سورت نہیں۔ لیکن موجودہ مصحف میں فاتحہ کے فوراً بعد بقرہ آتی ہے۔ اور سورۂ بقرہ میں قرآن کے ایک بڑے مرکزی مقصد کا عملی نقشہ سامنے آتا ہے: *ہدایت، ایمان، عبادت، قانون، معاشرت، خاندان، تجارت، جہاد، تقویٰ، بنی اسرائیل کی تاریخ، آدمؑ کا واقعہ، قبلہ، روزہ، حج، نکاح، طلاق، قرض اور اجتماعی زندگی۔* یعنی فاتحہ میں: “ہمیں راستہ دکھا” اور بقرہ میں: “یہ راستہ ہے؛ اب اس پر چلو۔” یہ قرآن کی ترتیب میں ایک گہرا تدبری ربط محسوس ہوتا ہے۔ لیکن پھر وہی اصول: *تدبر کو حدیث کا درجہ نہیں دینا چاہیے۔*

پھر علق چھیانوے نمبر پر کیوں؟

یہاں ایک بہت خوبصورت حقیقت سامنے آتی ہے۔ سورۂ علق کی ابتدائی آیات نے انسان کو پہلی وحی میں علم، رب، تخلیق اور قراءت کی طرف متوجہ کیا: *﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾* لیکن قرآن کا موجودہ مصحف وحی کی ابتدائی تاریخ نہیں، بلکہ مکمل قرآن کی *مصحفی ساخت* ہے۔ لہٰذا علق کا نمبر چھیانوے ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ قرآن کی ترتیب غلط ہے۔ یہ صرف اس بات کی دلیل ہے کہ: *مصحف ترتیبِ نزول کی تاریخی ڈائری نہیں ہے۔*

اور سورۂ نصر آخر میں کیوں نہیں؟

یہ سوال شاید سب سے زیادہ دلچسپ ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباسؓ نے سورۂ نصر کو قرآن کی وہ سورت بتایا جو *مکمل سورت کی حیثیت سے آخری نازل ہوئی*۔ لیکن موجودہ قرآن میں اس کے بعد تین سورتیں موجود ہیں: * سورۂ مسد * سورۂ اخلاص * سورۂ فلق * سورۂ ناس یعنی نصر نمبر ۱۱۰ ہے، ۱۱۴ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ: *آخری نازل ہونے والی سورت ہونا اور مصحف میں آخری سورت ہونا دو مختلف تصورات ہیں۔* اور یہی ہمارے پورے سوال کا بنیادی جواب ہے۔

قرآن ایک تاریخی ڈائری نہیں

اگر قرآن کو صرف تاریخی ترتیب میں رکھا جاتا تو ہمیں ایک ایسا قرآن ملتا جس میں پہلی وحی سے آخری وحی تک واقعات کی زمانی لکیر دکھائی دیتی۔ لیکن قرآن کا مقصد محض یہ بتانا نہیں کہ: “یہ آیت پہلے آئی، یہ دوسری، یہ تیسری۔” قرآن کا مقصد انسان کو ہدایت دینا ہے۔ اسی لیے قرآن کا موجودہ مصحف *تاریخِ نزول سے زیادہ تلاوت، تعلیم، عبادت اور ہدایت کی کتابی ساخت* رکھتا ہے۔ یہاں سے قرآن کی ایک عظیم خصوصیت سامنے آتی ہے: *قرآن اپنے نزولی سفر کو مصحفی صورت میں ایک دائمی کتاب میں بدل دیتا ہے۔* نزول وقت کے ساتھ ہوا۔ مصحف قیامت تک کے لیے ہے۔

ایک اور نہایت اہم بات: ناسخ و منسوخ بھی ترتیبِ نزول سے نہیں لکھا گیا

یہاں قرآن کی حکمت مزید واضح ہوتی ہے۔ کبھی ایک حکم پہلے نازل ہوا اور بعد میں دوسرا حکم آیا۔ لیکن قرآن نے یہ اصول اختیار نہیں کیا کہ: “پہلے نازل ہونے والی آیت پہلے لکھو، بعد میں نازل ہونے والی بعد میں۔” حضرت عثمانؓ کی مذکورہ روایت میں خود ایک ایسی آیت کا ذکر آتا ہے جس کے بارے میں ابن زبیرؓ نے کہا کہ دوسرے حکم نے اسے منسوخ کر دیا، مگر حضرت عثمانؓ نے اسے اس کی جگہ سے ہٹانے سے انکار کیا۔ اس سے ہمیں ایک بنیادی اصول ملتا ہے: *نزولی تقدم، مصحفی تقدم نہیں ہوتا۔* جو چیز پہلے نازل ہوئی، ضروری نہیں کہ وہ مصحف میں پہلے آئے۔ اور جو چیز بعد میں نازل ہوئی، ضروری نہیں کہ وہ مصحف میں بعد میں آئے۔

پھر جبرئیلؑ، ابوبکرؓ اور عثمانؓ کے کردار کو ایک ساتھ کیسے سمجھیں؟

اب پوری تصویر سامنے رکھیں۔

جبرئیل علیہ السلام

ان کا تعلق *وحی کے نزول اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قرآن کے دور* سے ہے۔ خصوصاً آخری سال دو مرتبہ قرآن کا دور ہونا صحیح حدیث سے ثابت ہے۔

رسول اللہ ﷺ

آپ ﷺ نے قرآن امت کو سنایا، سکھایا، حفظ کروایا، لکھوایا اور آیات کے مقامات واضح کیے۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ

ان کے دور میں قرآن کے پہلے سے محفوظ مواد کو ایک جامع صحیفاتی مجموعے میں جمع کیا گیا، خصوصاً جنگِ یمامہ کے بعد حفاظ کی شہادت کے پس منظر میں۔

حضرت عمرؓ

انہوں نے قرآن کو جمع کرنے کی ضرورت پر حضرت ابوبکرؓ کو متوجہ کیا اور اس اہم منصوبے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

حضرت زید بن ثابتؓ

انہوں نے جمعِ قرآن کی عملی ذمہ داری ادا کی اور مختلف محفوظ ذرائع سے قرآن کو جمع کیا۔

حضرت عثمانؓ

انہوں نے بعد کے دور میں امت کے قراءتی اختلاف کو روکنے کے لیے محفوظ صحیفوں سے معیاری مصاحف تیار کروائے اور انہیں مختلف علاقوں میں بھیجا۔

یہ چاروں مراحل ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک مسلسل حفاظتی سلسلے کے اجزا ہیں۔

ایک غلط فہمی: “حضرت عثمانؓ نے مختلف قرآنوں میں سے ایک قرآن منتخب کیا”

یہ تعبیر بھی درست نہیں۔ صحیح بخاری کی روایت کو دیکھیں تو حضرت عثمانؓ نے حضرت حفصہؓ کے پاس موجود صحیفے منگوائے، جو حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں جمع کیے گئے تھے، اور انہی سے مصاحف تیار کروائے۔ اس لیے زیادہ درست بات یہ ہے کہ: *حضرت عثمانؓ نے امت میں موجود قراءتی اختلاف کے پس منظر میں ایک مستند مصحفی معیار قائم کیا۔* انہوں نے کوئی نیا قرآن تخلیق نہیں کیا۔

ایک اور اہم سوال: کیا جبرئیلؑ نے موجودہ سورتوں کی ترتیب بتائی تھی؟

یہاں ہماری زبان بہت محتاط ہونی چاہیے۔ ہمیں صحیح حدیث سے یہ معلوم ہے کہ: *جبرئیلؑ قرآن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہر سال دہراتے تھے، اور آخری سال دو مرتبہ دہرایا۔* ہمیں علومِ قرآن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ: *آیات کی اپنی سورتوں میں ترتیب کو علماء نے توقیفی قرار دیا ہے۔*

لیکن:

*تمام ایک سو چودہ سورتوں کی موجودہ ترتیب کے بارے میں کوئی ایسی صریح صحیح حدیث پیش نہیں کی جا سکتی جس میں کہا گیا ہو کہ جبرئیلؑ نے آخری دور میں یہی موجودہ ترتیب ایک ایک سورت کے نمبر کے ساتھ مقرر فرمائی۔* اسی لیے علمی مضمون میں ہمیں یہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ کہنا چاہیے: *آخری دورِ قرآن اس بات کی نہایت اہم شہادت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قرآن کا نزولی سلسلہ مکمل ہو چکا تھا اور جبرئیلؑ کے ساتھ قرآن کی مراجعت باقاعدہ جاری تھی؛ البتہ موجودہ سورتوں کی مکمل ترتیب کے توقیفی ہونے کے مسئلے میں قدیم علماء کے درمیان اختلاف موجود ہے۔*

کیا سورتوں کی ترتیب میں صحابہؓ کا کوئی کردار تھا؟

یہ وہ مقام ہے جہاں بعض لوگ دو انتہاؤں میں چلے جاتے ہیں۔ ایک طرف کہا جاتا ہے: “ہر سورت کا موجودہ نمبر جبرئیلؑ نے صریح حدیث میں مقرر کیا تھا۔” دوسری طرف کہا جاتا ہے: “صحابہؓ نے قرآن کو اپنی مرضی سے ترتیب دے دیا تھا۔” دونوں تعبیرات میں مسئلہ ہے۔ قدیم علماء نے اس موضوع میں اختلاف نقل کیا ہے۔ امام سیوطی نے *الاتقان* میں سورتوں کی ترتیب کے بارے میں دونوں اقوال ذکر کیے ہیں۔ ایک قول کے مطابق سورتوں کی ترتیب صحابہؓ کے اجتہاد سے تھی، جبکہ دوسرے موقف کے مطابق یہ بھی توقیفی تھی۔ لیکن اس اختلاف کو *قرآن کے متن کے بارے میں شک* نہیں بنانا چاہیے۔ یہ اختلاف “سورتوں کی ترتیب کی نوعیت” کے بارے میں ہے، نہ کہ “قرآن کے الفاظ کے محفوظ ہونے” کے بارے میں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ قرآن کو صرف “ترتیبِ نزول” سے پڑھنا کافی نہیں

اگر ہم قرآن کو صرف تاریخی ترتیب میں دیکھیں تو ہم یہ دیکھیں گے: مکہ میں یہ آیا۔ پھر یہ آیا۔ پھر ہجرت ہوئی۔ پھر یہ حکم آیا۔ پھر بدر ہوا۔ پھر احد ہوا۔ پھر احزاب آئے۔ پھر فتح مکہ ہوئی۔ پھر آخری دور آیا۔ یہ قرآن کے تاریخی سفر کو سمجھنے میں مفید ہے۔ لیکن قرآن کا مصحف ہمیں ایک اور چیز دیتا ہے: *ہدایت کا غیر زمانی، دائمی خطاب۔* آج ایک مسلمان جب سورۂ فاتحہ پڑھتا ہے تو وہ یہ نہیں سوچتا کہ یہ فلاں سال نازل ہوئی تھی۔ وہ کہتا ہے: *﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾* اور پھر قرآن اس کے سامنے کھل جاتا ہے۔ گویا بندہ دروازے پر کھڑا ہو کر کہتا ہے: *یا اللہ! راستہ دکھا۔* اور کتاب جواب دیتی ہے: *﴿ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ﴾* یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے۔ یہ معنوی ربط یقیناً تدبر کا ایک نہایت خوبصورت پہلو ہے۔

لیکن ایک علمی احتیاط پھر بھی ضروری ہے

قرآن کی ترتیب میں حکمتیں تلاش کرنا بہت خوبصورت کام ہے۔ مگر ہر خوبصورت مناسبت کو “اللہ نے اسی وجہ سے یہ ترتیب بنائی” کہنا درست نہیں جب اس کی صریح دلیل موجود نہ ہو۔ مثلاً یہ کہنا: “فاتحہ پہلے اس لیے ہے کہ وہ بقرہ کا سوال ہے اور بقرہ اس کا جواب ہے” ایک خوبصورت تدبری نکتہ ہے۔ لیکن اسے حدیث کہنا درست نہیں۔ اسی طرح یہ کہنا کہ: “سورۂ نصر کو آخری ہونے کے باوجود ۱۱۰ نمبر پر اس لیے رکھا گیا تاکہ اس کے بعد اخلاص، فلق اور ناس آ کر دین کے اختتام کو مکمل کریں” یہ ایک ممکنہ تدبری مطالعہ ہو سکتا ہے، مگر اسے قطعی شرعی وجہ قرار دینے کے لیے دلیل درکار ہوگی۔ *قرآن کے ساتھ محبت ہمیں تدبر کا حق دیتی ہے؛ علمی امانت ہمیں اپنے تدبر کو وحی کا درجہ دینے سے روکتی ہے۔*

قرآن کی موجودہ ترتیب ہمیں کیا سکھاتی ہے؟

شاید اس پورے موضوع کا سب سے خوبصورت سبق یہی ہے: ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ ہر چیز کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کی زمانی ترتیب معلوم ہونی چاہیے۔ لیکن قرآن ہمیں دکھاتا ہے کہ *نزول کی تاریخ ایک چیز ہے اور ہدایت کی ترتیب دوسری۔* وحی وقت کے اندر نازل ہوئی۔ مگر قرآن وقت سے اوپر اٹھ کر قیامت تک کے انسان سے خطاب کرتا ہے۔ اس لیے: *مکہ اور مدینہ کی تاریخ ایک چیز ہے۔* *مصحف کی ہدایت دوسری چیز ہے۔* *نزول کا سفر ایک چیز ہے۔* *تلاوت کا سفر دوسری چیز ہے۔* اور دونوں کو الگ سمجھنا قرآن کے نظام کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔

ایک نظر میں پورا سفر

اگر اس پوری تحقیق کو چند مرحلوں میں سمیٹیں تو تصویر یوں بنتی ہے:

۱۔ غارِ حرا

وحی کا آغاز ہوا اور سورۂ علق کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔

۲۔ تقریباً تئیس سال کا نزولی سفر

قرآن حالات اور واقعات کے مطابق بتدریج نازل ہوتا رہا۔

۳۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں حفظ، تلاوت اور کتابت

قرآن امت میں محفوظ اور لکھا جاتا رہا۔

۴۔ آیات کی ترتیب

آیات اپنی سورتوں میں مقررہ مقامات پر رکھی گئیں؛ علماء نے اس ترتیب کو توقیفی قرار دیا ہے۔

۵۔ آخری سال

جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قرآن کا دور دو مرتبہ کیا۔

۶۔ رسول اللہ ﷺ کا وصال

قرآن کا نزول مکمل ہوا۔

۷۔ حضرت ابوبکرؓ کا زمانہ

جنگِ یمامہ کے بعد قرآن کو ایک جامع صحیفاتی مجموعے میں جمع کیا گیا۔

۸۔ صحیفے حضرت عمرؓ اور پھر حضرت حفصہؓ کے پاس رہے۔

۹۔ حضرت عثمانؓ کا زمانہ

قراءت کے اختلاف کے خطرے کے پیش نظر انہی محفوظ صحیفوں سے معیاری مصاحف تیار کیے گئے۔

۱۰۔ موجودہ مصحف

امت کے درمیان وہی مصحفی روایت جاری رہی جس میں قرآن آج ہمارے سامنے موجود ہے۔

تو کیا آج ہمارے ہاتھ میں موجود قرآن معتبر ہے؟

اس پورے تاریخی سلسلے کو دیکھنے کے بعد اصل جواب بہت واضح ہے: *ہاں، موجودہ مصحف قرآن ہی کا وہی محفوظ متن ہے جسے امت نے رسول اللہ ﷺ سے حاصل کیا اور نسل در نسل منتقل کیا۔* حضرت ابوبکرؓ کا جمع کرنا کسی نئے متن کی تخلیق نہیں تھا۔ حضرت عثمانؓ کا کام کوئی نیا قرآن بنانا نہیں تھا۔ اور جبرئیل علیہ السلام کا آخری دور اس نبوی دور کی آخری مراجعت کا ایک نہایت اہم حصہ تھا۔ البتہ ایک علمی فرق ہمیشہ قائم رکھنا چاہیے: *آیات کی ترتیب کے توقیفی ہونے کا مسئلہ انتہائی مضبوط ہے؛ سورتوں کی مکمل موجودہ ترتیب کے توقیفی ہونے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے۔* یہ اختلاف قرآن کے متن کی حفاظت کے مسئلے کو متزلزل نہیں کرتا۔

اور شاید سب سے خوبصورت بات آخر میں

قرآن کی پہلی وحی ہمیں کہتی ہے: *﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾* پڑھو، اپنے رب کے نام سے۔ اور قرآن کی موجودہ تلاوت کا آغاز ہوتا ہے: *﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾* سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ پھر بندہ کہتا ہے: *﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾* اے ہمارے رب! ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ اور فوراً سامنے آتا ہے: *﴿ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ﴾* یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے۔ نزول کا آغاز “پڑھو” سے ہوا۔ مصحف کا آغاز “الحمدللہ” سے ہوا۔ اور انسان کی طلب کو قرآن نے ایک دعا میں سمیٹ دیا: “ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔” یہی قرآن کا کمال ہے۔ وہ محض آسمان سے اترنے والی آیات کا تاریخی سلسلہ نہیں؛ وہ ایک ایسی محفوظ کتاب ہے جو ہر زمانے کے انسان کو اسی طرح مخاطب کرتی ہے جیسے پہلی بار اسے پڑھنے والے انسان کو کرتی تھی۔

آخری علمی نتیجہ

اس پورے موضوع کو ایک جملے میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے: *قرآن ترتیبِ نزول کے مطابق مرتب شدہ کتاب نہیں، بلکہ وحی کے نزولی سفر کے مکمل ہونے کے بعد محفوظ مصحفی ترتیب میں امت تک پہنچنے والی کتاب ہے؛ اس کی آیات کی ترتیب نبوی ہدایت سے مضبوط طور پر ثابت ہے، آخری سال جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ دو مرتبہ قرآن کا دور صحیح حدیث سے ثابت ہے، حضرت ابوبکرؓ نے محفوظ قرآن کو جامع صحیفوں میں جمع کیا، حضرت عثمانؓ نے انہی محفوظ صحیفوں سے معیاری مصاحف تیار کروا کر امت کو قراءتی اختلاف سے بچایا، جبکہ تمام سورتوں کی موجودہ ترتیب کے توقیفی ہونے کے بارے میں قدیم علماء کے درمیان اختلاف موجود ہے۔* اور یہی علمی احتیاط ہمیں ایک خوبصورت اصول سکھاتی ہے:

*جہاں نص موجود ہو وہاں نص کو بولنے دیں؛ جہاں علماء کا اختلاف ہو وہاں اختلاف کو باقی رکھیں؛ اور جہاں صرف تدبر ہو وہاں تدبر کو وحی کا درجہ نہ دیں۔* یہی قرآن کے ساتھ علمی امانت ہے۔

Loading